شمال میں اجنبی

سن 920ء کے اوائل میں عباسی خلیفہ المقتدر کو صقالبہ (Slavs) کے بادشاہ کی جانب سے خط ملا، جو قازان کے شمال میں موجودہ روسی علاقے میں حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ نے خلیفہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد سکھانے کے لیے کسی وفد کو بھیجیں تاکہ لوگوں میں دین کا بنیادی شعور اجاگر کیا جاسکے اور اس کے علاوہ یہاں ایک مسجد بھی تعمیر کی جائے۔ کیونکہ اس زمانے میں یہ علاقے بہت دور دراز بلکہ دنیا کے سب سے بڑے شہر بغداد کے باسیوں کے لیے تو ایک اجنبی دنیا ہی شمار ہوتے تھے، اس لیے خلیفہ نے کافی پس و پیش کے بعد ایک سال بعد ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وفد جون 921ء میں بغداد سے روانہ ہوا۔ گو کہ اس سفارت کے نتائج کے بارے میں کافی معلومات موجود نہیں ہیں کیونکہ سفیر کی باضابطہ رپورٹ گردشِ زمانہ کی نذر ہو گئی لیکن اس مہم سے ہمیں اس وقت کی "اجنبی دنیا" کی ایک مسحور کن دستاویز ضرور ملتی ہے، ڈھائی ہزار میل کے سفر کی مکمل داستان، وفد کے ایک رکن ابن فضلان کے قلم سے۔ یہ رومی عہد کے بعد روس کے بیابانوں اور وہاں کے باسیوں کا پہلا تفصیلی احوال تھا۔ ابن فضلان کے اپنے مطابق میں اس سفرنامے میں "ترک، خزر، روسی، صقالبی اور باشکرد ممالک میں لوگوں کے مذہبی عقائد، بادشاہوں اور عام معاملات کے بارے میں جو کچھ دیکھا" شامل ہے۔

ابن فضلان کے سفرنامے کا ایک صفحہ

ابن فضلان کے سفرنامے کا ایک صفحہ

ابن فضلان کا پورا نام احمد ابن فضلان ابن العباس ابن راشد ابن حماد تھا، اور انہوں نے 921ء میں عباسی خلیفہ المقتدر کے حکم پر نہ صرف تاریخی سفر کیا بلکہ اس کی پوری داستان بھی قلمبند کی۔ طویل عرصے تک ان کے اس شاندار سفرنامے کا محض ایک معمولی حصہ ہی دنیا کے سامنے رہا یہاں تک کہ معروف ترک دانشور احمد زکی ولیدی طوغان نے مکمل سفرنامہ ڈھونڈ نکالا۔

یہ تاریخی سفرنامہ منظر عام پر آنے کی داستان بھی عجیب ہے۔ شروع کرتے ہیں کچھ زکی ولیدی کے تذکرے سے۔باشکردستان (موجودہ روس کا ایک مسلم اکثریتی علاقہ) سے تعلق رکھنے والے احمد زکی نے انقلابِ روس کے زمانے میں (یعنی 1917ء کے قریب قریب) آزاد باشکردستان حکومت کے قیام کا اعلان کیا لیکن حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انہیں اشتراکی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا۔ بعد ازاں مسلمانوں کے حوالے سے سوویت حکومت کے ساتھ اختلاف پیدا ہونے اور باشکردستان پر روس کا قبضہ ہونے کے بعد انہیں اپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا۔

سوویت افواج سے بچتے بچاتے وہ وسط پہنچے جو اس وقت سوویت اتحاد کے خلاف مشہور 'بسماچی تحریک' کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ آپ نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا لیکن انور پاشا کی شہادت کے بعد جب تحریک دم توڑ گئی تو آپ ایران کے لیے روانہ ہوگئے۔ یہ زندگی کے سخت ترین ایام تھے۔ ایک تو وطن چھوڑنے کا دکھ پھر ایران میں داخلے سے قبل ہی ایک سالہ بیٹے کی موت نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بے سر و سامانی کے عالم میں وہ اپنی اہلیہ نفیسہ خانم کے ساتھ ایران آ گئے اور یہاں پہنچتے ہیں نفیسہ بھی ہمیشہ کے لیے ان کا ساتھ چھوڑ گئیں۔

