سیکولر ازم اور وقار

November 16, 2009 | 667 مشاہدات

تحریر: شاہنواز فاروقی
مغرب کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے ایسے عناصر ہیں جو مغرب اور اس کے سیکولر ازم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان سیکولر ہوجائے تو دنیا میں اس کا وقار بلند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 2A سے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے مذہبی جماعتیں اکثر فائدہ اٹھاتی ہیں تو کیا واقعتاً اگر ہم سیکولر ہوجائیں تو دنیا میں ہمارا وقار بلند ہوسکتا ہے؟ لیکن ہر دعویٰ اپنی شہادتیں طلب کرتا ہے۔ البتہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مارشل ٹیٹو کے سابق یوگوسلاویہ میں رہنے والے بوسنیا وہرزیگووینا کے مسلمان سرتاپا سیکولر تھے‘ اتنے سیکولر کہ انہوں نے اپنے مسلم ناموں تک کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عالمی برادری نے انہیں کتنا وقار فراہم کیا؟ یوگوسلاویہ ٹوٹا توبوسنیا ہرزیگوینا کی”سیکولر مسلمانوں” کے لیے آزادی کا امکان پیدا ہوا مگر امریکا اور پورے یورپ نے کہا کہ ارے یہ مسلمان سیکولر تھوڑی ہیں یہ تو صرف مسلمان ہیں چنانچہ انہوں نے سربوں اور کروشیائی باشندوں کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا اور انہوں نے ساڑھے تین سال کی جنگ میں دو سے ڈھائی لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ سربوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو قتل کیا کہ تم نہیں تو کیا تمہارے آباواجداد تو مسلمان تھے۔ آپ کو معلوم ہے، بوسنیا میں ہونے والے اکثر حملوں کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت کیا تھی؟ یہ کہ ان میں سے اکثر حملے پڑوسیوں نے کیے۔ ان پڑوسیوں نے جو چالیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے پڑوسی تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تجربے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ سیکولر ازم نے مسلمانوں کا وقار عالمی برادری میں بہت بلند کردیا۔ یہ تو ایک قوم کی مثال ہوئی۔ دوسری مثال ایک رہنما یعنی یاسر عرفات کی ہے۔ یاسر عرفات بنیاد پرست نہیں تھے۔ وہ اپنی نہاد میں ایک قوم پرست اور سیکولر رہنما تھے مگر مغرب ان کو دہشت گرد کہتا تھا۔ اسرائیل ان کے خون کا پیاسا تھا۔ یاسر عرفات بالآخر مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت وضع کیے گئے امن سمجھوتے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط بھی کردیے مگر اسرائیل نے اس عظیم سیکولر رہنما کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی ایک شق پر بھی عمل درآمد کرکے نہ دیا۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو بالآخر ان کے دفتر میں محصور کردیا اور تقریباً تین سال تک محصور رکھا۔ یاسر عرفات اس دفتر سے نکل کر فرانس پہنچے تو چند ہی روز میں ان کا نہایت پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ یاسر عرفات کا سیکولرازم ان کے اور خود ان کی قوم کے کتنا کام آیا؟
تیسری مثال ایک ملک یعنی ترکی کی ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے مگر ترکی تو آئینی اعتبار سے سیکولر ہے اور دوچار سال سے نہیں 70سال سے سیکولر ہے مگر اس کے باوجود ترکی چالیس برس سے یورپی اتحاد کے دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اندر آنے دو اور ترکی سے کہا جارہا ہے کہ تم تو مسلمان ہو۔ سوال یہ ہے کہ ترکی کے سیکولر حال اور سیکولر ماضی نے عالمی برادری میں ترکی کے وقار کو کتنا بلند کردیاہے اور ترکی کا سیکولر ازم اس کے کتنے کام آرہا ہے؟
خود پاکستان کی تاریخ سیکولر رہنماؤں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب سیکولر تھے۔ جنرل یحییٰ سیکولر تھے۔ بھٹو سیکولر تھے۔ بے نظیر بھٹو سیکولر تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو کتنا بلند کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک مثال، صرف ایک مثال؟ پچاس سال کے سیکولرازم کو اتنا غریب تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ اور یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ مسلم دنیا گزشتہ پچاس سال سے سیکولر دنیا ہی ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں اگر غربت ہے تو اس کا ذمہ دار سیکولرازم اور اس کے علمبردار ہیں۔ اس دنیا میں اگر ناخواندگی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ضرورت سیکولرازم نہیں مذہب ہے۔ مغرب کا لبرل ازم نہیں اسلام ہے۔ سیکولرازم مسلم دنیامیں گندا انڈا ثابت ہوچکا۔ اس سے کچھ برآمد ہونا ہوتا تو اس کے لیے پچاس سال بہت تھے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا چنانچہ اب سیکولرازم کی حمایت مسلمانوں اور ان کے معاشروں سے بدترین زیادتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے عزت و توقیر حاصل کی ہے، اپنی انفرادیت پر اصرار کرکے کی۔ ہم نے اپنی جداگانہ شناخت پر اصرار کیا تو پاکستان بنا اگر ہم متحدہ قومیت کے قائل رہتے تو پاکستان وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشش کا اصول “مختلف” ہوتا ہے یکساں ہونا نہیں۔ اول تو مسلمان سیکولر ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو صرف نقال بن کر رہ جانا ہی ان کا مقدر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہماری تاریخ میں تو سیکولرازم کی کوئی مثال نہیں چنانچہ ہمیں یورپی تاریخ ہی کو سینے سے لگانا ہوگا۔ اور یہ نقالی کے سوا کیا ہوگا اور نقالوں کو اہلِ مغرب بندر کہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہماری زبان میں یہ جو ایک لفظ ”بابو“ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا ایک چھوٹا سا پس منظر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے لباس اور وضع قطع میں انگریزوں کی نقالی شروع کی تو انہوں نے نقالی کرنے والوں کو Baboon قرار دیا اور Baboon بندر کی ایک قسم ہے کثرتِ استعمال یا کسی اور وجہ سے رفتہ رفتہ اس لفظ سے صرف “N” غائب ہوگیا اور صرف ”بابو“ باقی رہ گیا۔ تو کیا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان تاریخ میں صرف ”بابو“ بن کر رہ جائیں؟؟ کیا یہ کوئی بڑی عزت کی بات ہوگی؟؟۔

Related Posts with Thumbnails

46 تبصرے برائے “سیکولر ازم اور وقار”

