تھامس جیفرسن کا نسخۂ قرآن – دوسری قسط

تھامس جیفرسن کا نسخۂ قرآن- پہلی قسط یہاں ملاحظہ کیجیے

اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیلز کا ترجمہ اُن تمام تعصبات اور بدگمانیوں سے خالی ہے جو اُس عہد میں یورپ میں اسلام پر ہونے والے کام کی 'امتیازی خصوصیت' ہوتی تھی۔ لیکن سیل نے ویسا گستاخانہ انداز نہیں اپنایا جو اِس سے قبل ترجمہ قرآن کی کوششوں میں صفحات بھرنے کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔ مقابلتاً سیلز شائستگی کی جانب مائل رہے اور حتیٰ کہ چند ایسے کلمات تک ادا کیے جو میرے خیال میں لائق تحسین ہیں۔ انہوں نےپیغمبر اسلام کو "عہد کے پکے، خوبصورت شخصیت، کچھ ظریف، خوشگوار رویے کے حامل، غریبوں کے لیے کشادہ دل، سب پر کرم و عنایت کرنے والے، دشمنوں کے خلاف ڈٹ جانے والے، اور سب سے بڑھ کر نامِ خدا کی تعظیم کرنے والے" قرار دیا۔ پیغمبر اسلام کا یہ روپ و شبیہ پیش کرنا ان تمام ترجمہ کاروں سے مختلف تھا جن کا بنیادی مقصد ہی یہ ہوتا کہ وہ عیسائیت کی برتری ثابت کریں۔

سیلز کی کشادہ خیالی کے علاوہ معیار کے لحاظ سے بھی اُن کا ترجمہ گزشتہ لکھاریوں سے کہیں بڑھ کر تھا۔ قرآن مجید کے پہلے کے تمام انگریزی ترجمے اصلی عربی کی بنیاد پر نہیں تھے، بلکہ لاطینی اور فرانسیسی ترجموں سے کیے گئے تھے۔ اس کے مقابلے میں سیل نے براہ راست عربی متن سے ترجمہ کیا۔ یہ درست نہیں ہے، جیسا کہ معروف والٹیئر نے 1764ء میں اپنی معروف ڈکشنائے فلاسفک میں دعویٰ کیا تھا، کہ سیل نے 25 سال عربوں میں رہ کر عربی زبان پر عبور حاصل کیا؛ بلکہ سیل نے یہ زبان 'عہد نامۂ جدید' کے عربی ترجمے کی تیاری کے منصوبے میں شمولیت کے دوران سیکھی، جو شامی عیسائی باشندوں کے لیے کیا جا رہا تھا، یہ اک ایسا منصوبہ تھا جسے انجمنِ فروغِ علومِ عیسائیت لندن کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ اس کام میں مدد کے لیے لندن آنے والے عرب محققین کے ساتھ پڑھتے ہوئے سیل نے چند سالوں میں عربی پر اتنا عبور حاصل کر لیا کہ وہ عربی متن کی پروف ریڈنگ کے لیے خدمات انجام دینے کے قابل ہو گئے۔

تھامس جیفرسن کے نسخۂ قرآن کی ایک جھلک (تصویر: Aasil Ahmed)

تھامس جیفرسن کے نسخۂ قرآن کی ایک جھلک (تصویر: Aasil Ahmed)

چنانچہ یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ سیل عیسائیوں کی مقدس کتاب کو عربی میں ترجمہ کرنے سے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو آبائی انگریزی میں ترجمہ کرنے کی جانب منتقل ہوئے۔ انگریزی میں ایک قابل بھروسہ ترجمے کی کمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُن کا مقصد "اصل کا درست ترین خیال" پیش کرنا تھا۔ گو کہ سیل کی انگریزی دورِ جدید میں بہت ثقیل لگے گی، لیکن اس امر کو کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اصل عربی کے حسن و شاعرانہ مزاج کا کچھ حصہ منتقل کرنے کی کوشش کی۔

قرآن مجید کی درست ترین ترجمانی کرنے کے ساتھ سیل کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے قارئین کو اسلام کا درست ترین تعارف کروائیں۔ جیفرسن کے خریدے گئے نسخے کا صرف "تمہیدی مقالہ"، جیسا کہ انہوں نے اسے عنوان دیا، ہی 200 صفحات سے زائد کا تھا اور بہت دیانتداری سے اسے دستاویزی شکل دی گئی، اس میں اسلامی شہری قوانین کا ایک حصہ تھا جو شادی، طلاق، وراثت، قانونی سزا اور جنگوں کے قوانین پر مبنی تھا۔

لیکن کیا قرآن مجید کے مطالعے نے تھامس جیفرسن پر اثر بھی ڈالا؟ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے، کیونکہ چند تحاریر میں پیش کردہ معمولی حوالے اُن کے نظریات کو واضح طور پر ظاہر نہیں کرتے۔ شاید اِس مطالعے نے ہی جیفرسن میں عربی سیکھنے کی خواہش جگائی ہو (1770ء کی دہائی میں جیفرسن نے عربی صرف و نحو پر چند کتب خریدی تھیں)، لیکن سب سے اہم بات یہ کہ ممکنہ طور پر مذہبی آزادی سے وابستگی بھی اسی مطالعے سے پروان چڑھی ہو۔ دو مثالیں اس خیال کو تقویت دیتی ہیں۔

1777ء میں، میثاق آزادی کی تالیف کے ایک سال بعد، جیفرسن کو ورجینیا کے مجموعہ قوانین سے نو آبادیاتی دور کے اثرات کو ختم کرنے کا منصوبہ تھمایا گیا۔ اس کارِ نمایاں کے ایک حصے کے طور پر انہوں نے مذہبی آزادی کے ضابطے کے لیے ایک مسودۂ قانون کو دستاویزی شکل دی، جسے 1786ء میں نافذ کیا گیا۔ اپنی آپ بیتی میں جیفرسن نے اپنی اس شدید خواہش کا اظہار کیا کہ یہ مسودہ بل صرف تمام گروہوں کے عیسائیوں تک ہی نہيں پھیلنا چاہیے بلکہ اس کے "دائرۂ تحفظ میں یہودی و بت پرست، عیسائی اور محمدی (مسلمان)، ہندی اور ہر گروہ کے بے دین" شامل ہونے چاہئیں۔

مذہبی تکثیریت کے حوالے سے سب کو شامل کرنے کا یہ نظریہ جیفرسن کے ہم عصروں میں بالاتفاق مقبول نہ تھا۔ تاریخ دان کی حیثیت سے رابرٹ ایلی سن نے 18 ویں صدی کے اواخر میں کئی امریکی لکھاریوں اور سیات دانوں کے اسلام کے حوالوں کو دستاویزی شکل دی ہے جس میں مذہب اسلام کو غلط مقاصد کے حامل کے طور پر پیش کیا گیا۔ ۔ متنازع ترجموں اور بسا اوقات انتہائی حد تک مسخ شدہ بیانات سے مسلح اِن افراد نے اسلام کی تصویر کشی جبر و استبداد کے انتہائی خطروں کے ذریعے کی۔
یہ رویے جیفرسن کے 1788ء کے وژن سے ایک مرتبہ پھر اُس وقت متصادم ہوئے، جب ریاستوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے آئین کی توثیق کے لیے ووٹ دیے۔ ایک کلیدی مسئلہ وہ قانون تھا – جو اب آرٹیکل vi، حصہ 3 ہے- جو کہتا ہے کہ "ریاستہائے متحدہ امریکہ کے زیر اہتمام کسی بھی دفتر یا سرکاری ٹرسٹ کے لیے اہل ہونے کی خاطر کسی مذہبی امتحان کی ضرورت نہیں۔" چند وفاق مخالفین نے اِس سمت اشارہ کیا اور مذہبی امتیاز پر پابندی کی مخالفت کی اور ایک ایسا فرضی منظرنامہ قائم کر ڈالا جس میں ایک مسلمان کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا صدر بنایا گیا۔ اس کے مخالف دلیل دینے والےوفاقیت کے حامیوں نے ، دیگر معاملات پر جیفرسن کی مستقل مخالفت کے باوجود، مذہبی رواداری کے اُن کے وژن کو سراہا اور تمام شہریوں کے لیے عقیدے اور منتخب دفتر کے لامحدود حقوق کی حمایت کی۔ ایک تاریخ دان کی حیثیت سے ڈینیس اسپیل برگ شمالی کیرولائنا میں وفود کے درمیان اس تنازع کی اپنی جانچ میں ظاہر کرتی ہیں کہ ان آئینی بحثوں کے دوران "امریکی شہری ہونے کا کیا مطلب ہے، اس کی تعریف میں مسلمان علامتی طور پر نشانہ بنایا گیا۔"

یہ سوچنا دلچسپ ہوگا کہ جیفرسن کے مطالعہ قرآن نے اُنہیں اسلام کے بارے میں معروف بدگمانیوں سے متعارف کروایا ہوگا، اور ہو سکتا ہے کہ انہیں اس یقین کامل تک پہنچایا ہو کہ مسلمان ، کسی بھی دوسرے مذہبی گروہ کی طرح، نئی ملت کی جانب سے پیش کردہ تمام قانونی حقوق کے بھی حقدار ہیں۔ اور گو کہ جیفرسن امریکی جہازوں پر حملے کے باعث بربر ریاستوں کے خلاف اعلان جنگ کے حامی تھے، لیکن انہوں نے اس معاملے کو کبھی بھی مذہبی رخ نہیں دیا، بلکہ اُن کی پوزیشن خالصتاً سیاسی اصولوں پر مبنی تھی۔ دشمنوں کے ذہن کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے قرآن کے مطالعے سے کہیں دور زیادہ قرین قیاس تو یہ ہے کہ ان کی ابتدائی معلومات نے اس تجزیے کی تصدیق کی کہ بربر تنازع کی جڑیں معاشی تھیں، مذہبی نہیں۔

سیلز کا ترجمہ قرآن اگلے مزید 150 سال تک انگریزی زبان کا بہترین ترجمہ رہا۔ آج جیفرسن کے نسخۂ قرآن کے اصل نسخے کے علاوہ، لائبریری آف کانگریس اسلام سے متعلقہ تقریباً 10 لاکھ مطبوعہ اشیاء کی حامل ہے – جو قانون سازوں اور شہریوں کی ہر نئی نسل کے لیے معلومات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے ۔

سباستیان آر پرانژ سے s.prange@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ یونیورسٹی آف لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹیڈیم میں تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی سند کے حامل ہیں۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

7 تبصرے

  1. بہت عمدہ اور معلوماتی مقالے کا ترجمہ پیش کیا ہے۔ لطف آیا۔

  2. جعفر says:

    ایسے مضامین کا ترجمہ گاہے بگاہے کرتے رہا کریں۔ نہایت عمدہ کاوش۔

  3. ابوشامل says:

    شکریہ عمار و جعفر، میری کوشش ہے کہ اب میں ترجموں پر دھیان دوں اور وقتا فوقتا ایسی تحاریر پیش کرتا رہوں۔ بس دعا کریں وقت ملتا رہے۔

  4. برادرم ابوشامل، ایک عمدہ ترجمے اور معلوماتی مضمون پر مبارکباد قبول فرمائیں۔ گو خاصے عرصے بعد پڑھنے کا موقع ملا لیکن مذہبی تکثیریت جیسی خوبصورت اصطلاحات سے 'پلورلزم' کی اردش کا آپ نے جس دھوم سے جنازہ نکالا ہے وہ بہت خوب ہے۔آپ کم کم لکھتے ہیں، سلسلہ تحریر جاری رکھیں کہ اردو بلاگستان پر آج کل 'کامک' زیادہ اور کام کی چیزیں کم نظر آتی ہیں۔ 🙂

    • ابوشامل says:

      مبارکباد تو خیر ہم قبولتے ہیں لیکن معذرت کہ مجھے جنازے والی بات سمجھ نہیں آئی 🙂
      ویسے آج کل میں کوشش میں ہوں کہ ابوشامل پر مستقل لکھوں، دیکھیں کہاں تک کامیابی نصیب ہوتی ہے

  5. ًًّ says:

    محترم عدنان مسعود ہمارے مہمان تھے جب انہوں نے لائبریری آف کانگریس کا دورہ کیا تھا ۔ میں نے اس وقت بھی غالب یہ بات بتائ تھی افسوس مجھے اس کا حوالہ نہیں مل رہا ۔ کہا (لکھا) جاتا یہ ہے کہ قرآن کا جو ترجمہ تھامس جیفرسن کے زیر مطالعہ تھا، یہ کسی بھی کتاب کا انتھائ نامعقول ترجمہ ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.