دل گرفتہ احمد زکی مشہد پہنچے، ترکی میں اپنے دوستوں کو اپنے حالات سے آگہی فراہم کرنے کے لیے خطوط لکھے اور پھر کتابوں سے اپنی محبت سے مجبور ہو کر مشہد میں کوئی کتب خانہ ڈھونڈنے نکلے۔ کسی کے بتانے پر امام رضا کے مزار سے ملحقہ کتب خانے میں پہنچے، جہاں انہیں چند نایاب نسخے کھنگالنے کا موقع ملا جس میں دسویں صدی عیسوی کا مشہور زمانہ ابن فضلان کا سفرنامہ بھی شامل تھا۔

یوں تاریخی دستاویز، جسے کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ گردشِ زمانہ کی نذر ہو کر ضایع ہو چکی ہے، احمد زکی کی تجسس پسند طبیعت کے باعث پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی۔

معروف ترک مؤرخ زکی ولیدی طوغان (بائیں) نے ابن فضلان کے سفرنامے کا اصل نسخہ مشہد سے دریافت کیا

معروف ترک مؤرخ زکی ولیدی طوغان (بائیں) نے ابن فضلان کے سفرنامے کا اصل نسخہ مشہد سے دریافت کیا

بہرحال، اب واپس آتے ہیں ابن فضلان کے سفرنامے کی جانب، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تاریخی لحاظ سے اس علاقے کا درست ترین سفرنامہ ہے۔ ابن فضلان کے ذاتی تاثرات میں خصوصاً سخت سردی کا ذکر ہے جو بغداد جیسے گرم علاقوں کے رہنے والے فرد کے لیے واقعی حیرت انگیز تجربہ تھا۔

بخارا سے روانگی کے بعد شمال کی جانب سفر کرتے ہوئے ابن فضلان کو یقین ہی نہیں آتا تھاکہ اتنی سردی بھی پڑ سکتی ہے۔ سفر کے پہلے پڑاؤ کے طور پر انہوں نے بحیرۂ ارال کے جنوب میں موجودہ کنگراڈ کے قریب "الجرجانیہ" میں تین ماہ گزارے اور موسم "بہتر" ہونے کا انتظار کیا۔

ابن فضلان لکھتے ہیں کہ " میں نے دیکھا کہ سخت سردی کی وجہ سے شہر اور بازار خالی پڑے ہیں اور جدھر کا رخ کرتے کوئی ذی حس نظر نہ آتا۔ ایک مرتبہ حمام سے نکل کر اپنے گھر کی جانب جاتے ہوئے میری نظر اپنی داڑھی پر پڑی۔ وہ درحقیقت برف کا ڈھیلا بن چکی تھی اور مجھے اسے آگ کے سامنے بیٹھ کر پگھلانا پڑا۔ اس دیار میں سردی کی شدت سے زمین پر دراڑیں پڑ جاتی ہیں، اور میں نے ایک بڑے درخت کو بھی اسی وجہ سے دو ٹکڑوں میں تقسیم دیکھا۔"

بالآخر، فروری میں، آمو دریا پگھلنا شروع ہوا اور ابن فضلان کی جماعت نے شمال مشرق کی جانب سفر کرنے کی تیاریوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے دو کوہانوں والے اونٹ اور خاصی مقدار میں خوراک کا سامان خریدا، اور مقامی افراد کی جانب سے تنبیہ کے باوجود، کہ وہ کبھی واپس نہیں آ سکیں گے، وہ سفر کے لیے نکل پڑے۔ انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا، اور ابن فضلان نے بھی تسلیم کیا، کہ مقامی افراد مبالغہ آرائی نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ بحیرۂ قزوین کے شمال میں موجود علاقوں میں پہنچے تو انہوں نے پایا کہ گزشتہ مہینوں میں اب تک جس سردی کا وہ سامنا کر رہے تھے، وہ تو اس کے مقابلے میں گرمی کا موسم تھا۔ انہیں اندازہ ہوا کہ مزید گرم کپڑے پہننے چاہئیں: "ہم نے اتنے کپڑے پہن رکھے تھے کہ صرف ہماری دو آنکھیں ہی ظاہر تھیں۔ حتیٰ کہ جوتوں کے اوپر بھی جوتے چڑھائے ہوئے تھے اور حالت یہ تھی کہ اونٹ کے اوپر بیٹھ کر ہم بمشکل ہی کوئی حرکت کر پاتے تھے۔"