  1. مجھے حیرت ہے کہ کیا یہ مضمون آپنے محض اس لئے یہاں دیا ہے کہ انہوں نے اپنےگمراہ کن حد تک غلط دلائل کو بنیاد بنا کر سیکولیرازم کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ مضبوط دلائل سیکولیرزم کے خلاف شاید وہ لوگ دے پائیں گے جنہیں آپ لوگ سیکولر کہیں گے۔
    سب سے مزے کی بات لفظ بابو کا استعمال ہے۔ یہ لفظ ہندی میں زمانہ ء قدیم سے مستعمل رہا ہے۔ باپ کو بابو کہنا یوپی کے علاقوں میں کہنا خاصہ عام ہے۔ میری اماں اپنے والد صاحب کو بابو کہتی تھیں۔ کسی کو پیار سے بلانا ہو تو بابو کہا جاتا ہے۔ بھارت کے صوبے بہار میں لوگوں کے نام کے ساتھ احتراماً بابو لفظ لگایا جاتا ہے۔ جو لوگ زیادہ پڑھے لکھے ہوتے یا کسی اچھے عہدے پہ فائز ہوتے تو انہیں بابو کہا جاتا تھا۔ اچھے عہدوں پہ فائز ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ اچھی طرح رہتے تھے۔اس لئے زیادہ اچھی طرح رہنے والے لوگوں کو بابو کہا جاتا تھا۔ آج بھی کہتے ہیں۔ ان صاحب کی اس سلسلے میں گھڑی جانیوالی یہ داستان انتہائ سے زیادہ گمراہ کن ہے۔
    ان کی باقی باتون کے جواب میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اس وقت بھی بیشتر مسلم ممالک میں انکی پسند کا اسلام موجود ہے اور اسکی بڑی مثال سعودی عرب ہے۔ تیل کی دریافت سے پہلے سعودیوں کا کیا حال تھا اور اسکے بعد بھی سعودی شیخ عیاشی کی علامت تو ہو سکتے ہیں مذہب اسلام کی نہیں۔ اسکے بارے میں وہ کیا کہنا چاہیں گے۔
    آپ کسی نظرئیے سے اختلاف کر کے اسکے خلاف دلیلیں دینے میں یہ ضرور خیال کریں کہ اس طرح کی بودی دلیلیں آپکے موءقف کو مزید کمزور کرتی ہیں۔ میں کوئ مذہب کے مخالفین میں سے نہیں، ورنہ اپنے آپکو مسلمان کیوں کہتی، لیکن جب ایمان کو تقویت دینے کے بجائے ایسی ہنسا دینے والی چیزیں پڑھتی ہوں تو یہ ضرور سوچتی ہوں کہ ایسی باتیں کرنیوالے کس کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    محترمہ! آپ آج حیران ہوئی ہیں، میں تو اس دن حیرانگی سے مرتے مرتے بچا تھا جس نے آپ نے حضور نبی کریم اور ان کے نظام کو (نعوذ باللہ) سیکولر قرار دیا تھا۔ اس کے بعد تو میں ہمیشہ آپ کے سامنے لا جواب ہی ہو سکتا ہوں کہ اتنی بڑی جسارت کے بعد کچھ اور کہنے کو رہ نہیں جاتا۔ آپ نے مضمون کے اہم موضوع یعنی مسلم ممالک خصوصاً پاکستان میں سیکولر ازم کے پرستار حکمرانوں کے کارناموں پر ذکر کرنے کے بجائے ایک ایسی بات کو اہم قرار دے کر سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہیں جو بہت زیادہ اہم نہیں۔
    بہرحال اس بحث کے حوالے سے صرف اتنا کہوں گا کہ یہاں بابو کا لفظ ایک خاص context میں ہے جو برطانوی راج کے عہد میں کلرکوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ آپ نے جس لفظ بابو کا ذکر کیا ہے اس کا ماخذ دراصل سنسکرت ہے اور اس میں بھی بابو نہیں بولا جاتا بلکہ باپو کہا جاتا ہے۔ اگر کہیں بابو مستعمل بھی ہے تو اس کا ماخذ بابا ہے نہ کہ وہ لفظ انگریز مقامی ہندوستانی کلرکوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ انگریز مقامی ہندوستانی کلرکوں کے لیے دو الفاظ استامال کرتے تھے ایک Baboo اور دوسرا Wog۔ اب ذرا کسی اچھی سے لغت کے اندر ملاحظہ کر لیجیے کہ ان دونوں الفاظ کا ماخذ کیا ہے؟ “گمراہ کن داستان” کی حقیقت کا علم ہو جائے گا۔ یہ بالکل ویسا ہی لفظ ہے جیسا کہ Paki، جس کے بارے میں ہماری اکثریت کو علم بھی نہ ہوگا کہ یہ حقارت بھرا لفظ ہے۔ میں نے خود پاکستان کے ایک میچ کے دوران ایک تماشائی کو ایک کتبہ اٹھائے دیکھا ہے جس پر لکھا تھا “Paki Power”۔ اگر تکلیف نہ ہو تو بس ایک ذرا سا کام کیجیے، مشہور زمانہ “آکسفرڈ انگریزی اردو لغت” اٹھائیے، B کے سیکشن میں صفحہ نمبر 88 پر جائیے وہاں بابو کے معنوں میں کیا لکھا ہے؟ “تحقیراً، انگریزی لکھنے والے ہندوستانی کلرکوں کے لیے”۔ یعنی یہ حقارت کے تحت پکارا جانے والا لفظ ہی ہے۔ دوسری جانب Baboon کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ “بد صورت اور بے ڈھنگے آدمی” کو بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ بابو والی بات پر بحث نہیں کروں گا اور نہ ہی اس پر مزید کچھ کہنا پسند کروں گا۔
    ہم کیونکہ آپ کی نظر میں “قدامت پسند” ہیں اس لیے ہمارے دلائل ہمیشہ “بودے” ہی ہوں گے۔ میں پہلے اپنی تحاریر میں بھی کہہ چکا ہوں کہ سیکولر پرستوں نے صرف اور صرف مغرب کی بھونڈی نقالی کی ہے اور ان کا تصور ریاست مسلم اکثریتی ممالک میں نہیں چل سکتا کیونکہ سیکولر ازم ایک خاص ماحول اور خاص تہذیب اور خاص تاریخی واقعات کی پیداوار ہے جبکہ امت مسلمہ اس تہذیب و تاریخ کی حامل نہیں اس لیے اس کا تجربہ یہاں ناکام ہی ہوگا۔ سیکولر پالیسی ممالک کے حساب سے تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن سیکولر ازم کا بنیادی فلسفہ اتنا خطرناک ہے کہ اس سے اسلام کی عمارت کی بنیادوں پر چوٹ لگتی ہے، یہ ہر گز اسلام کے ساتھ compatible نہیں ہے۔
    اسلام کیونکہ مکمل سیاسی نظام کا حامل ہے اس لیے اگر سیکولر پرست افراد اسے ریاستی ڈھانچے سے باہر نکالیں گے تو وہ مغرب کے نقال ہی تصور کیے جائیں گے۔ ویسے مجھے تو آپ جیسی جہاندیدہ خاتون کے فہم پر حیرت ہو رہی ہے کہ آپ کے نزدیک اسلامی مملکت کی معراج سعودی عرب ہے۔

    [جواب]

  2. اسلام عیلکم
    میں نے بابو کی ہے خوف ناک تشرہح آج ہئ پڑی ہے-

    [جواب]

  3. شاہنواز فاروقی کے قلم کی کاٹ کے تو ہم بڑے پرانے ماننے والے ہیں.
    محترم تبصرہ نگار نے اس سارے فسانے میں جس بات کا ذکر آٹے میں نمک کے برابر تھا اسے پھیلا کر رائی کا پہاڑ بنا دیا ہے.

