نظام اسلامی کے قیام کی صحیح ترتیب

پاکستان بلکہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے ہمیشہ دو رائے رہی ہیں۔ ایک رائے اصطلاحی زبان میں زمام کار کو ہاتھ میں لے کر اوپر سے پورے نظام کو درست کرنے کے حق میں ہے تو دوسری کے مطابق معاشرے کی اس طرح اصلاح کی جائے کہ وہ خود سے معاشرے میں تبدیلی کے لیے آمادۂ کار ہو جائے یا پھر اگر کبھی اوپر سے بھی تبدیلی آئے تو اس کے لیے تیار ہو۔ پاکستان میں اول الذکر خط پر جماعت اسلامی کام کر رہی ہے جبکہ موخر الذکر پر گزشتہ دو صدیوں سے تبلیغی جماعت عمل پیرا ہے۔ لیکن یہ سوال کئی ذہنوں میں کلبلاتا ہے کہ آخر نظام اسلامی کے قیام کی درست ترتیب کیا ہے۔ اس حوالے سے سید ابو الاعلیٰ مودودی نے ترجمان القرآن کی ستمبر 1948ء کی اشاعت میں ایک سوال کا بہت دلچسپ انداز میں جواب دیا تھا۔ اس میں نہ صرف مختصراً ان دونوں رائے کے بارے میں بتایا گیا ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہم پہلے طریقے میں ناکام رہے تو پھر ہم دوسرا طریقہ اپنائیں گے۔ کیا جماعت اسلامی، جو سیاست کے میدان میں اب کافی اندر تک داخل ہو چکی ہے، فیصلہ کرنے کا اتنا دم خم رکھتی ہے کہ وہ دوسرے طریقے کو اپنانے پر غور کرے اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا واقعی "دوسرا طریقہ" آزمانے کا وقت آ چکا ہے؟ یہ سوال تو سید صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ابھرا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

آئیے وہ سوال اور پھر سید مودودی صاحب کا جواب دیکھیں:

سوال: جن لوگوں سے پاکستان کے آئندہ نظام کے متعلق گفتگو ہوتی ہے وہ اکثر اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ آپ اور دوسرے اہل علم اسلامی حکومت کا ایک دستور کیوں نہیں مرتب کرتے تاکہ اسے آئین ساز اسمبلی میں پیش کر کے منظور کرایا جائے۔ اس سوال سے صرف مجھ کو ہی نہیں دوسرے کارکنوں کو بھی اکثر و بیشتر سابقہ پیش آتا ہے۔ گو کہ ہم اپنی حد تک لوگوں کو بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ضرورت ہے کہ آپ اس سوال کا جواب ترجمان القرآن میں دیں تاکہ وہ بہت سی غلط فہمیاں صاف ہو سکیں جن پر یہ سوال مبنی ہے۔

جواب: آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا مفصل جواب تو سردست نہیں جا سکتا، لیکن مختصر طور پر میں ایک بات عرض کروں گا جس سے امید ہے کہ آپ معاملے کی اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔

ہم یہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں کہ جہاں نہ معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی ہو نہ اخلاق اسلامی، جہاں کا سیاسی و معاشی اور تعلیمی نظام بھی اب تک غیر اسلامی خطوط پر ترقی کرتا رہا ہو، اور جہاں ایک مجرد سیاسی تحریک کی بدولت ایک آزاد ریاست بننے کی نوبت آ گئی ہو، وہاں اسلامی نظام کا قیام صرف اتنی سی بات پر اٹکا ہوا ہو کہ ہم ایک دستور مرتب کر کے پیش کریں اور برسر اقتدار لوگ اسے لے کر نافذ کر دیں۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ گمان کرے کہ ایک مدرسے یا ایک بینک کو ہسپتال بنا دینے میں بس اتنی کسر ہے کہ چند ڈاکٹر مل کر ایک اچھے ہسپتال کا خاکہ مرتب کر دیں اور وہ مدرسے کے معلمین یا بینک کے اسٹاف کو دے دیا جائے تاکہ وہ اسے دیکھ دیکھ کر سارا کام کرتے چلے جائیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اچھے خاصے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس سادگی کے ساتھ سوچ رہے ہیں ۔ شاید دستور کو انہوں نے کوئی تعویذ سمجھا ہے۔

واضح طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ یہاں اسلامی نظام کا قیام صرف دو طریقوں سے ممکن ہے:

ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس وقت زمام کار ہے وہ اسلام کے معاملے میں اتنے مخلص اور ان وعدوں کے بارے میں جو انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہو اسے خود محسوس کر لیں اور ایمانداری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہوں۔ اس صورت میں معقول طریق کار یہ ہے کہ پہلے ہماری دستور ساز اسمبلی ان بنیادی امور کا اعلان کرے جو ایک غیر اسلامی نظام کو اسلامی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصولاً ضروری ہیں، جنہیں ہم نے اپنے "مطالبہ" میں بیان کر دیا ہے، پھر وہ اسلام کا علم رکھنے والے لوگوں کو دستور سازی کے کام میں شریک کرے اور ان کی مدد سے ایک مناسب ترین دستور بنائے، پھر نئے انتخابات ہوں اور قوم کو موقع دیا جائے کہ وہ زمام کار سنبھالنے کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کرے جو اس کی نگاہ میں اسلامی نظام کی تعمیر کے لیے اہل ترین ہوں۔ اس طرح صحیح جمہوری طریق پر اختیارات اہل ہاتھوں میں بسہولت منتقل ہو جائیں گے اور وہ حکومت کی طاقت اور ذرائع سے کام لے کر پورے نظام زندگی کی تعمیرِ جدید اسلامی طرز پر کر سکیں گے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریک اصلاح کے ذریعے اس میں خالص اسلامی شعور و ارادہ کو بتدریج اس حد تک نشو و نما دیا جائے کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود بخود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آ جائے۔

ہم اس وقت پہلے طریقے کو آزما رہے ہیں۔ اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہماری قوم نے جو جدوجہد کی تھی وہ لاحاصل نہ تھی بلکہ اسی کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ایک سہل ترین اور قریب ترین راستہ ہمارے ہاتھ آ گیا۔ لیکن اگر خدانخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں ایک غیر اسلامی ریاست قائم کر دی گئی تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہوگا جو قیام پاکستان کی راہ میں انہوں نے کیں، اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسلامی نقطہ نظر سے اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔ اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقے پرکام شروع کر دیں گے، جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔

امید ہے کہ اس توضیح سے لوگ ہماری پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ جائیں گے۔ ہم کوئی کام وقت سے پہلے نہیں کرنا چاہتے۔ سر دست ہم نے اسلامی نظام کے بنیادی امور کو ایک مطالبے کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اگر اسے قبول کر لیا جائے تو دستور سازی کے کام میں جس حد تک ممکن ہوگا ہم پوری مدد کریں گے۔ لیکن اگر سرے سے یہ بنیادی امور ہی برسر اقتدار لوگوں کو منظور نہ ہوں تو پھر دستور کا خاکہ پیش کرنے سے آخر کیا فائدہ متصور ہے؟

اقتباس از ترجمان القرآن، ستمبر 1948ء

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. Ehtesham says:

    سیدی نہ یہ بات اس وقت کہی جب تنظیم اسلامی قائم نہیں ہوئی تھی ورنہ بعد میں ڈاکٹر اسرار تنظیم کے طریقہ کار کے بارے میں قرآن و سنّت سے یہ ثابت کرتے ہیں کے ان کا طریقہ کار عین سنّت ہے. ملاحظہ ہو فریضہ اقامت دین پے ڈاکٹر صاحب کی تقریر.
    میری نظر میں بھی تبلیغی جماعت تو کسی صورت اس بحث میں شامل ہی نہیں ہے. تنظیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ بھی آخری نکتے پے خروج کی بات کرتی ہیں . فی زمانہ عقل کو جمہوریت ہی بہتر طریقہ کار لگتا ہے. اصلاح کے ساتھ ساتھ اقتدار کو حاصل کرنا تا کے اپنے اہداف جلد حاصل ہوسکیں.
    دوسری بات یہ بھی ہے کے ناکامی اور کامیابی کا فیصلہ تو انتخابات میں شکست ک بعد ہی پتہ جب ہم مستقل اپنے پروگرام اور دعوت پے الیکشن لڑیں. ٧١ کے بعد ٢٠١٢ ہی وہ انتخاب ہے جہاں ہم اپنے قد پے کھڑے ہوں گے ہوسکتا ہے اب سے اگلے ٢/٣ انتخابات ہمیں اپنے فیصلہ پے نظرثانی پے مجبور کریں.