وہ ایک کٹھن سفر کے بعد بالآخر ترکانِ اوغز کے علاقے میں پہنچے، جو کوہ اورال اور بحیرۂ قزوین کے درمیان کا علاقہ تھا۔ ابن فضلان کے مطابق اوغز خانہ بدوش تھے، وہ خیمے بناتے تھے، پھر خود جہاں جاتے، وہاں انہی خیموں کو ساتھ لے جاتے۔" ابن فضلان کو یہاں کی غربت دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔البتہ انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ اوغز قبیلے کے پاس جانوروں کے بہت بڑے ریوڑ ہیں۔" میں نےایسے افراد کو دیکھا جن کے بعد 10 ہزار گھوڑے اور ایک لاکھ بھیڑیں تک تھیں" ۔

ابن فضلان کے لیے دکھ کا ایک اور سبب یہ تھا کہ اوغز اسلام کے بارے میں بہت کم جانتے تھے اور اُس نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کرنے اور ایمان کی بنیادیں بیان کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں اوغز قبیلے کے سردار کو خلیفہ کے خطوط پہنچانے کے بعد ابن فضلان نے شمال مغرب کی جانب اورال اور وولگا (نہر اثل) کےدرمیان سفر کیا اور ترکوں کے ایک اور قبیلے پچنک کے علاقے میں پہنچے۔ یہاں سے وہ نکل کر وہ 12 مئی 922ء کو، یعنی 11 ماہ کے طویل سفر کے بعد، شاہِ صقالبہ (slavs) کے خیموں تک پہنچے اور انہیں بھی خلیفہ کا خط پہنچایا۔ انہوں نے بادشاہ کو قیمتی تحائف بھی دیے جن میں خوشبویات، قیمتی کپڑے اور موتی بھی شامل تھے۔

آنے والے دن بغداد کے مہمان وفد نے مذہب اسلام کے بارے میں شاہ کے ساتھ گفتگو میں گزارے، جس کے دوران بادشاہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ خلیفہ اسے ایک قلعہ اور مسجد قائم کرنے کے لیےمالی مدد فراہم کرے۔

زمین کے اس انتہائی شمالی علاقے کی جغرافیائی و موسمیاتی خصوصیات کے علاوہ چند مظاہر فطرت بھی ابن فضلان کے لیے سخت حیرت کا باعث تھے، جیسا کہ شفقِ قطبی یعنی Northern Lights۔ انہیں اس قدر حیرت ہوئی کہ شفق کے بارے میں بادشاہ تک سے سوال کر ڈالا جس کا جواب انہیں یہ ملا "ہمارے آباؤ اجداد کہتے ہیں کہ یہ مومن اور کافر جن ہیں؛ ہر رات ان کے درمیان لڑائی ہوتی ہے اور یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے۔"

زمین کی محوری گردش میں جھکاؤ کے باعث قطب شمالی کی طرف جیسے جیسے سفر کرتے جائیں، دن اور رات کے اوقات میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ آجکل ایک عام شخص بھی اس تبدیلی کے بارے میں جانتا ہے لیکن 1100 سال قبل ابن فضلان کے لیے یہ چیز حیرت کا سامان تھی۔ وہ اس کی وجہ سے نمازوں کے اوقات پر پڑنے والے فرق کے باعث بھی سخت پریشانی کا شکار ہوا۔ جن دنوں ابن فضلان ان انتہائی شمالی علاقوں میں پہنچا ان دنوں راتیں مختصر اور دن بڑے ہوا کرتے تھے۔

ابن فضلان نے علاقے کی نباتات و جمادات، سماجی رسومات، خوراک و مشروبات اور مختلف قبائل کے ملبوسات کے بارے میں بھی لکھا۔ اس کے بیانات نہ صرف زندگی سے بھرپور تھے بلکہ آج بھی درست ترین قرار دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک "عفریت" کی ہڈیوں کا بھی ذکر کیا ہے جو ممکنہ طور پر فیل پیکر (mammoth) کی باقیات ہو سکتی ہیں۔