    [جواب]

  4. واقعی شاہنواز فاروقی صحیح کہتے ہیں امریکہ نے جس طرح لاکھوں بونسنین مسلمانوں کا قتل عام کیا اس کی مثال نہیں ملتی. اور صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعد کوسوو کے مسلمانوں پر مسلسل بمباری کر کے انہیں سربیا کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا. امریکہ کبھی ایسا نہ کرتا اگر بوسنیا اور کوسوو کے لوگ نام کے مسلمان نہ ہوتے. اگر انہوں نے ایران یا سعودیہ کے ہاتھ پر بیعت کی ہوتی تو یقینا ان کا انجام بہتر ہوتا.

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    دوبارہ پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔۔۔۔
    چلیے کسی بہانے آپ یہاں تبصرہ جات میں نظر تو آئے۔

    [جواب]

  5. مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں پڑھائی کی سب سے بڑی سند حاصل کرنے والے کے مطالعہ اور معلومات کو اس کے محدود نظریات کی بھینٹ چڑھتے دیکھتا ہوں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندی وہی زبان تھی جسے ہندوستان کے مسلمان اُردو کہتے تھے ۔ باپو سنسکرت کا لفظ تھا جو کبھی بابو نہیں بنا ۔ بابو لفظ انگریز حکمران کی ہی ایجاد تھی اور بابون سے ہی بنا تھا ۔ انگریزوں نے کئی اور لفظ بھی تحقیر کیلئے استعمال کئے ۔ مثال کے طور پر خانہ بدوش ناچنے والیوں کو مغلانیاں کا نام دیا تاکہ خاندانِ مغلیہ کی تحقیر ہو ۔ مشہور ناول نگار اے آر خاتون نے نمعلوم کس خوشی میں اس توہین آمیز لفظ کا اپنے ناولوں میں بہت استعمال کیا ۔ سوائے اس کے کہ وہ بھی انگریز کی ذہنی غلام تھیں ۔
    یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ترقی کا راز اپنی پہچان میں ہے ۔ نقالی میں نہیں ۔ مسلمان یا تو مسلمان ہو گا یا سیکولر ۔ دونو نہیں ہو سکتا

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    جی افتخار صاحب اور المیہ یہ ہے کہ پھر “تنگ نظری” کا طعنہ دوسروں کو دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ جو تصادم کی کیفیت ہے وہ دونوں اطراف کی تنگ نظری ہی کا نتیجہ ہے۔

    [جواب]

  6. شاید آپ نے سر سیّد احمد خان کی وہ تصویر دیکھی ہو جس میں اُنہوں نے شلوار قمیض اور کوٹ پہن رکھا ہے اور گلے میں نیکٹائی لگا رکھی ہے

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    کبھی موقع ملا تو سر سید احمد خان کے افکار اور برطانوی دور میں ان کے کردار کے حوالے سے کچھ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

    [جواب]

  7. یار فہد.. میری طرح تم بھی بہت تھوڑا لکھتے ہو..

    [جواب]

  8. http://ejang.jang.com.pk/11-17-2009/pic.asp?picname=07_05.gif

    [جواب]

  9. سیکولرزم ایک فراڈ ہے جسے مغربی و مشرقی دونوں دنیاؤں کیساتھ صیہونی الیٹ کھیل رہی ہے۔ ڈالر بل پر novus ordo seclorum کندہ ہے جسکا مطلب سیکولر آرڈر کی کامیابی ہے۔ اور یہی وہ دجالی چال ہے جسکی مدد سے پوری دنیا کو بیوقوف بنایا گیا ہے:

    http://en.wikipedia.org/wiki/Novus_ordo_seclorum

    [جواب]

  10. “اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔”

    فاضل بلاگر نے اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کئی تاریخی حوالے بری طرح خلط ملط کردیے ہیں.. سیکولرزم کو لادینیت کا مترادف سمجھا جائے اور اس پر تنقید کی جائے تو درست ہے اور یہ بنیادی حق ہے اس پر بحث ہوسکتی ہے کہ سیکولرزم کی کیا تعبیریں کی جاتی ہیں اور مسلمان ملکوں میں اسے کیوں لادینیت کا مترادف سمجھا جاتا ہے.. لیکن یہ کہنا کہ پچھلے پچاس برسوں میں کہیں مذہبی عناصر برسر اقتدار نہیں رہے سراسر لاعلمی کی بات ہے.. انقلاب ایران، سعودی سیاسی سیٹ اپ میں مذہبی عناصر کی طاقت اور طالبان کے افغانستان بلکہ پوری افغان روس جنگ میں سیاسی اسلام کو نظر انداز کر کہ یہ کہنا کہ کہیں مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے تو یہ بہت چونکا دینے والا انکشاف ہے. امید ہے نظر ثانی کریں گے.

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ آپ کن تاریخی حوالوں کی بات کر رہے ہیں؟ میرا نہیں خیال کہ ایران کی قیادت اور بقول آپ کے افغانستان کی “اسلامی” حکومت پر کبھی بد عنوانی کا الزام لگا ہو اور نہ ہی ان کے ادوار میں ان ممالک میں لاقانونیت تھی یا ہے۔ تمام تر اختلافات کے باوجود ان تینوں ممالک میں بدعنوانی اور لاقانونیت کی شرح کم تھی اور ہے، آپ اعداد و شمار دیکھ لیں۔
    البتہ ان تینوں حکومتوں کی “اسلامی حیثیت” پر بحث کی جا سکتی ہے۔

    [جواب]

    راشد کامران Reply:

    بہت سادہ سی بات ہے۔ سیکولرزم سے اختلاف رکھنے کے لیے وہ منفی چیزیں سامنے لانی چاہئیں جو سیکولرزم کی وجہ سے پیدا کردہ ہیں۔ محترم بلاگر نے نسلی فسادات، مذہبی جنگوں اور بوسنیا کے فسادات کی ذمہ داری بھی سیکولرزم پر ڈال دی حالانکہ بوسنیا کی پوری جنگ کے دوران مسلمان ملکوں خاص کر مذہب کے ٹھیکے دار مسلمان ملکوں کا کردار شرمناک رہا ہے۔ پھر جس بات پر میں خصوصی زور دے رہا ہوں کہ یہ کہنا کہ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کو کبھی اقتدار نہیں ملا سراسر غلط ہے۔۔ آٹھ سال امریکہ میں مذہبی رجحان رکھنے والی پارٹی کی حکومت رہی ہے؛ بھارت میں کانگریس سے پہلے ہندو شدت پسندوں کی حمایت یافتہ بی جے بی اقتدار میں رہی، اسرائیل میں دائیں‌بازو کی پارٹیاں اقتدار میں آئی ہیں، ترکی میں دائیں‌بازو کی پارٹی اقتدار میں ہے، پاکستان میں آئی جے آئی اور ابھی حال میں صوبہ سرحد میں مذہبی جماعتوں کو اقتدار ملا اور ضیاء صاحب کے ساتھ ملا کا کیا تعلق تھا شاید اس پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر سیکولرزم کی تعریف یہ ہے کہ مسلمان اور اس کے علاوہ سب سیکولرازم تو شاید درست ہے لیکن صورت حال یہ ہے کہ اس وقت افغانستان، عراق، اسرائیل-فلسطین اور پاکستان میں‌ لگی آگ میں ہر قسم کے مذہبی ذہن رکھنے والوں کا عمل دخل زیادہ نظر آتا ہے۔ دوبارہ زور دوں گا کہ دنیا کا واحد مذہب صرف اسلام نہیں۔ اور شدت پسندی صرف اسلام کے ماننے والوں سے مخصوص نہیں۔

    “تمام تر اختلافات کے باوجود ان تینوں ممالک میں بدعنوانی اور لاقانونیت کی شرح کم تھی اور ہے، آپ اعداد و شمار دیکھ لیں۔”

    اعدادو شمار کہاں سے حاصل کردہ ہیں.. یہ تو ایسے ہے جیسے پاکستان میں پولیس ریکارڈز سے کرائم ریٹ کا اندازہ لگایا جاءے.

    [جواب]

  11. سعودی عرب میں کبھی تھی مُلا کی طاقت جو شاہ عبدالعزیز کے زمانہ میں بنی اور شاہ خالد کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی
    مذہبی ہونا اور مذہبی ظاہر کرنا دو مختلف عمل ہیں ۔ آخرالذکر کی مثال جیسے ہم سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اللہ کی خوشنودی کی بجائے انسان یا انسانوں کی خوشنودی کیلئے محنت کرتے ہیں
    جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہاں ایک مختصر عرصہ کیلئے اسلامی سے ملتی جُلتی حکومت مُلا عمر نے قائم کی تھی جس نے سیکولر دنیا کی نیند حرام کر دی ۔ اور اس کے نتیجہ میں طُلم و تشدد کا بازار گرم کیا گیا جو آج تک جاری ہے
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جبکہ سیکولرزم کہتا ہے کہ مذہب کا کاروبارِ زندگی سے تعلق نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سیکولرزم کو اسلام کی نفی کہا جاتا ہے

    [جواب]

    راشد کامران Reply:

    مطلب یہی ہے کہ یہ کہا نہیں جاسکتا کہ مذہبی طاقتیں کبھی اقتدار میں نہیں رہیں بلکہ انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انہیں جب بھی اقتدار کا موقع ملا انہوں نے غیر ضروری اقدامات اور غیر مقبول فیصلوں کے ذریعے ان مواقع کو بری طرح ضائع کردیا ہے.. ہاتھ جھاڑ کر یہ کہہ دینا کہ مذہبی قوتوں تو کبھی موقع ہی نہیں ملا اور یہ سیکولر طاقتوں کا کیا دھرا ہے بہت ناانصافی کی بات ہے.. اور مذہبی طاقتیں صرف مسلمان ہی نہیں ہوتیں.. آج بھی جاری جنگیں دونوں اطراف کے مذہبی جنون کا نتیجہ ہے.. نا معلوم کس نے یہ مضحکہ خیز خیال پیش کیا ہے کہ امریکہ کی ریپبلکن پارٹی جس نے عراق اور افغانستان کی جنگیں شروع کیں کوئی سیکیولر پارٹی ہے…

    [جواب]

    خرم Reply:

    طالبان کی حکومت کس طرح اسلامی تھی یہ بات جواب طلب ہے۔ اگر بیبیوں کو سربازار ڈنڈے مارنا (افغانستان میں) اسلام ہے تو پھر سُنت نبوی سے کوئی ایک واقعہ دکھا دیجئے۔ بچیوں کی تعلیم کو بند کرنا اگر اسلام ہے تو کوئی حدیث لائیے۔ یہ کہنا کہ انہوں نے اسلامی سے ملتی جُلتی حکومت قائم کی تھی اتنا ہی سچ ہے جیسا یہ کہا جائے کہ جنرل ضیاء نے پاکستان میں اسلامی سے ملتا جُلتا نظام قائم کیا تھا۔ ویسے بھی اسلام نے کوئی نظام حکومت دیا ہی نہیں وگرنہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم وصال پر ہی صحابہ کا اختلاف نہ ہوجاتا۔

    [جواب]

    راشد کامران Reply:

    اسلامی حکومت اور مذہب کے علم برداروں کی حکومت میں جو فرق ہے وہ فرض یہاں ملحوظ رکھیں تو بات صاف ہوجائے گی.. ضروری نہیں کہ اسلام کا نام لے کر جو بھی حکومت قائم کی جائے وہ اسلامی حکومت کہلانے بھی حقدار ہو.. لیکن مذہبی حلقے اگر اس بات پر زور دیں کہ انہیں کبھی موقع نہیں ملا تو یہ سراسر غلط ہے.

    [جواب]

  12. بس راشد صاحب ایسی مضحکہ خیز تحریروں سے ہی تو ہماری تاریخ ترتیب دی جارہی ہے اللہ ہم پر اپنا رھم کرے،

    [جواب]

  13. سیکولر ازم غیراسلامی صحیح مگر مجھے کوئی یہ بتائے کہ ہم نے اقتدار اعلی اللہ رب العزت کے لیئے ہے کو آئین کا حصہ بناکر عمل کتنا اس کے مطابق کیا ہے؟
    یہ تو سراسر نعوذ باللہ ،اللہ تعالی کے ساتھ مزاق ہی ہوا نا،
    اور اللہ کے ساتھ مزاق کرنے والوں کی کتنی بھیانک سزا ہے اس کا تو ہم سب کو بخوبی علم ہوگا،اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرماکر ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین،

    [جواب]

  14. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم یہ ازموں کے چکر میں کیوں پڑے ہیں؟ کبھی تو لگتا ہے کہ یہ “اسلامی نظام حکومت“ کی اصطلاح بھی مغرب سے مقابلہ کرنے کے لئے ہی ایجاد کی گئی ہے۔ کبھی اس کا بھی کھوج لگانا چاہئے کہ “اسلامی نظام حکومت“ کی اصطلاح سب سے پہلے استعمال کس نے اور کب کی؟ اسلام کا کوئی نظام حکومت ہے ہی نہیں ہاں حکومت کرنے کے رہنما اصول ضرور دئیے ہیں اسلام نے جن کی بنیاد پر جو بھی نظام حکومت تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ خیر یہ بھی “اسلامی تہذیب“ ایسی ہی بات ہے۔ خیر ہماری کتب میں تو محراب کو اسلامی فن تعمیر کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے یہ جانے بغیر کہ یہ رومیوں کے فن تعمیر کا مظہر ہے اور Roman Arch کہلاتی ہے۔

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    خرم صاحب! عجیب بات ہے ایک جانب آپ کہہ رہے ہیں کہ اسلام نے کوئی نظام حکومت دیا ہی نہیں اورن دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ رہنما اصول ضرور دیے ہیں۔ آپ کا یہ استدلال کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اگر رہنما اصول دیے گئے ہیں تو اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ نظام حکومت دیا گیا ہے۔

    [جواب]

  15. خرم صاحب کمال ہے یہاں تو آپ انیقہ کے ہم خیال ہو گئے!ویسے بات سولہ آنے درست کی ہے آپ نے:)

    [جواب]

  16. تاریخ کا مناسب مطالعہ کر کے حقائق جانے بغیر فیصلے دینا ہی ہماری قوم کی سب سے بڑی کمزوری ہے جو قوم کو تنزل کی گہرائیوں میں لے گئی ہے ۔ متواتر آٹھ نو دہائیاں اسلامی نظامِ خلافت بہت عمدہ طریقہ سے چلا جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ۔ اس کے بعد خامی پیدا ہونا شروع ہوئی لیکن پھر بھی تین صدی تک خلافت کے نام سے دنیا کے ہر نظام سے بہتر رفاہی نظام چلتا رہا ۔ یہ کہنا کہ اسلامی نظام نام کی کوئی چیز ہے ہی نہيں ظاہر کرتا ہے کہ راقم نے قرآن شریف کو بھی سمجھ کر پڑھنے کی کوشس نہیں کی ۔ قرآن شریف تو اُن اعمال کا احاطہ بھی کرتا ہے جو انسان کے بنائے کسی قانون کی زد میں نہیں آتے

    [جواب]

  17. خرم صاحب خود اپنی بات کا جواب دیں تو ذیادہ بہتر ہے!
    مگر رہنماء اصولوں سے مراد یہی ہے کہ جو اصول اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمادیئے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر دور کی ضروت کے مطابق نظام حکومت تشکیل دیا جائے چناچہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جمہوریت خلافت کے یا اسلامی اصولوں کے نزدیک تر ہے تو اس میں جو خامیاں موجود ہیں انہیں دور کرکے ایک صحیح اسلامی جمہوری حکومت قائم کی جاسکتی ہے مگر اس کے حکمراں کو کم و بیش خلافائے راشدین کی طرح زندگی گزارنا چاہیئے کیونکہ امیرمعاویہ اور ان کے بعد کے حکمرانوں کو بادشاہ تو کہا جاسکتا ہے خلفاء نہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور کو چھوڑ کر،تو ملتی جلتی نہیں ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام اصل ترجیح ہونا چاہیئے اور اس اسلامی ریاست میں اس کے باشندوں کے حقوق کا مکمل تحفظ خواہ وہ کسی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں لازم ہے حکومتی کارندوں اور عوام کی ذندگیوں میں مشرق اور مغرب جتنا فاصلہ ناقابل قبول ہونا چاہیئے،اس کے بعد قوانین پر سختی سے عمل دراآمد ہونا چاہیئے آپ جب تک لوگوں کو معاشی تحفظ اور سکوں نہین دین گے جرائم میں کمی نا ممکن ہے جب آپ اپنے حصے کا کام کرلین پھر قانون کو اپنا کام کرنے دیں،
    یہ میری ناقص رائے ہے اس پر اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرے میں مشکور ہوں گا،

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    آپ کی “ناقص رائے” پر ہر گز اعتراض نہیں ہے، اسلام کا لایا گیا سیاسی نظام دراصل جمہوریت کی ایک خام شکل تھا، ہاں البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اب جو مغربی جمہوری نظام ہے، اسے بعینہ قبول نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے “مسلمان” کرنا پڑے گا۔

    [جواب]

  18. ابو شامل، میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسوقت پردیس میں ہوں تو اپنی لغات اٹھا کر نہیں دیکھ سکتی اس لئے نیٹ پہ میسر ڈکشنیریز کو ہی دیکھ پائ ہوں. اور وہاں جو بات لکھی ہے اس میں سے ایک کا لنک آپکو بھی دے رہی ہوں. اس میں انہوں نے کہا ہے کہ بابو انڈیا میں ہندو کلرکس کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. یہ تقریبا وہی بات ہے جو میں کہہ رہی ہوں. اگر وہ ہندو کو کہہ رہے ہیں تو لاقزمی طور پہ یہ ذلت انہوں نے ہندئووں کے لئے بھی رکھی ہوگی. یہ کہنا کہ یہ لفظ دراصل بابا سے آیا ہے. مھض اس مسلمانیت سے تعلق رکھتا ہے جہاں گوسری قومیں حیثیت نہیں رکھتیں. یہ کہنا کہ مسلمان گھرانوں میں باپ کو بابو نہیں کہا جاتا مھض لاعلمی کی بات ہے. میں خود یوپی کے پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں اور انڈیا گھوم کر آچکی ہوں. جیسا کہ میں نے کہا کہ صوبہ ئ بہار میں اب بھی عزت اور پیار کے لئے بابو کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور کراچی میں بھی ایسے بہاری خاندان جو ابھی تک اپنی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں انکے گھرانوں میں یہ لفظ ابھی بھی اسی طرھ استرمال ہوتا ہے آپکی باقی باتوں کا جواب میں اپنے بلاگ پہ دینا چاہونگی.

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    مجھے لگتا ہے کہ آپ جان بوجھ کر میرے دیے گئے حوالہ جات سے کتراتی ہیں، اس سے پہلے بھی آپ ایک جگہ یہ کہہ چکی تھیں کہ “آپ کی دی گئی کتب کی طویل فہرت سے قطع نظر میرا کہنا یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
    اور اب آپ کہہ رہی ہیں کہ میں لغت نہیں دیکھ سکتی اور پھر اپنی مرضی کی لغت سے مرضی کا حوالہ؟؟ خوش رہیے۔
    شاید آپ میرے پیغام کو بغور نہیں پڑھتی ہیں، اس لیے مغالطوں میں پڑ جاتی ہیں میں نے خود کہا ہے کہ اس کا ماخذ سنسکرت کا لفظ ہے اور پھر یہ بھی کہا کہ مسلمانوں میں اگر باپ کو بابو کہا جاتا ہے تو اس کا ماخذ بابا ہے۔ اس میں مجھے بتائیے لا علمی والی کون سی بات ہے۔

    [جواب]

  19. لنک دیکھ لیں یہ ہے.
    http://www.answers.com/topic/baboo-1
    ایسی تحریروں کو کاٹدار کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ ایسی غلط بیانی سے بھرپور گرما دینے والی تحریریں ہی ایسے افراد کو جنم دیتی ہیں جو دوسرے انسانوں کے سر کاٹ کر انکے لہو میں نہا کر خوش ہوتے ہیں اور ایسے ذہنی مریضوں کا تعلق کسی بھی ازم کے ماننے والوں سے ہو سکتا ہے.

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    ایسے ذہنی مریضوں کا تعلق کسی بھی ازم کے ماننے والوں سے ہو سکتا ہے

    خاص طور پر سیکولر ازم سے :)

    [جواب]

  20. عبداللہ صاحب نے کافی حد تک درست لکھا ہے ۔ میں اس کی مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی جمہوریت میں اس شخص کو ووٹ کا حق نہیں جو اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں کی نفی کرے ۔ اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ۔ سقراط نے بھی کہا تھا کہ اگر جُہلاء کو ووٹ کا حق دیا جائے تو سربراہ جاہل ہی بنے گا ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خُلفائے راشدین کا دور بہترین جمہوریت تھی ۔ خلیفہ کے لفظ پر ہی لوگ ناک منہ چڑھانے لگتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کو زمیں پر خلیفاء بنایا گیا ۔ مالک یا بادشاہ نہیں ۔ مالک یا بادشاہ صرف اللہ ہے ۔ یہ نام اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اپنے لئے استعمال کئے ہیں ملاحظہ ہو سورة الرحمٰن کی آیة 33
    يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ
    اے گروہِ جن و اِنس! اگر تم اِس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے باہر نکل سکو تو تم نکل جاؤ، تم جس مقام پر بھی نکل کر جاؤ گے وہاں بھی اسی کی سلطنت ہوگی

    [جواب]

  21. تصحیح
    زمین پر خلیفہ

    [جواب]

  22. اور ہٹلر بھی شاید شاہنوار فاروقی کی تحاریر کی وجہ سے ہی اتنا سفاک ہوا تھا
    اور حالیہ اسرائیلی لیڈر بھی شاہنوار فاروقی کو اپنا تحریراتی رہتما سمجھتے ہیں
    شیو سینا بھی شاہنواز فاروقی کے قلم کی طاقت کا نتیجہ ہے
    اور بش تو باقاعدہ بیعت تھا شاہنواز فاروقی سے…

    [جواب]

  23. زور شاہنواز فاروقی پر نہیں ان جیسوں پر ہے!

    [جواب]

  24. ثانوی بحث لفظ بابو پر بھی بڑی دلچسپ ہے لیکن ابھی تک ایک بھی ایسا ریفرینس نہیں ملا بوسیدہ سا بھی جس سے اس لفظ کا جڑ نقالی کرنے والے بندر میں تلاش کی جاسکے..

    http://en.wikipedia.org/wiki/Babu_%28title%29

    زیادہ تر انڈو زبانوں میں مختلف تلفظ کے ساتھ تکریم یا پیار کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے. یہاں تک کہ تیلگو جو ایک دڑاوری زبان ہے اس میں بھی ان معنوں میں موجود نہیں..

    لفظ بابو کے اس مخصوص پس منظر پر مستند حوالہ جات اگر فراہم کردیے جائیں تو بڑی دلچسپی اور علم میں اضافے کا باعث ہوں گے.

    [جواب]

  25. اجمل صاحب کی تصحیح کے لیئے مغلانیاں کبھی بھی ناچنے والی خانہ بدوش نہیں ہوتی تھیں یہ وہ خواتین ہوتی تھیں جو بطور گورنس یا ملازمین کی سپر وائزر کی حیثیت رکھتی تھیں،اور انتہائی شریف لوئر مڈل کلاس گھرانوں سے انکا تعلق ہوتا تھا گھر کے بچوں کو تہزیب اور تمیز سکھانے میں بھی انکا ایک کردار ہواکرتا تھا،

    [جواب]

  26. آپ شاید سمجھ نہیں پائے کہ میں اس وقت پاکستان سے دوراردو کی صرف تین کتابیں اپنے ساتھ رکھتی ہوں۔ کیونکہ مورجہ قانون کے تحت مجھے صرف بیس کلو وزن اپنے ساتھ لانے کی سہولت حاصل ہے۔ اس میں میری لائبریری کی کتابیں نہیں آ سکتیں۔ میں آپکی کسی چیز سے کترا نہیں رہی۔ بلکہ آپ سمیت ان تمام لوگوں پہ مجھے حیرت ہوتی ہے جو اس حقیقت کو ماننے میں تامل کرتے ہیں کہ پاکستان میں موجود کروڑوں کی تعداد میں مسلمان سب کے سب عرب سے نہیں آئے تھے۔ بلکہ ان میں ان ہندءووں اور سکھوں اور بدھوں کی اولادیں بھی شامل ہیں جو مسلمان ہوئے۔ بلکہ انکی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ بالکل اسی طرح ہندی زبان اردو سے پہلے جنم لے چکی تھی۔ اور اسکا اردو کے اوپر کافی اثر ہے۔ لغت میں الفاظ کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ انکا ماخذ ہندی لکھا ہوا ملا ہوگا۔ یہ کوئ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے شرمندگی کی بات نہیں۔ بلکہ پوری دنیا میں جو مسلمان موجود ہیں ان میں ان علاقوں کے مقامی مسلمان زیادہ ہیں۔ وہ سب عرب النسل نہیں ہیں۔ اور نہ ہی انکا شجرہ ء نسب عربوں سے جا کر ملتا ہے۔ ان علاقوں میں انکے مروجہ تہذیب کا انکے مذہبی رسومات پہ انکی طرز زندگی پہ گہرا اثر ہے جس سے آپ اس لئے صرف نظر کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کا مدعا یہ ہے کہ اسلام علیحدہ سے کوئ تہذیب لیکر آیا ہے۔
    اس بات پہ اصرار کرنا کہ نہیں یہ بابا سے بنا ہے۔ چہ معنی دارد، اگر یہ باپو سے متاثر ہو کر وجود میں آیا تو کیا ہوا، کیا یہ تسلیم کرنے سے آپ ہندو ہو جائیں گے ۔ اسی طرح آپکے دئیے ہوئے حوالہ جات بالکل صحیح اور کسی دوسرے کے بالکل غلط کیسے ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت جن مستند لغات کا حوالہ دیکر آپ اپنی بات پہ اٹل ہیں۔ انکے علاوہ بھی دوسرے علمی ذرائع موجود ہیں جا بالکل غلط نہیں ہو سکتے۔ جبکہ اس موقف کے سلسلے میں جو تہذیبی حوالے موجود ہیں وہ اسکی تائید بھی نہیں کرتے۔ جبکہ لغت سے ہٹ کر میں آپکو اسکے تہذیبی ماخذ بھی بتا رہی ہوں انہیں آپکو تسلیم کرنے میں عار ہے۔اردو ادب کی پرانی کتابوں کو جھانکیں اور دیکھیں کہ کہاں یہ لفظ بے عزتی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پھر کہونگی آپ کراچی میں رہتے ہیں۔ یہاں اورنگی ٹاءون میں بہاریوں کی بڑی آبادی ہے، ایکدن وہاں گذار لیں اور پھر کہیں کہ میں غلط کہہ رہی ہوں۔
    خود میرے اپنے گھر میں میرے والد صاحب ہم سب کو پیار سے بابو ہی کہتے تھے۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتی کہ یہ بے عزتی کا لفظ ہو سکتا ہے۔
    میں نے یہ کب آپ سے کہا کہ اگر اس چیز کو تسلیم کر لیا جائے کہ آپ جس زمین پہ آبادہیں اسکی تہذیب آپ پہ اثر انداز ہوتی ہے تو اس سے میرا مطلب آپکو لادین یا اسی دین کا ثابت کرنا ہے۔
    لسانیات ایک باقاعدہ علم ہے۔ جس میں الفاظ کی جڑیں معلوم کرکے ان سے منسلکہ مزید الفاظ کے معنی تلاش کئیے جاتے ہیں۔ اگر آپ اسلام کو پہر چیز پہ حاوی کر لیں گے تو آپ چیزوں کے وجود میں آنے کے اصل حقائق سے دور ہو جائیں گے۔ اسلام ڈیڑھ ہزار سال پران مذہب ہے اور دنیا کھربوں سال پرانی۔ جو زبان آج انسان بولتے ہیں اسے اس شکل میں آنے میں بھی ہزاروں سال کا سفر لگا ہے۔ اگر ہم اسی طرح اسلام کا نام ہر چیز میں لگانا شروع کر دیں تو دنیا کی تاریخ اور اسکا علم تو صرف ڈیڑھ ہزار سال کا ہو جائیگا۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دراصل ہماری تاریخ محمد بن قاسم کی آمد سے شروع ہوتی ہے اور ہماری تمام زبانوں میں جو الفاظ بولے جاتے ہیں انکا تانا باناکسی غیر مسلم زبان سے نہیں بنا۔ تو عربی بھی تو ڈیڑھ ہزارسال پہلے مسلمان ہوئ۔ اب آپکا کیا نکتہ ء نظر ہے۔
    اور جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ دراصل انسان ایکن سماجی مخلوق ہے۔ اور وہ دوسرے انسانوں سے ملکر رہنا پسند کرتا ہے اور ان سے ملا جلا کر اپنی تہذیب کو آہستہ آہستہ بدلنے پہ قادر ہے تو اس طرز فکر کو آپ سیکولیرزم کا نام دیدیں۔
    کیا مجھے اپکے طرز عمل پہ حیران نہیں ہونا چاہئیے کہ ایک طرف آپ اپنے آپکو قدامت پسند کہتے ہیں، یہ یاد رکھیں کہ میں نے اس قسم کے الفاظ اور القاب سے کسی کو اس وقت تک مخاطب نہیں کیا جب تک اس نے یہ اپنے لئیے پسند نہیں کیا۔ اچھا اور دوسری طرف آپ مسلمانوں کے تنزل کی طرف فکر مندی ظاہر کرتے ہیں۔ اب آپ خود منصفی سے بتائین، کیونکہ میں اب تک اپنی زندگی میں اس چیز سے محروم ہوں کہ ایکطرف تو میں جمود کو توڑنے کی بات کروں اور دوسری طرف میں تبدیلی بھی نہ چاہوں۔ اور اسکی خواہش کرنے والوں کی تذلیل کے لئیے کمر بستہ رہوں۔ اس طرز عمل کو آپ کیا نام دیں گے۔ میں اسے اپنے طور پہ کوئ نام نہیں دینا چاہتی۔

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    سب سے پہلے تو یہ کہوں گا کہ مذکورہ بالا بیان کے آخر میں آپ کی ایک بات سے مجھے ایسا لگا ہے کہ میری کچھ باتوں سے آپ کو ایسا محسوس ہوا ہے کہ گویا میں آپ کی تذلیل کرنا چاہ رہا ہوں۔ میں دل سے شرمندہ ہوں اور دست بستہ معذرت طلب کرتا ہوں۔ میری کسی بھی بات سے اگر آپ کا دل دکھا ہے تو اسے اپنے بھائی کی ایک غلطی سمجھ کر درگزر کیجیے گا۔ اب آتا ہوں آپ کی دوسری باتوں کی جانب۔

    محترمہ! مجھے بھی حیرت ہو رہی ہے کہ میری نجانے کس بات سے آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میں ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو عربی النسل سمجھتا ہوں۔ اس بات کو ماننے میں مجھے کوئی تامل نہیں ہے کہ برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کی بیشتر آبادی یہاں کی مقامی آبادی کی اولاد ہے باقی اگر کوئی جمعراتی سید بن گیا ہے تو ان کے قصے کہانیاں الگ بات ہیں :)

    ویسے میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ آپ ہندی کو اردو سے زیادہ قدیم زبان قرار دے رہی ہیں حالانکہ موجودہ ہندی خود اردو کے بطن سے پیدا ہوئی ہے البتہ سنسکرت ایک بہت پرانی زبان ہے جس کو “زندہ” کر کے ہندی کی شکل میں ایک نیا روپ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    اسلام کے حوالے سے آپ کی باتیں، انتہائی معذرت کے ساتھ کہوں گا، بچکانہ ہیں۔ میں ان کو تبصرے کے قابل بھی نہیں سمجھتا۔ آپ اسلام کو صرف ڈیڑھ ہزار سال پرانا مذہب سمجھتی ہیں؟ بہت افسوس ہوا یہ جان کر۔
    باقی آپ کی باتیں درست ہیں، میں ہر گز مصر نہیں ہوں کہ میرے دیے گئے حوالہ جات ہی درست ہیں لیکن کبھی کبھار بہت زیادہ کسی بات پر اصرار کرنا اور دوسرے کی بات کو مکمل طور پر رد کر دینا مدمقابل شخص کو اپنے موقف پر سختی اختیار کرنے کی جانب دھکیل دیتا ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہمارے ہاں شدت پسندی کو پروان چڑھانے میں سیکولر طبقوں کا ایک جابرانہ طرز عمل سب سے زیادہ اہم ہے، جنہوں نے بہرصورت اپنی بات کو مقدم قرار دینے کا کام سنبھال رکھا ہے۔

    میری “قدامت پسندی” پر آپ نے جو اعتراض جڑا ہے، اس کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ میں “جمود” کو توڑنے کے لیے کسی ایسی جدیدیت کا قائل نہیں ہوں جو مجھے میری اساس یعنی دین اسلام سے جدا کر دے۔ میں ہر اس جدیدیت کو اپنانے کو تیار ہوں جو میرے بنیادی عقائد سے میل کھاتی ہو اور ہر اس کو ٹھکرانے کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے مذہب سے متصادم ہو۔ ہر وہ تبدیلی اختیار کیے جانے کے قابل ہے جو ہمارے اس جمود کو توڑے لیکن وہ اسلام کے دائرے کے اندر ہونی چاہیے۔

    [جواب]

  27. جناب جعفر کی بات پہ اتنا عرض کرنا چاہونگی کہ اب جبکہ انہوں نے ان لوگوں کی ایک فہرست فراہم کی ہے جو کہ سفاکیت کا نشان سمجھے جاتے ہیں تو محض اس فہرست سے گذر کر ہی اندازہ ہوگا کہ یہ سب کے سب مسلمانوں کے خلاف نہ تھے اور نہ ہی ان سب لوگ مسلمان تھے۔ دنیا کی تاریخ اسلام کے بعد اور اس سے ہزاروں سال پہلے ایسے لوگوں کی سفاکیت سے بھری ہوئ ہے جنہوں نے اپنی حیوانی جبلت کی تسکین کے لئیے کبھی اسلام، کبھی نسل، کبھی زبان، کبھی جنس اور کبھی رنگ کو بہانہ بنایا ہے۔ ہر صورت میں اسی طرح کی دلیلیں دی جاتی ہیں جیسی کہ ہم آجکل سنتے رہتے ہیں یا پڑھتے ہیں۔
    ان سے صرف مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ عالم انسانیت کو لہولہان کیا گیا ہے۔ ان سب واقعات کی اصل جاننے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ اور جو ہماری کوتاہیاں ہیں انکو دور کرنے پہ غور کرنا چاہئیے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ روانڈہ میں انسانوں کو روندنے والوں نے کیوں انکی جان لی جبکہ وہ مسلمان بھی نہ تھے اور نہ اسلام کے حمائیتی۔ کولمبس نے جب امریکہ دریافت کر کے وہاں کی مقامی آبادی کو اپنا غلام بنایا تو وہان مسلمان موجود نہ تھے۔ حتی کہ جنوبی ایشیا میں جب انگریزوں نے اپنا تسلط قائم کیا تو یہ بنیادی طور پہ مسلمانوں کے خلاف نہ تھا۔ انگریزوں نے ایک عرصے تک دنیا کے بیشتر علاقوں کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ انگریز سرکار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ تو اسکی ان کالونیز میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔
    اب اگر ان میں سے چیدہ چیدہ واقعات کو اٹھا کر کہا جائے کہ یہ مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنے کی سازش ہے تو اس سے صرف ایک مقصد حل ہوتا ہے اور وہ یہ مسلمانوں نے پچھلے کئ سو سالوں میں جو نااہلیاں کی ہیں انہیں دوسروں کے کھاتے میں ڈالکر اپنی مظلومیت کا ووٹ اپنے عوام سے حاصل کرتے رہیں۔
    آپ اپنی مظلومیت کی داستانوں پہ خوش ہیں اور اس سے جوش میں آتے ہیں تو یہ ایک اور انسانی رویہ ہے۔ لیکن میں اپنی تمام کم عقلیت کے باوجود یہ کہہ سکتی ہوں کہ اس سے صاحب تحریر، انکے پڑھنے والے، اور ان کے مداح کسی بھی نتیجہ خیز حالت تک پہنچنے میں ناکام رہیں گے۔

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    آپ نے مذکورہ بالا تبصرے میں ایک بہت زیادہ اہم بات کہی ہے اور میرے خیال میں ہمارے تاریخ کے مطالعہ کرنے والے افراد کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کے ایک طبقے نے اپنے ہر طرز عمل اور نا اہلی کو چھپانے کے لیے دوسروں کی سازش کا جو کھاتہ کھول رکھا ہے، وہ بے عملی اور خود پسندی کا اہم ترین سبب ہے۔ اس پر کوئی غور نہیں کرتا کہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی وجہ کہیں مسلمانوں کی بے عملی اور منافقت تو نہ تھی؟ ہاں، مغرب ضرور مسلمانوں کا دشمن رہا ہے کیونکہ وہ انہیں اپنے مقامات مقدسہ پر قابض قوت سمجھتا تھا اور صلیبی جنگیں بھی اسی دشمنی کی آگ کو بجھانے کے لیے مسلط کیں لیکن عسکری کے بعد سیاسی اور پھر ذہنی میدان میں مسلمانوں کی شکست میں مغرب سے زیادہ ان کا اپنا قصور تھا۔
    اس حوالے سے آپ کا صاحب تحریر کو الزام دینا درست نہیں ہے۔ میں ان کی دیگر تحاریر بھی پڑھ چکا ہوں، جس سے ان کا موقف درست انداز میں سامنے آتا ہے۔

    [جواب]

  28. کون جیتا؟

    [جواب]

    ابوشامل Reply:

    بھائی یہ جیتنے ہارنے والی بحث نہیں ہے۔ اس کا مقصد محض ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنا ہے اور مخالف نقطہ نظر کے حامل افراد کی رائے جاننا ہے۔ کیوں عنیقہ صاحبہ درست کہہ رہا ہوں نا؟

    [جواب]

  29. آپ نے درست کہا ابو شامل۔

    [جواب]

  30. [...] روز قبل عنیقہ ناز صاحبہ کی ایک تحریر جو ابو شامل صاحب کے بلاگ پر نقل شاہنواز فاروقی کی ایک تحریر کے [...]

تحریر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔

فیس بک سے منسلک ہوں