  2. ڈاکٹر ابن ریاض says:

    تحریک اسلامی کا لٹریچر پڑھنے کے بعد مجھے ایسا کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ یہ کسی ترتیب کی قائل ہے ، اس سوال و جواب سے یہ ثاتر ضرور ابھر رہا ہے اور پھر ہم معاشرے میں تحریک اسلامی کے کام کے رجحان کو دیکھیں اور یہ اور گہرا ہوتا ہے کہ سیاست ہماری دعوت پر حاوی ہو چکی ہے بلکہ پہلا طریقہ بن چکی ہے۔میںتبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کی دو تنظمیی اکائیوں کو اس بحث میں اس حد تک شامل رکھوں گا جس حد تک ان کے طریقہ کار پر ہونے والے کام کا حوالہ ضروری ہو۔۔۔ جبکہ معاشرے کو اسلامی نظام پر استوار کرنے میں دعوت اور سیاست کےدو مختلف طریقے مرکزی حیثیت کے حامل ہیں چند سطور میں اس منظر نامے کو کچھ واضع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
    ان دونوں طریقوں کو کسی ترتیب سے رکھنے میں ہی ناکامی ملتی ہے اور مل رہی ہے
    میرے پاس چند تبلیغی ساتھی تشریف لائے وہ صاحب میرے گھر سے کوئی لگ بھک 3000 کلومیٹر دوری سے آئے تھے اور مدعا حسب معمول دعوت دین کی محنت ، خیر انہوں نے گھنٹہ بھر اپنی بات سنائی اور مجھے کہنے لگے کہ آپ سہ روزہ کی نیت کر لیں۔۔۔ میں نے کہا آپ نے بات کر لی؟ اب صرف پانچ منٹ میری بات سنیں گے؟ اجازت کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ اور خلوص اللہ کے ہاں بہت زیادہ وزن رکھتا ہے آپ اتنی دور سے گھر بار چھوڑ کر ، بیوی بچوں سے جدا ہوکر اور اپنے کاروبار کو بند کر کے صرف اللہ کی رضا اور دعوت دین کے لیے میرے پاس حاضر ہوئے ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اکیسویں صدی میں اتنی سختیاں جھیلنے کے بجائے میرے گھر کے ایک ڈبے کو ہی سیدھا کر دیں اگر وہ ڈبہ اسلام کی اس دعوت کو سمجھ لے تو آپ کا کام آسان ہو سکتا ہے آپ میرے پاس ہفتوں اور مہینوں بعد آتے ہیں لیکن یہ ڈبہ میرے گھر میں چوبیس گھنٹے بولتا اور بہت کچھ دکھاتا رہتا ہے سوال یہ ہے کہ مسجد سےصرف پانچ مرتبہ اللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور یہ ڈبہ چوبیس گھنٹے مجھے شیطان کی طرف صرف بلاتا نہیں دھکیلتا رہتا ہے
    اس کا کوئی جواب ان کے پاس موجود نہیں تھا کیوں کہ اس کا حل صرف زمام کار کے حصول سے ہی ممکن ہے وہ یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ آپ کسی اور طرف نکل گئے ہیں کیونکہ انہیں نظام دین کے بجائے اپنی جنت کی فکر لاحق تھی اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ جنت کا حصول اقامت دین سے ہی منسلک ہے
    یہ محسوس ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا دعوتی نظام کوئی خاطر خواہ اسلامی معاشرہ قائم نہیں کر پایا یہی وجہ ہمارے ہاں بڑے بڑے تبلیغی و دعوتی تنظمیں بن چکی ہیں لاکھوں کے اجتماعات ہوتے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی پستی اور غیر اسلامی ہونے کی طرف پورے زور سے دوڑا چلا جا رہا ہے اگرچہ اس میں بہت سے دوسرے عوامل کی شامل ہیں لیکن کاش یہ لاکھوں افراد معاشرے میں اپنا کوئی وجود دکھا سکتے- اس سلسلے میں میرے دماغ میں بنگلہ دیش کی مثال سامنے آرہی ہے دنیا کو وہ ملک جہاں حج کے بعد عالم اسلام کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع ہوتا ہے لیکن اسلام کی حیثیت گھر کی لونڈی سے زیادہ نہیں رہی، وہاں بغیر کسی خوف و خطر کے اسلام اور شعار اسلام پر گند اچھالنے اور اپنی مرضی سے مڑوڑنےکی پوری آزادی حاصل ہے -
    اب دوسری طرف کا رخ کرتے ہیں سیاست کا کھیل یا اس میں مزید وسعت ڈالیں تو اقتدار کا کھیل کہہ سکتے ہیں اس میں دو قسم کے عناصر موجود ہیں ایک وہ جو خلافت کے نظام پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرا طبقہ جو جمہوریت کو ہی راستہ تصور کرتے ہیں، جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودی ؒ نے جمہوریت کی ہیت میں بنیادی تبدیلیاں کیئں اور جمہوریت کا ایک اسلامی ورژن "الہی جمہوریت" کانظریہ دیا اور اس راستے کو جماعت اسلامی نے اپنا لیا لیکن اپنے نظام کار میں دعوت کے حصے پر زیادہ توجہ نہیں دی اور اس سے دور ہوتے ہوتے کسی اور جگہ پہنچ چکی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ممکنہ نتائج حاصل نہیں کر پائی۔ صرف اقتدار کو اسلامی معاشرے کے قیام کا ذریعہ سمجھنا مولانا مودودیؒ کی فکر کا کبھی حاصل نہیں رہا اور اسی بنیاد پر میں کہوں گا کہ ان طریقوں میں کوئی ترتیب کارگر ثابت نہیں ہو سکتی یہ دونوں چیزیں بیک وقت ساتھ ساتھ چلتی اور ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں تو کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بھی ہو گا اور پائیدار بھی ہو گا حالیہ ادوار میں اس قسم کا تجربہ اخوان المسلمین کی صورت ہمیں نظر آتا ہے صفہ کی تربیت گاہ سے تیار ہونے والے تہجد گزار داعیوں نے اپنے اخلاق اور کردار سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں دعوت اگر رہی بھی ہے تو وہ بھی حصول ووٹ کے لیے تک ہی رہی ہے ( میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہماری دعوت ہم تک نہیں پہنچی، دوسروں تک پہنچنے کی بات بعد میں آتی ہے، مجھے سیاسی ناموں میں سید منور حسن ، پروفیسر خورشید ، حافظ ادریس کے سوا کوئی بھی نظریاتی طور پر مضبوط محسوس نہیں ہوتا)
    ان سب باتوں کو سمیٹتے ہوئے میں ان طریقوں کی ہر ترتیب بندی کو غلط سمجھتا ہوں ، تحریک اسلامی کو دونوں کے ساتھ انصاف کرنا ہو گا کسی ایک کے کمزور ہونے سے گویا پورا نظام ہی کمزور ہو جاتا ہے اور کسی پائیدار منزل کا حصول ممکن نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ پورے زور کے ساتھ دعوت اور ساتھ ہی پورے شور سے سیاست اس کا واحد حل ہے

  3. Ehtesham says:

    ڈاکٹر صاحب کی بات سے اتفاق ہے دعوت ہماری اصل ہے اقتدار کا حصول اس الہامی دعوت کے قیام کے لیے ناگزیر ہے.

  4. آپ سب اہل علم کو وہ واقعہ اچھی طرح علم ہوگا جب قریش کے سرکردہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعے تین پیش کشیں پہنچائیں.
    اولا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سرداری کے خوہش مند ہیں تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عرب کا سردار مان لیا جائے گا.

    دوم: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو عرب کی سب سے خوبصورت عورت سے شادی کرادی جائے گی.

    سوم: اگر مال و دولت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا مال و دولت فراہم کردیا جائے گا کہ کافی ہوگا.

    شرط یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نئے دین کی تبلیغ چھوڑ دیں.

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب بھی سب کو علم ہے.. " اگر میرے دائیں ہاتھ میں ... "

    اگر اقتدار حاصل کرنے سے اسلامی نظام کا قیام ممکن ہو سکتا تو کیا خیال ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع فراہم کیا گیا تو انھوں نے اس موقع سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟؟

    • ڈاکٹر ابن ریاض says:

      پیش کشن تو بیت اللہ میں ایک چبوترے کی بھی ہوئی تھی لیکن میں اس کی تفصیل سے پہلے آپ سے صرف ایک سوال کروں گا کہ صحرائے عرب میں اسلام اور کفار کی جو جنگ اور کش مکش رہی اس کی بنیادی وجہ کیا تھی؟

  5. کچھ عرصے سے مجھے یہ خیال ا رہا ہے کہ اسلامی نظام در حقیقت ایک نہایت سیکولر اور آزاد نظام کا نام ہے جسے ہم نے اپنے اپنے نظریات کی عینک پہن کر دیکھنا شروع کیا ہو ا ہے. بہر حال میں بھی اس وقت اسی جرم کا مرتکب ہو رہا ہوں.

  6. اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے کہیں بھی اسلامی نظام کے قیام کے لیے مختلف نوعیت کی جدوجہد کی کوئی ترتیب دی ہے لیکن ایک بات مولانا مودودی رحمتہ اللہ علیہ متعدد مواقع پر بیان کرچکے ہیں کہ انتخابات میں شرکت اس نظام کے قیام کا ایک عقلی مناسب ذریعہ ضرور ہے۔ اور غالباً اپنی وفات سے قبل انتخابی طریقہ پر اپنی مایوسی کا اظہار بھی دبے الفاظ میں کیا ہے۔ بدقسمتی سے میرے پاس حوالہ جات اس وقت موجود نہیں ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن صاحب البتہ کھلے الفاظ میں دوسرے ذرائع کے استعمال کا ذکر متعدد بار اپنی تقریروں میں کرچکے ہیں۔
    میں نے ایک بات ہمیشہ کی ہے اور وہ یہ کہ انتخابی طریقہ صحیح اور درست حکمت عملی سے استعمال نہیں کیا گیا۔
    اسکی صحیح صورت یہ بنتی ہے کہ جماعت اسلامی کو دعوت و تبلیغ اور مستقبل کی مسلح جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے اور انتخابات کے لیے تحریک اسلامی خاص طور اسلامی جمعیت طلبہ کے سابقین کو ایک نئی انتخابی جماعت کے طور پر سامنے لایا جائے جو مسائل کے حل کے لیے انفرادی سطع پر اس حد تک جایا جائے کہ لوگ اس نئی جماعت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوجائیں۔ میرے حساب سے جماعت اسلامی کا بلند ترین وقت وہ تھا جب سابق امیر قاضی حسین احمد صاحب نے ملک میں جگہ جگہ ناانصافی کو روکنے کی عملی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کردیا تھا اس وقت بہت سارے لوگ جماعت اسلامی کے قریب آگئے تھے۔ مگر بدقسمتی پاسبان ہائی جیک ہوگئی اور قاضی صاحب کو تنظیمی سطع پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ سیاست کو سیاست کے ذریعے سے جیتا جاسکتا ہے کسی نظریہ کی بنیاد پر نہیں کاش یہ بات ہمیں سمجھ میں آجائے۔
    یہ ایک ابتدائی حکمت عملی ہے جو یقیناً کامیاب نہیں ہوپائےگی مگر اس سے وہ چیز حاصل ہوجائے گی جسکی مسلح جدوجہد کے لیے اشد ضرورت ہوگی یعنی عوامی ہمدردیاں۔
    اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسلح جدوجہد کے بغیر یہ ملک اسلامی اصولوں یا عوام امنگوں کے مطابق چلنے لگے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

  7. السلام علیکم !

    اسلام نظام اسلامی معاشرے کا منطقی نتیجہ ہے۔ سو اسلامی تحریک کا راستہ معاشرے ہو ہوئے بغیر گزر ہی نہیں سکتا۔ حتٰی کہ اگر انتہائی اقدام کی بات بھی کی جائے تو بھی اس کے لیے اپ کو معاشرے میں ایک ایسا کام کھڑا کرنا ناگزیر ہی ہوتا ہے جو ایک قابل ذکر معیار اور مقدار میں ایسے فدائیین تیار کر کے دے جو طاغوت کو بزور ہٹانے کے لیے آگے بڑھیں۔

    ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے ترتیب کے فلسفوں سے قطع نظر فی الوقت وقت کا نقیب ہر دو میدانوں میں اسلامی داعیوں کو ہی امت کا مائی باپ بننے کے لیے پکار رہا ہے، اگر وہ توجہ نہ دیں تو الگ بات ہے۔ ہاں براہ راست حکومت کے لیے جدوجہد کیسے کی جائے ؟ اس میں ہم ایک عرصے سے جمہوری عمل کو آزما رہے ہیں اور شاید ایک عرصے تک یہ جاری بھی رہے!

    میرا نہیں خیال کہ اپنے اسلامی اصول و مبادی پر کھڑے رہتے ہوئے ہم طاغوت کو بھی للکاریں اور جمہوریت کے راستے اقتدار کی سیڑھیاں بھی چڑھ جائیں۔ دونوں میں سے ایک چیز کی قربانی ہمیں دینی ہوتی ہے ، ہم اسلام پسند جب بھی حکومت کی طرف جاتے ہیں اور یہ قربانی ہم دے ہی رہے ہیں۔

    مثلا جس چیز سے توجہ مجھے ہٹی ہوئی نظر آتی ہے اور جو چیز نظری اور عملی ہر دو حوالے سے پہلے ہونا ضروری ہے ، وہ یہ ہے کہ لوگوں پر اسلام کی حقیقت اور طاغوت سے اس کے فرق کو واضح کرنا، بدقسمتی سے جمہوری رویوں کی رو میں یہ اساسی فرق ازبر کروانا کہیں روپوش سا ہو گیا ہے کہ بہرحال جمہوریت کی اپنی مجبوریاں ہیں۔اللہ کرے کہ سید صاحب اس الیکشن کے بعد سب حاصل وصول پر نظر ثانی کریں گے اور پھر سے اس دیرینہ حکمت عملی پر نظر ثانی کریں گے۔ شہادت حق کے بنیادی کام سے جو کوتاہی بہت زیادہ ہو چکی ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے۔

    رہی اخوان اور النہضہ وغیرہ کی کامیابی تو انہوں نے بنیادی طور پر ترکی کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے ، جس میں آپ سوشلی سیکولر ہونے کا نعرہ بلند کر کے غیر از اسلام زہن رکھنے والے کافی لوگوں کو کھینچ لیتے ہیں ۔عملی کامیابی سے قطع نظر، نظری طور پر بحرحال یہ ایک بڑا انحراف ہی ہے۔ کیونکہ اسلام کا مزاج یہ نہیں ہے ، وہ تو حق و باطل کو واضح کر کے رکھتا ہے اور جو آتا ہے سوچ دیکھ پرکھ کر آتا ہے اور جسے دور رہنا ہوتا ہے وہ سب سمجھ کر دور رہتا ہے۔ یہی مجرمین کی راہ کو واضح کرنا ہے جو آج درکار ہے ، اور اسی کے نتیجے میں خالص اسلامی نظام کا قیام عمل میں آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    محمد قطب کی کتاب ""دعوت کا منہج کیا ہو"قریب قریب زیر بحث موضوع پر ہے اور اس سلسلے میں مفید ہے۔
    http://www.eeqaz.com/ebooks/005dawatkamanhaj/005dawatkamanhaj08.htm

  8. السلام علیکم
    یہ مضمون میں نے اس مسئلے میں زبردست پایا بہت راہنمائی ملی الحمد للہ
    http://www.eeqaz.com/ebooks/005dawatkamanhaj/005dawatkamanhaj05a.htm

  9. بنیاد پرست says:

    ڈاکٹر ابن ریاض صاحب آپ تبلیغ والوں سے پھل مانگ رہے حالانکہ ابھی تو اتنی محنت سے کونپلیں نکلنا شروع ہوئی ہیں، ‎:-) آپ نے جس اخوان المسلمین کو آئیڈیل بنایا ہے وہ بھی تو یہ سارے کام کرکے اوپر آئی ہے.... پھر انہوں نے کیسا اسلامی نظام لایا ہے وہ شاید اب ڈھکا چھپا نہیں رہا، باقی باتوں پر تو پھر کبھی بات کریں گے صورتحال یہ ہے ک آپ کی اس پسندیدہ تنظیم کے حکومت میں آنے کے بعد وہاں اب بھی گھروں میں ایسے ہی ڈبے بج رہے ہیں. وہ بھی ابھی تک اس ڈبے کو سیدھا نہیں کرسکے، کریں گے بھی تو عوام کے پاس متبادل ذرائع موجود ہیں..‏ ‏‎:-):-)‎
    میرے سمیت بہت سارے اسلام پسندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم جلد باز ہیں، خود محنت میں لگنے سے گبھراتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اک دم ایسا انقلاب آجاۓ کہ ہر شعبہ صحابہ رضوان اللہ کے دور کا نمونہ پیش کرنے لگے... اور اگر کوئی جماعت تیس چالیس سال کی مسلسل محنت سے ایسا انقلاب نہیں لاسکی تو وہ ٹائم ضائع کررہی....

    میرے خیال میں انقلاب اگر محمدی لانا ہے تو محمد ص کے طریقے پر ہی محنت کرنی پڑی گی، حضور نے مکہ میں سٹارٹ ہی دعوت سے لیا اور جب تک اک ماحول اور جماعت تیار نہیں ہوگئی نہ جہاد کیا نہ حکومتی لائن کی کوئی کوشش شروع کی... امت کے اس آخری طبقہ کی اصلاح کے لیے اسی طریقہ کو امام مالک رحمہ اللہ نے بھی بیان فرمایا ہے..‏‎

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.