مسجد پیرس اور اقبال: عقدہ حل

آج مطالعے کے دوران ایک بہت پرانی الجھن حل ہو گئی جس کا ذکر میں کئی احباب سے کر چکا تھا حتٰی کہ پیرس میں مقیم ایک عزیز دوست سید سلمان رضوی بھی میرے اس الجھن کو حل نہ کر سکے البتہ ایک دوسرے ساتھی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کچھ مدد کی لیکن حوالہ فراہم کرنے میں وہ بھی ناکام رہے۔
مسئلہ یہ تھا کہ علامہ محمد اقبال نے اپنے مجموعۂ کلام "ضربِ کلیم" میں "پیرس کی مسجد" کے عنوان سے ایک مختصر قطعہ لکھا ہے اور میں اس تلاش میں تھا کہ کہیں علامہ اقبال نے یہ قطعہ [[مسجد پیرس]] کے بارے میں تو نہیں لکھا جو 1920ء کی دہائی میں تعمیر ہونے والی جامع مسجد ہے جو آج بھی پوری شان کے ساتھ موجود ہے۔ اور محمد راشد شیخ کی مرتب کردہ زیر مطالعہ کتاب "ڈاکٹر محمد حمید اللہ" پڑھنے کے دوران یہ عقدہ حل ہو گیا۔ کتاب میں ڈاکٹر صاحب کے احوال زندگی، ان کی تمام زبانوں میں کتب کی فہرست، ان کو خراج عقیدت کے طور پر لکھے گئے مختلف مصنفین کے مضامین کو یکجا کیا گیا ہے اور آخر الذکر مضامین میں ڈاکٹر سید رضوی علی ندوی کے مضمون کے درج ذیل پیرے نے میرا مسئلہ حل کر دیا۔ ندوی صاحب فرماتے ہیں:

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب موصوف نے مجھے پیرس کی مشہور مسجد دکھائی، محلے کا نام اب یاد نہیں لیکن اندر سے مسجد اندلس اور مغربی (مراکشی) طرز کی تھی اور اس میں دیواروں اور چوبی منبر وغیرہ پر نقش و نگار اسی طرز کے تھے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی اصل مسجد سے قبل ایک چھوٹے سے کمرۂ داخلہ (entrance room) میں کتابوں کا ایک اسٹال تھا اور کاؤنٹر پر ایک الجزائری لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے حلب چھوڑنے کے بعد استنبول یونیورسٹی میں ایک عراقی طالب علم سے عربی زبان میں گفتگو کے بعد سے تقریباً دس روز سے عربی نہیں بولی تھی، میری عربی زبان کی رگ پھڑکی اور میں سے اس خاتون سے کتابوں کے بارے میں کچھ پوچھا، لیکن افسوس کہ وہ فصیح عربی زبان سے نابلد تھی، بلکہ غالباً عربی سے بھی نابلد تھی۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کی حکومت تھی اور عربی زبان میں تعلیم وہاں ممنوع تھی۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے فرانسیسی میں اس کو میری بات سمجھائی، پیرس کی یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے ضرب کلیم میں ایک مختصر قطعہ (پیرس کی مسجد) میں کہا ہے:
حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تن حرم میں چھپا دی روحِ بُت خانہ

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

1 تبصرہ

  1. اجمل says:

    اللہ کی شان ہے آپ دُور کی کوڑی لا رہے تھے اور میں چراغ تلے اندھیرا کا شکار تھا ۔ آپکو کوڑی مل گئی اور میرا چراغ قُمقُمے میں بدل گیا یعنی اُس کے نیچے روشنی ہو گئی ۔ میرے کمپیوٹر کے کسی صفحہ پر مجھے آپ کا نام لکھا ہوا مل گیا ۔ میں دو تین ہفتوں سے پریشان تھا کہ ابو شامل صاحب کا نام مجھے یاد کیوں نہیں آ رہا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.