Mummy awaits return

ایک رپورٹ کے مطابق دو ممالک کے درمیان سفارتی تنازع کا باعث بننے والی “ممی” ابھی تک تدفین سے محروم ہے۔ اکتوبر 2000ء میں کراچی پولیس کو ایک مقدمے کی تفتیش کے دوران ایک ایسی ممی ملی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کی ایرانی تہذیب سے تعلق رکھتی ہے جس پر ایران نے اپنا دعویٰ کیا لیکن بعد ازاں تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ممی جعلی ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ممی سرخ فیتے کے باعث اپنی “آخری رسومات” سے محروم ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق مردہ خانے میں تین دن کے اخراجات 500 روپے ہوتے ہیں جبکہ اس لاش کو سات سال گذر چکے ہیں۔ (تو اخراجات کا اندازہ لگا لیں)
واضح رہے کہ قدیم سامان کے اسمگلروں نے ایک خاتون کی لاش کی ممی بنا دیا تھا جسے آثار قدیمہ کی ایک عظیم دریافت قرار دیا گیا تھا۔ یہ اس وقت پاکستان کی اہم ترین خبروں میں سے ایک بن گئی تھی اور غیر ملکی صحافیوں کی بڑی تعداد بھی اس “عظیم تاریخی دریافت” کی کوریج کے لیے پاکستان پہنچی۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ایران نے بھی اس ممی کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ بعد ازاں ماہرین کی زیر نگرانی ایک ٹیم نے اس ممی کا معائنہ کرنے کے بعد اسے جعلی قرار دیا اور رپورٹ کے مطابق یہ 96ء یا 97ء میں انتقال کر جانے والی ادھیڑ عمر خاتون کی لاش ہے جس کی موت کی وجہ گردن کی ہڈی ٹوٹنا بتایا گیا۔ پاکستان میں اس ممی پر تحقیق کرنے والوں میں معروف محقق و ماہر آثار قدیمہ احمد حسن دانی بھی شامل تھے۔
پاکستان میں جہاں انسانی حقوق اور نسوانی حقوق کا ڈھنڈورا بہت زیادہ پیٹا جاتا ہے وہاں کوئی اس “ممی” کے آخری حق کے لیے بھی آواز اٹھائے؟ آخر کو وہ بھی انسان اور خاتون تھی۔ خیر یہاں تو زندوں کی کوئی سننے والا نہیں ہے بلکہ ان کی بھی “ممیاں” بنا دی گئیں تو ان مردوں کو کون پوچھتا ہے بلکہ کئی بلاگرز تو اعتراض بھی کریں گے کہ یہاں انسانیت کے خلاف جتنا ظلم کیا جا رہا ہے اس صورتحال میں آپ کو 11-12 سال قدیم ایک لاش کی پڑی ہے۔
بہرحال موضوع میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کچھ تفصیلات یہاں بھی موجود ہیں:
فارسی شہزادی

Google Buzz

ٹیگز: ، ، ، ، ،

تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے