کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء

کراچی کی سالانہ اہم سرگرمیوں میں سے ایک "کراچی بین الاقوامی کتب میلہ 2009ء" پانچ دن تک اپنی رونقیں جمائے رکھنے کے بعد پیر 14 دسمبر کو اختتام کو پہنچا۔ یہ کراچی کے ادبی حلقوں اور کتب کے شائقین کے لیے ایک سالانہ اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے حجم کے اعتبار سے یہ گزشتہ تمام سالوں سے زیادہ بڑا تھا۔ اس میلے میں کراچی والے جس ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں وہ کتاب کے ساتھ اُن کے لازوال رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔

کتب میلے میں بیرون ملک سے صرف ایران، سعودی عرب اور بھارت کے چند ناشرین نے شرکت کی۔ گزشتہ دو سالوں سے کتب میلے میں بیرون ممالک کے ناشرین کی شرکت انتہائی کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔

کتب میلے میں سب سے بڑا اسٹال لبرٹی بکس، پیراماؤنٹ پبلشنگ انٹرپرائز اور آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کا تھا، جنہوں نے اپنی کتب پر 10 سے 50 فیصد تک رعایت دے رکھی تھی۔ ان کے علاوہ ویلکم بک پورٹ، فضلی سنز، شیخ شوکت اینڈ سنز، دارالسلام، فیروز سنز، جہانگیر بکس، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اقبال اکادمی، دعوۃ اکیڈمی، چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈز، ادارۂ معارف اسلامی اور دیگر کئی ناشران کتب کے اسٹال شائقین و حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ ان کے علاوہ سندھیکا اکیڈمی نے پہلی مرتبہ سندھی کی کتب کا اسٹال لگایا۔ علاوہ ازیں کراچی اسکول آف آرٹس کی آرٹ گیلری بھی حاضرین کے لیے کشش کا باعث بنی رہی۔ ہال نمبر 1 میں ایک ایکٹیویٹی سینٹر بھی موجود تھا جہاں بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کے لیے مختلف پروگرامات منعقد کیے گئے۔ کتب کی تقاریب رونمائی اور پذیرائی بھی یہیں منعقد کی گئیں۔ اسی ہال میں بچوں کے ادب اور ڈیجیٹل کتب کے حوالے سے کئی اسٹال موجود تھے جن میں لائٹ ہاؤس کا ای-میگزین اور ٹریو وژن کی بچوں کے لیے سی ڈیز اور ڈیجیٹل سفرنامے بھی شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔

اِس مرتبہ میرا اہل خانہ کے ہمراہ کتب میلے میں جانے کا پروگرام بنا اور میلے کے تیسرے روز سہ پہر سے رات گئے تک کا وقت وہیں گزرا۔ اگلا روز یعنی اتوار بھی کتب میلے میں دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ گزرا یوں چھٹی کے دونوں ایام کتابوں کی قربت و رفاقت میں گزرے۔

کتب میلے میں جو کتابیں خریدیں، ان کی فہرست یہ ہے (بلحاظ حروف تہجی):

  • اسباب زوال امت، علامہ شکیب ارسلان
  • اسلام اور سیکولر ازم، خالد نذیر
  • اسلام اور عالمگیریت، ڈاکٹر خالد علوی
  • اسلام سے وابستگی کے تقاضے، ڈاکٹر فتحی یکن
  • اسلام کی دس امتیازی خصوصیات، علامہ سید رشید رضا مصری
  • اقبال اور مسلم تشخص، ڈاکٹر خالد علوی
  • آکسفرڈ اٹلس فار پاکستان، ایڈیشن 2008ء
  • بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، ڈاکٹر ام کلثوم
  • تنقیحات، سید ابو الاعلی مودودی
  • ثقافت کا اسلامی تصور، ڈاکٹر خالد علوی
  • مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ، ڈاکٹر احسان حقی
  • نظریہ پاکستان، ڈاکٹر خالد علوی

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

14 تبصرے

  1. پڑھ کر اچھا لگا. عرصہ بیتا ہمیں کسی کتاب میلے میں گئے ہوئے. ہر سال ماہ جنوری میں حیدرآباد کی صنعتی نمائش میں اردو کتابوں کا اسٹال لگتا تھا تو جایا کرتے تھے. پھر ہر دو سال میں کتب میلہ بھی علیحدہ سے لگا کرتا تھا. اب تو جنوری میں بھی وطن جانا نہیں ہوتا.
    بھارت کے کون سے ناشرین کراچی کتاب میلہ میں شریک ہوئے تھے ؟

  2. نعمان says:

    مجھے ہر سال وہاں جاکر بہت خوشی ہوتی ہے۔ گرچہ رعایت اتنی زیادہ نہیں ہوتی مگر اتنی ساری کتابیں اور کتابوں کے شوقین، مصنفین اور پبشرز سے مل کر بہت اچھا لگتا ہے۔

    • ٹھیک کہہ رہے ہیں نعمان۔ ویلکم بک پورٹ کے اسٹال پر جب انہوں نے ایک کتاب پر 20 فیصد رعایت دی تو میں نے کہا کہ 35 فیصد رعایت تو میں آپ کی دکان سے لے لیتا ہوں۔ البتہ لبرٹی اور آکسفرڈ پر اچھی رعایت ملتی ہے چاہے وہ 20 سے 30 فیصد ہی کیوں نہ ہو۔ عام دنوں میں ان دونوں پر رعایتیں کم ہی ہوتی ہیں۔

  3. واہ ماشاءاللہ.. ایسے ہی کئی پروگرامز کی ضرورت ہے شہر میں بلکہ دوسرے شہروں میں بھی.. کتب کی فہرست لاجواب ہے امید ہے مطالعہ کا نچوڑ بلاگ پر پوسٹ کرتے رہیں گے..

    • ضرور راشد بھائی۔ فی الحال تو آکسفرڈ کی شاندار پاکستان اٹلس دیکھ رہا ہوں۔ پاکستان کے اتنے زبردست نقشے آج تک نہیں دیکھے۔

  4. ابو شامل ،
    ان میں سے چار پانچ کتابیں میرے لیے چھانٹ کر الگ کر لینا پڑھ کر۔

  5. عبداللہ says:

    جی جناب ہم بھی گئے تھے اس کوچہ کی خاک چھاننے مگر آخری دن اور کتب میلے کے اختتام سے صرف دو گھنٹے قبل!
    یہ میلہ اب کراچی لیروایات میں شامل ہوتا جارہا ہے یہ بات خوشی کا باعث ہے نیٹ کے دور مین بھی لوگ کتابوں کی قدر و قیمت نہیں بھولے الحمدللہ،

    • جی ہاں، اب تو یہ کراچی کا سالانہ مستقل ایونٹ بن چکا ہے۔ وہاں جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی والے کتب کے کتنے دلدادہ ہیں اور مطالعے کا شوق ابھی زوال کو نہیں پہنچا۔ جنگ کے مطابق اس میں 3 لاکھ شہریوں نے شرکت کی۔ اتنے بڑے پیمانے پر شہریوں کی آمد ثابت کرتی ہے کہ مطالعے کا شوق ابھی زندہ ہے۔

  6. عبداللہ says:

    کراچی کی روایات

  7. حجاب says:

    اس بار مجھے خبر ہی نہیں ہوئی کتب میلہ ختم بھی ہو گیا بہت افسوس ہے مجھے ۔۔

  8. امیر حمزہ says:

    بھائی کراچی میں اب بھی کہیں میلہ لگتا ہے؟ ؟ کتب کا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.