لیکن اس سرگزشت کا سب سے دلچسپ حصہ صقالبہ کے ساتھ تجارت کرنے والی ایک اور قوم کے بارے میں ہے: "قومِ روس" – جو اس وقت اسکینڈے نیویا کے وائی کنگ قبائل میں ایک تھی۔ اسی قوم نے بعد ازاں قدیم روس کی مرکزی ریاستوں نووگوگراد اور کیف کی بنیاد ڈالی۔ وائی کنگز اس وقت انگلستان اور آئرستان (آئرلینڈ) کے ساحلوں پر دہشت پھیلا رہے تھے حتیٰ کہ شمالی افریقہ اور بحیرۂ روم کے ساحل بھی ان کی غارت گریوں سے بچے ہوئے نہیں تھے۔

ابن فضلان کے سفر کے وقت وائی کنگز یورپ میں پوستین کے علاوہ عنبر اور چند دیگر اشیا کی بڑے پیمانے پر تجارت کیا کرتے تھے۔ قومِ روس کے بارے میں ابن فضلان کا بیان اس وقت کے اُن معدودے چند تذکروں میں سے ایک ہے، جس میں انہیں خون کے پیاسے حملہ آوروں کے بجائے تاجر کے طور پر دکھایا گیا ہے اور ان کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ سے قبل لکھا گیا ہے۔ ابن فضلان نے ان کی جسمانی خوبصورتی، قد کاٹھ، ڈیل ڈول اور طاقت کی تعریف کی ہے اور یہ تک لکھا کہ ان سے زیادہ خوبصورت قوم میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ فضلان نے قوم روس کے باشندوں کے حسن کو کھجور کی درخت سے تشبیہ بھی دی۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ "وہ نہ چوغہ پہنتے ہیں اور نہ کفتان، بلکہ مرد ایسا لباس پہنتے ہیں جو ان کے جسم کے صرف ایک پہلو کو ڈھانپتا ہے جبکہ دوسرا ہاتھ کھلا ہوتا ہے۔ قوم کے ہر فرد کے پاس ایک کلہاڑا، ایک چوڑے پھل کی تلوار اور ایک چاقو موجود ہوتا ہے، اور وہ ان تینوں کو کبھی خود سے جدا نہیں کرتے۔ ان کی تلواروں کا پھل فرانسیسی تلواروں کی طرح بہت چوڑا ہے۔"

سفرنامے میں قوم روس کے مردوں میں جسم گودوانے (tattooing ) کی رسم کا بھی ذکر ہے جس کے مطابق تمام مرد انگلیوں کی پوروں سے لے کر گردن تک اپنا پورا جسم گودواتے ہیں۔ جس میں درختوں اور دیگر چیزوں کی شکلیں بنی ہوئی ہوتی ہیں۔

ابن فضلان کا بیان کردہ قوم روس یعنی وائی کنگ سردار کی آخری رسومات کا احوال اس قوم کی وحشی حرکات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہ تصویر پولینڈ کے معروف مصور ہنریک سمیرازکی نے 1883ء میں بنائی تھی

ابن فضلان کا بیان کردہ قوم روس یعنی وائی کنگ سردار کی آخری رسومات کا احوال اس قوم کی وحشی حرکات کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہ تصویر پولینڈ کے معروف مصور ہنریک سمیرازکی نے 1883ء میں بنائی تھی

ابن فضلان کے اس تاریخی سفرنامے کو جس حصے کو مغرب میں بہت زیادہ پذیرائی ملی، وہ وائی کنگز کے جنازے کے بارے میں ہے۔ مہذب دنیا کا اس فرد کو ان وحشی حرکات کو دیکھ بہت تعجب ہوا۔ تفصیلاً ذکر کرتے ہوئے ابن فضلان نے لکھا ہے کہ میرے قیام کے قوم روس کے ایک سردار کی موت واقع ہو گئی۔ جس کی لاش کو ایک بحری جہاز میں رکھا گیا جبکہ اس کے زیر استعمال تمام اشیا اور تلوار اس کے پہلو میں رکھ دی گئیں۔ پھر اس کے کتے، مویشی، گھوڑے قربان کر کے ان کا گوشت جہاز میں پھینکا گیا یہاں تک کہ اس کی غلام لڑکیوں کو بھی قربان کر دیا جاتا تاکہ وہ اگلے جہان میں اس کے ساتھ جائیں۔پھر اس کی کشتی اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ نذر آتش کر دی جاتی۔

ابن فضلان کے بیانات کی تصدیق دیگر کئی حوالوں سے بھی ہوتی ہے لیکن جو چیز انہیں سب سے نمایاں کرتی ہے وہ واضح انداز میں بیان کردہ تفصیلات ہیں۔ ان کی کہانی گیارہ سو سال قبل کی وحشی دنیا کی کہانی ہے جسے بغداد کے ایک نازک مزاج سفیر کی آنکھوں سے دیکھا گیا۔

1999ء میں ہدایت کار جان میک ترنان نے ایک فلم The 13th Warrior بنائی جس میں معروف اداکار انتونیو بیندرس نے ابن فضلان کا کردار ادا کیا۔ گو کہ فلم کی کہانی ابن فضلان کے حقیقی واقعات سے ماخوذ نہیں بلکہ یہ مائیکل کرچٹن کے ناول ایٹرز آف دی ڈیڈ (Eaters of the dead) سے اخذ کی گئی لیکن اس فلم کے ذریعے اسلام کے زرّیں دور کے اس کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس مضمون میں ابن فضلان کے حصے کے لیے وکی پیڈیا اور سعودی ارامکو ورلڈ شمارہ مارچ-اپریل 1979ء میں شایع ہونے والی کیرولین اسٹون کی تحریر "Ibn Fadlan and the Midnight Sun" سے جبکہ زکی ولیدی طوغان کے لیے ثروت صولت کی کتاب "ترکی اور ترک" سے مدد لی گئی ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

26 تبصرے

  1. بہت عمدہ معلومات ملیں، زبردست

  2. کفایت اللہ ہاشمی says:

    ماشاءاللہ . بہت خوبصورت تحریر ہے. یہ سفرنامہ میں نے اردو میں پڑھا ہے. مختصر ہے لیکن پُر از معلومات

    • Shakeel Yousuf says:

      ٰI have been looking for this book for a long time till I came across this page and got the news that its available. since you have already read it, I hope that you will be kind enough to tell me where can I have a copy of this travelogue? I will be thankful to you for this kindness

  3. ظہیر اشرف says:

    شکریہ اس معلوماتی تحریر کے لئے. فلم ڈاؤنلوڈنگ میں ہے اور سفرنامے کی تلاش جاری ہے.

  4. عمدہ اور معلوماتی تحریر کا بہت بہت شکریہ جناب

  5. اس سفر نامے سے میری آگاہی اس وقت ہوئی جب اشکینازی یہودیوں کی تاریخ پر مبنی ایک کتاب ایک دوست نے پڑھنے کو دی. کتاب کا نام The Thirteenth Tribe ہے. اس نے کافی حد تک اس سفرنامے سے اقتباسات لے کر تاریخ بیان کرنے کی کوشش کی.

    کیا آپ کے پاس یہ سفرنامہ کسی بھی شکل میں موجود ہے؟

    • ابوشامل says:

      برادر، میرے پاس یہ سفرنامہ موجود نہیں۔ ارادہ ہے کچھ روز میں اردو بازار جا کر معلوم کرنے کا۔ اگر مل گیا تو بتا دوں گا۔

  6. اللہ صحت اور خوشحالی سے مالا مال کرے ۔ آپ نے میری آدھی صدی سے لگی پیاس بجھانے میں مدد کی ۔
    ایک ٹائپ کی غلطی ہو گئی ہے شاید ۔ سال 922ء ہونا چاہیئے میرے خیال میں
    ”سے وہ نکل کر وہ 12 مئی 1922ء کو، یعنی 11 ماہ کے طویل سفر کے بعد، شاہِ صقالبہ (slavs) کے خیموں تک پہنچے اور انہیں بھی خلیفہ کا خط پہنچایا“۔

  7. علی says:

    بھائیو کسی کے ہاتھ لگ جائے سفر نامہ تو آنلائن شئیر کر کے ہماری دعائیں بھی لے سکتے ہیں۔ باقی مضمون کی تو کیا ہی بات ہے ۔ لا جواب ایسی باتیں تو بڑے بڑے لوگوں کو معلوم نہیں ہونگی ہاں امریکی و یورپی تاریخ کے بارے ضرور بتا دیں گے

    • ابوشامل says:

      میں کوشش کروں گا کہ اسے آن لائن پیش کر سکوں۔ باقی بڑوں بڑوں کو تو چھوڑیں، ہم جیسے چھوٹوں کو بھی یہ باتیں پتہ ہیں 🙂

  8. انتہائی زبردست اور کارآمد تحریر ہے۔واقعی ایسے تاریخی نادر معلومات کا بہت سوں کو پتہ تک نہیں ہوتا۔
    ابن فضلان کے بارئے میں جان کر کافی حیرت ہوئی کہ کیسے کیسے لوگ گذرئے ہیں ۔

  9. بہت عمدہ اور نہایت معلوماتی تحریر ہے. اس خطہ کی تاریخ کے حوالے سے ہمیشہ ایک تشنگی کا احساس رہا ہے جسے آپ بخوبی پورا کر رہے ہیں.

  10. مکی says:

    باقی تو سب ٹھیک ہے مگر یہ ذکی ولیدی والی کہانی میرے لیے نئی ہے کہ انہوں نے 1917ء میں ابن فضلان کی اصل رپورٹ ایران سے ڈھونڈ نکالی.. آپ بھی جانے کہاں کہاں سے کیا کیا ڈھونڈ نکالتے ہیں 🙂

    میری ناقص معلومات کے مطابق رپورٹ یا مخطوطے کا ایک حصہ غالباً 1817 میں روس میں دریافت ہوا تھا جو جرمنی سے 1823 میں شائع ہوا، اس کے علاوہ 1878 میں قسطنطینیہ میں برطانوی سفیر سر جان ایمرسن کی وفات کے بعد ان کے کتب خانے سے اس رپورٹ کے دو مخطوطے پائے گئے تھے جن کے بارے میں آج تک کبھی پتہ نہیں چل سکا کہ سر جان ایمرسن نے انہیں کہاں سے اور کب حاصل کیا تھا، ان دونوں مخطوطوں میں ایک احمد الطوسی کی عربی زبان میں کوئی جغرافیا کی کتاب تھی جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ دیگر کسی بھی مخطوطے سے یہ زمانی لحاظ سے ابن فضلان کے اصل مخطوطے سے قریب ترین ہے اس کے باوجود محققین کا خیال ہے کہ طوسی کی کتاب قابلِ بھروسہ نہیں اور غلطیوں اور تضادات سے پُر ہے جبکہ دوسرا مخطوطہ امین الرازمی کا ہے جس کی تاریخ اندازاً کوئی 1585 تک کی بتائی جاتی ہے اور یہ لاطینی زبان میں لکھا ہوا ہے جو کہ ابن فضلان کے اصل عربی نسخے سے براہ راست ترجمہ ہے اور ایسی اضافی تفصیلات پر مشتمل ہے جو کہ کسی اور نسخے میں نہیں تاہم آپ کے بیان کردہ ذکی ولیدی کے نسخے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا..

    1934 میں یونان سے ایک اور مخطوطے کی دریافت کی بھی شنید ہے.. فلم کا تذکرہ تو آپ نے کر ہی دیا ہے، اس کے علاوہ ابن فضلان پر 2007 میں سوریا کے نجدہ انزور نے تیس قسطوں پر مبنی ایک ڈرامہ بھی تیار کیا تھا جس کا نام "سقف العالم" ہے، اس ڈرامے میں سوریا کے اداکار "قیس الشیخ نجیب" نے ابن فضلان کا کردار ادا کیا تھا..

    سعودی عرب میں قیام کے دوران "مکتبہ العبیکان" میں کتب گردی کرتے ہوئے "ایٹرز آف دی ڈیڈ" کا عربی ترجمہ بعنوان "مغامرات سفیر عربی" ہاتھ لگا جو کہ مکتبہ العبیکان کا ہی شائع کردہ تھا مگر کتاب شناسی دیکھیے کہ خریدا نہیں 😀

    • ابوشامل says:

      زکی ولیدی کی اپنی سرگزشت بہت دلچسپ ہے۔ ہمارے ہاں کیونکہ ترک تاریخ بہت زیادہ نہیں پڑھائی جاتی اور خود بھی عام تاریخ پڑھنے والوں کو ہند، عرب و عجم کے علاوہ کسی اور تاریخ سے زیادہ دلچسپی نہیں اس لیے لوگ ان کے بارے میں کم جانتے ہیں ورنہ زکی ولیدی سے بڑا نام تو ترک تاریخ کے حوالے سے پیدا ہی نہیں ہوا۔ میں کوشش کروں گا کہ جلد ہی زکی ولیدی کے حوالے سے بھی ایک تحریر لکھوں۔
      باقی اس مخطوطے کے حوالے سے معلومات میں اضافے کا بہت شکریہ۔ اور ہاں، آپ مغامرات سفیر عربی لےہی لیتے ، اگر نہیں لیا تو 13th Warrior دیکھ لیں 🙂

      • مکی says:

        تجویز کا شکریہ تاہم میں فلم اور ڈرامہ دونوں دیکھ چکا ہوں.. 🙂

      • کفایت اللہ ہاشمی says:

        زکی ولیدی طوغان نے پہلی مرتبہ اس کا جرمن ترجمہ مع حواشی مکمل عربی متن کے ساتھ ایک رسالے میں شائع کروایا تھا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ تھا. اگرچہ کہ روسی زبان میں یہ پہلے بھی شائع ہو چکا تھا.

  11. برادر فہد ! نہایت معلوماتی مضمون ۔سدا خوش آباد

  12. بہت عمدہ مضمون برادرم ابوشامل۔ وائ کنگ عہد میں ایک عرب کی آنکھوں سے نورس تاریخ نہائت دلچسپی کی حامل ہوگی۔ اگر اردو ترجمے کی بابت کچھ پتا چلے تو ضرور بتائں ورنہ پھر یہ انگریزی ترجمہ ہی لینا پڑے گا۔
    http://www.amazon.com/Ibn-Fadlans-Journey-To-Russia/dp/155876366X

    • ابوشامل says:

      میں ایک دو روز میں تلاش کی مہم پر نکلوں گا، اگر مل گیا تو کوشش ہوگی کہ کچھ حصے اسکین کروا کر پیش کروں۔

  13. عبدالخالق بٹ says:

    السلام علیکم
    حسب عادت مضمون کا مطالعہ تاخیر کا شکار رہا ۔ بہر کیف مضمون بہت اعلی بلکہ داد سے بالا تر ہے ، جیسا کہ آپ سے بات ہوئی تھی یہ سفر نامہ اردو میں غالبا اسلامک پبلیکیشنز کے زیر اہتمام طبع ہوچکا ہے ۔اب تو اس کا مطالعہ کیے ہوئے بھی دس بارہ سال ہوچکے ہیں آپ کے مضمون نے اس کی یاد تازہ کردی ۔ مضمون میں جہاں فیل پیکر (mammoth) کا ذکر ہے وہاں ابن فضلان نے مقامی افراد کے حوالے سے یاج ماجوج کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ مخلوق پہاڑ کے دوسری جانب آباد ہے یہ اتنے قوی الجثہ اور ہیبت ناک ہوتے ہیں کہ کوئی حاملہ دیکھ لے تو اس کا حمل گرجائے ۔ ابن فضلا ن نے کے مطابق اس مخلوق کا ایک فرد پہاڑ سے آبادی کی جانب آگیا تھا جسے لوگوں نے گھیر کر پھانسی دے دی۔ اس کی ایک پسلی کسی بڑی کمان جیسی تھی ۔۔ حافظے میں کچھ ایسا ہی رہ گیا ہے ، تاہم پورا سفر نامہ ہی بہت دلچسپ ہے آپ کے مضمون کے بعد اسے دوبارہ پڑھنے کی تحریک ہوئی ہے پر مسئلہ یہ ہے کہ وہ کتابوں میں کہیں دبا ہوا ہے ۔

  14. عبدالخالق بٹ says:

    زیر بحث موضوع سے قطع نظر mammoth کے حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ رحمتہ اللہ کی رائے یہ کہ ابراھہ کے ساتھ جو ہاتھی تھا وہ mammoth تھا جسے عربوں نے محمود کردیا ورنہ حبشی فوج میں خالص عربی نام کے ہاتھی کا ہونا ہی اچھنبے کی بات ہے ۔ اس بحث میں ایک اور نقطہ جو انہوں نے بیان کیا ہے وہ یہ کہ فوج کے ساتھ ہاتھی صرف ایک ہی تھا۔ خیر بات کہیں سے کہیں چل نکلی باقی باتیں ملاقات پر ہوں گی نشااللہ

    • ابوشامل says:

      اضافی معلومات کا بہت شکریہ بٹ صاحب، آپ کا بھیجا گیا مضمون بھی بہت عمدہ ہے، میں جلد از جلد شایع کرتا ہوں۔

  15. کفایت اللہ ہاشمی says:

    تمام حضرات کیلئے بتاتا چلوں کہ یہ سفرنامہ اردو میں ادارہ معارف اسلامی، منصورہ لاہور نے شائع کیا ہوا ہے. اگرچہ کہ ان سے پہلے بھی اسے کسی نے شائع کیا ہوگا کیونکہ مترجم نے اپنے دیباچے میں تاریخ 1966ء کی لکھی ہے.
    کتاب : سیاحن نامہ روس
    مصنف : احمد ابن فضلان
    ترجمہ : شیخ نذیر حسین
    باہتمام : ادارہ معارف اسلامی ، منصورہ لاہور.

    عام کتابوں کی دکانوں سے مشکل ہی ہے کہ ملے. کیونکہ میں جب رواں سال کے اوائل میں منصورہ گیا تھا تو ادارہ کی دکان کے باہر ہی اِس کتاب کے چند نسخے ایسی کتابوں کے ساتھ رکھے ہوئے تھے جو کہ اسٹاک میں تقریبا ختم ہورہی تھی. آپ بذریعہ وی- پی منگوا سکتے ہیں.

  16. عرفان عادل says:

    میں اتفاق سے عید کی چھٹیوں کے باعث گذشتہ دو دنوں سے ابن فضلان کے اس سفرنامے کا مطالعہ کررہا تھا . جس کے بارے میں کفایت اللہ ہاشمی صاحب نے معلومات دی ہیں . واقعی بہت دلچسپ سفرنامہ ہے بالخصوص اس تناظر میں کہ آج کی جدید قومیں کئی اعتبار سے اپنے ماضی کی عکاس ہیں .
    ابن فضلان کے اس سفرنامے میں اس امیر کی موت کا بڑا تفصلی تذکرہ ہے . اور بہت ہی کراہیت آمیز رسوم ورواج کو انہوں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے . مثلا یہ کہ مرنے والے کے ساتھ ستی ہونے والی خادمہ سے مختلف لوگ زنا کاری کرتے اور کہتے کہ جاکرہمارے دوست سے ہمارا تذکرہ کرنا .
    علاوہ ازیں روس کے بارے میں ابن فضلان کے ان الفاظ کا تذکرہ کیا گیا کہ ” یہ قوم گندگی اور غلاظت کے حوالے اقوام عالم میں سب سے بڑھ کرہیں “ . ( یادداشت کی بنیاد پر مفہوم بیان کیا گیا ہے )
    اس پہلو سے ابن فضلان نے بیان کیا ہے کہ جب کسی دعوت میں یا کسی اور موقع پر اہل خانہ اجتماعی طور پر بیٹھتے ہیں تو خادمہ ایک برتن میں گندہ پانی لاتی ہے سربراہ خانہ اس سے منہ دھوتا ہے کھنکارتا ہے بال صاف کرتا ہے اور سب کچھ اسی برتن میں ڈالتا جاتا ہے . خادمہ اسی برتن کو سب کے سامنے رکھتی اور سب اسی برتن سے اپنی مذکورہ بالا حاجات پوری کرتے ہیں .
    نیز ابن فضلان نے ان کی عریانی وبے حیائی کی عادات ورسوم کے بارے میں بتلایا ہے
    الغرض یہ کہ پورا سفرنامہ اس وقت کے اس معاشرے کی پوری عکاسی کرتا ہے .

  17. م۔ش۔ا says:

    بڑی معلوماتی بحث ہو رہی تھی، لیکن ابھی تک سفر نامہ کا سافٹ تشاکل نہیں پیش کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *