ٹیگ: ’جدیدیت‘


سیکولر ازم اور وقار

تحریر: شاہنواز فاروقی
مغرب کا معاملہ عجیب ہے۔ وہ سیکولر مسلمانوں سے کہتا ہے کہ تم مسلمان کیوں ہو اور وہ جو صرف مسلمان ہیں ان سے کہتا ہے کہ تم سیکولر کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے ایسے عناصر ہیں جو مغرب اور اس کے سیکولر ازم کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے چند روز پیشتر ہی کہا ہے کہ اگر پاکستان سیکولر ہوجائے تو دنیا میں اس کا وقار بلند ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 2A سے جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے مذہبی جماعتیں اکثر فائدہ اٹھاتی ہیں تو کیا واقعتاً اگر ہم سیکولر ہوجائیں تو دنیا میں ہمارا وقار بلند ہوسکتا ہے؟ لیکن ہر دعویٰ اپنی شہادتیں طلب کرتا ہے۔ البتہ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ مارشل ٹیٹو کے سابق یوگوسلاویہ میں رہنے والے بوسنیا وہرزیگووینا کے مسلمان سرتاپا سیکولر تھے‘ اتنے سیکولر کہ انہوں نے اپنے مسلم ناموں تک کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عالمی برادری نے انہیں کتنا وقار فراہم کیا؟ یوگوسلاویہ ٹوٹا توبوسنیا ہرزیگوینا کی”سیکولر مسلمانوں” کے لیے آزادی کا امکان پیدا ہوا مگر امریکا اور پورے یورپ نے کہا کہ ارے یہ مسلمان سیکولر تھوڑی ہیں یہ تو صرف مسلمان ہیں چنانچہ انہوں نے سربوں اور کروشیائی باشندوں کو مسلمانوں پر چھوڑ دیا اور انہوں نے ساڑھے تین سال کی جنگ میں دو سے ڈھائی لاکھ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔ سربوں نے یہ کہہ کر مسلمانوں کو قتل کیا کہ تم نہیں تو کیا تمہارے آباواجداد تو مسلمان تھے۔ آپ کو معلوم ہے، بوسنیا میں ہونے والے اکثر حملوں کی سب سے بڑی اور تلخ حقیقت کیا تھی؟ یہ کہ ان میں سے اکثر حملے پڑوسیوں نے کیے۔ ان پڑوسیوں نے جو چالیس اور پچاس سال سے مسلمانوں کے پڑوسی تھے۔
سوال یہ ہے کہ اس تجربے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ کیا یہ کہ سیکولر ازم نے مسلمانوں کا وقار عالمی برادری میں بہت بلند کردیا۔ یہ تو ایک قوم کی مثال ہوئی۔ دوسری مثال ایک رہنما یعنی یاسر عرفات کی ہے۔ یاسر عرفات بنیاد پرست نہیں تھے۔ وہ اپنی نہاد میں ایک قوم پرست اور سیکولر رہنما تھے مگر مغرب ان کو دہشت گرد کہتا تھا۔ اسرائیل ان کے خون کا پیاسا تھا۔ یاسر عرفات بالآخر مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے کے تحت وضع کیے گئے امن سمجھوتے پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انہوں نے اس سمجھوتے پر دستخط بھی کردیے مگر اسرائیل نے اس عظیم سیکولر رہنما کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی ایک شق پر بھی عمل درآمد کرکے نہ دیا۔ اسرائیل نے یاسر عرفات کو بالآخر ان کے دفتر میں محصور کردیا اور تقریباً تین سال تک محصور رکھا۔ یاسر عرفات اس دفتر سے نکل کر فرانس پہنچے تو چند ہی روز میں ان کا نہایت پراسرار حالات میں انتقال ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ یاسر عرفات کا سیکولرازم ان کے اور خود ان کی قوم کے کتنا کام آیا؟
تیسری مثال ایک ملک یعنی ترکی کی ہے۔ پاکستان تو اسلامی جمہوریہ ہے مگر ترکی تو آئینی اعتبار سے سیکولر ہے اور دوچار سال سے نہیں 70سال سے سیکولر ہے مگر اس کے باوجود ترکی چالیس برس سے یورپی اتحاد کے دروازے پر کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے اندر آنے دو اور ترکی سے کہا جارہا ہے کہ تم تو مسلمان ہو۔ سوال یہ ہے کہ ترکی کے سیکولر حال اور سیکولر ماضی نے عالمی برادری میں ترکی کے وقار کو کتنا بلند کردیاہے اور ترکی کا سیکولر ازم اس کے کتنے کام آرہا ہے؟
خود پاکستان کی تاریخ سیکولر رہنماؤں کی تاریخ ہے۔ جنرل ایوب سیکولر تھے۔ جنرل یحییٰ سیکولر تھے۔ بھٹو سیکولر تھے۔ بے نظیر بھٹو سیکولر تھیں۔ سوال یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو کتنا بلند کیا ہے؟ اس کی کوئی ایک مثال، صرف ایک مثال؟ پچاس سال کے سیکولرازم کو اتنا غریب تو نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک مثال بھی پیش نہ کرسکے۔ اور یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں۔ مسلم دنیا گزشتہ پچاس سال سے سیکولر دنیا ہی ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں اگر غربت ہے تو اس کا ذمہ دار سیکولرازم اور اس کے علمبردار ہیں۔ اس دنیا میں اگر ناخواندگی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی بنیاد پرست نہیں ہیں۔ اس دنیا میں اگر بدعنوانی ہے تو یہ بدعنوانی بھی ملاؤں نے نہیں کی ہے۔ اس دنیا میں اگر لاقانونیت ہے تو اس کے ذمہ دار بھی مذہبی عناصر نہیں ہیں اس لیے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں کہیں بھی مذہبی عناصر اقتدار میں نہیں رہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ضرورت سیکولرازم نہیں مذہب ہے۔ مغرب کا لبرل ازم نہیں اسلام ہے۔ سیکولرازم مسلم دنیامیں گندا انڈا ثابت ہوچکا۔ اس سے کچھ برآمد ہونا ہوتا تو اس کے لیے پچاس سال بہت تھے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ اس سے کچھ برآمد نہیں ہوا چنانچہ اب سیکولرازم کی حمایت مسلمانوں اور ان کے معاشروں سے بدترین زیادتی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے عزت و توقیر حاصل کی ہے، اپنی انفرادیت پر اصرار کرکے کی۔ ہم نے اپنی جداگانہ شناخت پر اصرار کیا تو پاکستان بنا اگر ہم متحدہ قومیت کے قائل رہتے تو پاکستان وجود میں نہیں آسکتا تھا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشش کا اصول “مختلف” ہوتا ہے یکساں ہونا نہیں۔ اول تو مسلمان سیکولر ہو ہی نہیں سکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو صرف نقال بن کر رہ جانا ہی ان کا مقدر ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہماری تاریخ میں تو سیکولرازم کی کوئی مثال نہیں چنانچہ ہمیں یورپی تاریخ ہی کو سینے سے لگانا ہوگا۔ اور یہ نقالی کے سوا کیا ہوگا اور نقالوں کو اہلِ مغرب بندر کہتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ہماری زبان میں یہ جو ایک لفظ ”بابو“ ہے، یہ کیا ہے؟ اس کا ایک چھوٹا سا پس منظر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے لباس اور وضع قطع میں انگریزوں کی نقالی شروع کی تو انہوں نے نقالی کرنے والوں کو Baboon قرار دیا اور Baboon بندر کی ایک قسم ہے کثرتِ استعمال یا کسی اور وجہ سے رفتہ رفتہ اس لفظ سے صرف “N” غائب ہوگیا اور صرف ”بابو“ باقی رہ گیا۔ تو کیا کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایک ارب پچاس کروڑ مسلمان تاریخ میں صرف ”بابو“ بن کر رہ جائیں؟؟ کیا یہ کوئی بڑی عزت کی بات ہوگی؟؟۔

Google Buzz

روس کا سر سید – اسماعیل گسپرالی

غیر مسلموں کے ہاتھوں پے در پے شکست اور بالآخر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ جانے نے مسلم علماء کو زوال کی وجوہات پر غور کرنے پر آمادہ کیا اور اس غور و فکر نے 1880ء کی دہائی میں روس کے کریمیا اور ایدل-اورال (Volga-Ural) خطوں میں ‘جدیدیت’ کی تحریک کو جنم دیا۔ جدیدیت کی اس تحریک کا بنیادی مقصد 11 ویں صدی سے بند اجتہاد کا دروازہ کھول کر مسلمانوں پر مغرب کی بالادستی کا خاتمہ کرنا تھا اور جدیدیوں کی نظر میں یہ اسی وقت ممکن تھا کہ مسلمان جدید سائنس اور زبانوں کا مطالعہ کریں اور ان میں نیا نظامِ تعلیم متعارف کروایا جائے۔

یہ روسی مسلمانوں کی بیداری کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ اس عرصے میں وہاں کئی ایسے رہنما پیدا ہوئے جنہوں نے تجدید واصلاح کا کام کیا۔ ان رہنماؤں میں  شہاب الدین مرجانی (1815ء تا 1889ء)، عبد القیوم ناصری (1824ء تا 1902ء) اور  حسین فیض خانی (1826ء تا 1866ء) شامل تھے لیکن جس رہنما نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی وہ کریمیا کے تاتاری النسل اسماعیل گسپرالی (1851ء تا 1914ء) تھے۔ وہ جمال الدین افغانی (1839ء تا 1897ء) کے افکار سے بہت متاثر تھے۔ اسماعیل گسپرالی جدیدیت کے سلسلے کی آخری کڑی اور بلاشبہ اپنی اصلاحات اور کارناموں کے باعث اپنے تمام اکابرین سے ممتاز ہیں۔ انہیں ہم روس کا “سر سید” کہہ سکتے ہیں البتہ کریمیائی باشندے انہیں “کریمیا کا اتاترک” کہتے ہیں۔

اسماعیل گسپرالی نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ذرائع ابلاغ اور مدارس کا استعمال کیا۔ آپ نے اُس وقت کے حالات کے پیش نظر روس نواز موقف ضرور اختیار کیا لیکن وہ سلطنت روس کے اسلامی علاقوں کو روسیانے کی پالیسی کے سخت مخالف تھے۔ دراصل وہ اسلامیت، جدیدیت اور تورانیت کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اسلام ترکوں اور تاتاریوں کے قومی کلچر کا لازمی جزو ہے۔ وہ اپنے زمانے کی متعدد تحریکوں سے متاثر تھے۔ دوران قیامِ پیرس میں انہیں لبرل ازم نے متاثر کیا، استنبول میں نوجوانان ترک کی توران ازم کی تحریک اور جمال الدین افغان کی پین اسلامزم کی تحریک نے بھی نے بھی ان پر اثرات مرتب کیے۔ یہ سب اثرات ان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں میں پوری طرح کار فرما رہے۔ بیک وقت اسلامی و ترکی اتحاد کے علمبردار، عربی کو اہمیت دینے والے، بعض مغربی اصلاحات کو اپنانے کے خواہشمند بھی۔ [حوالہ: روس میں مسلمان قومیں، از آباد شاہ پوری، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، اشاعت نومبر 1976ء]

اسی مقصد کے حصول کے لیے اسماعیل گسپرالی نے 1883ء میں ہفت روزہ اخبار “ترجمان” جاری کیا جو کریمیا کے شہر بخشی سرائے سے جاری ہوتا تھا اور کچھ ہی عرصے میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور کاشغر سے لے کر کریمیا بلکہ قسطنطنیہ تک میں ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ انہوں نے “ترجمان” کے ذریعے ایک ایسی ترکی زبان کو فروغ دینے کی کوشش کی جو روس کے ترکی النسل مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی بولیوں کی جگہ سب مسلمانوں کی ایک مشترکہ زبان بنے۔ ترکی زبان کے اِس اخبار کے ذریعہ قازان اور کریمیا کے ترک کاشغر کے ترکوں سے مربوط و منسلک ہو گئے۔ “ترجمان” کے ذریعے ترکوں کی مختلف چھوٹی موٹی زبانوں کو ایک عام فہم زبان پر اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ اُس وقت ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔

علاوہ ازیں مسلمانوں عورتوں کے لیے بھی ایک اخبار نکالا گیا جو “عالم نسواں” کہلاتا تھا۔ اس اخبار کی مدیرہ اسماعیل گسپرالی کی صاحبزادی شفیقہ تھیں۔ آپ 1907ء میں روسی مسلمانوں کی قائم کی گئی جماعت “اتفاق المسلمین” کے بانیوں میں سے ایک تھے۔

اسماعیل گسپرالی اور ان کے پیروکاروں نے مسلمانوں کو ذلت کی گہرائیوں سے نکالنے کے لیے مدارس کا جال پھیلایا اور اس سلسلے کا پہلا مدرسہ 1884ء میں کریمیا کے شہر بخشی سرائے میں کھولا گیا۔ یہ مدارس “اصول جدید” کہلاتے تھے۔ ان مدارس نے مسجدوں کے روایتی مدارس اور روسیوں کے پھیلائے گئے مدارس کا بھرپور مقابلہ کیا۔ ابتدائی سطح پر، جسے مکتب کا نام دیا گیا تھا، ان جدید مدارس میں عربی زبان پڑھانے کا ایک صوتی طریقہ متعارف کروایا گیا جبکہ روسی اور جدید یورپی زبانیں اعلیٰ سطح پر پڑھائی جاتیں۔ ان مدارس کے نصاب میں ریاضی اور جغرافیہ اور تاتاری تاریخ بھی شامل تھی۔ 20 ویں صدی کی اولین دہائیوں میں یہ جدید مدارس بڑے پیمانے پر پھیلے اور 1916ء تک پوری سلطنت میں ان اصلاحی مدارس کی تعداد 5 ہزار تھی جن میں سے بیشتر کریمیا اور وولگا-اورال خطے میں واقع تھے۔ ان مدارس نے روس کے مسلمانوں میں جدیدیت کے فروغ میں وہی کردار کیا جو ہندوستان میں علیگڑھ کی مسلم جامعہ نے کیا۔

اسماعیل گسپرالی کیونکہ اسلامی اتحاد کے علمبردار بھی تھے چنانچہ ان کی کوششوں سے 1908ء میں قاہرہ میں ایک کل اسلامی کانگریس ہوئی تھی جو غالباً مسلمانوں کی پہلی عالمی کانگریس تھی۔
آپ 8 مارچ 1851ء کو کریمیا کے قصبے گسپرا میں پیدا ہوئے تھے اور اسی لیے گسپرالی کہلائے (یعنی گسپرا والے)۔ 1914ء میں عظیم دانشور، ماہر تعلیم، ناشر اور سیاست دان اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

گسپرالی کی جدیدیت کی  تحریک دو وجوہات کی بنیاد پر بری طرح ناکام ہوئی۔ ایک تو اصول جدید مدارس سے وہ نتائج حاصل نہ ہو پائے جو مسلمانوں کو درکار تھے۔ بعد ازاں روسی مسلمانوں  میں جتنے  بھی قوم پرست، تورانیت کے علمبردار حتیٰ کہ اشتراکی و مارکسی نظریات کے حامل افراد بھی سامنے آئیں وہ تمام انہی مدارس سے نکلے ہوئے تھے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یا خالص لا دین عناصر بھی “اصول جدید” ہی کے فیض یافتہ تھے۔ اس طرح شہاب الدین مرجانی کی شروع کی گئی تحریک اسلامی تہذیب و ثقافت کے فروغ اور اسلام کو ایک موثر قوت کے طور پر ابھارنے کے بجائے تباہ کن نتائج سے دوچار ہوئی۔ [حوالہ: روس میں مسلمان قومیں، از آباد شاہ پوری، اسلامک پبلیکیشنز، لاہور، اشاعت نومبر 1976ء]

دوسری وجہ انقلاب روس کے بعد عربی رسم الخط کی جگہ سیریلک  رسم الخط کا اجراء اور کریمیا کے مسلمانوں کی وسط ایشیا کی جانب جبری ہجرت تھا۔ اس طرح مسلمانوں کو جدت کی راہوں پر گامزن کرنے کے اس پورے عمل کو تہہ و بالا کر دیا گیا جو روسی مسلمانوں کی زندگیاں بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسماعیل گسپرالی کا خواب پورا نہ ہو سکا۔

Google Buzz

مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام – برقی کتاب کی صورت میں

میں نے چند ماہ قبل اپنے بلاگ پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سید سعادت اللہ حسینی کا مقالہ تین اقساط میں پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا “مابعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام”۔ قسط وار اور بلاگ پر پڑھنا تھوڑا مشکل امر محسوس ہوتا ہے لیکن اس اہم مضمون کو تمام افراد تک پہنچانے کے لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس کو نہ صرف ای بک کی صورت میں پیش کر دیا جائے بلکہ آن لائن مطالعے کے لیے بھی رکھا جائے۔ اس کام کے لیے اسکربڈ (scribd) سے بہتر ویب سائٹ کون سی ہو سکتی ہے۔ سو یہ معاملہ نمٹا دیا ہے۔ آپ اس مضمون کو وہاں با آسانی پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ سعادت اللہ حسینی کو اس کا اجر خیر عطا فرمائے۔

Challenges of Post-Modernism and Islam

Publish at Scribd or explore others: Islam Religion urdu modernism
Google Buzz

ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام- آخری قسط

ما بعد جدیدیت کاچیلنج اور اسلام کی یہ آخری قسط ہے اس سے قبل اس کی دو اقساط پیش کی جا چکی ہیں جو یہاں دیکھی جا سکتی ہیں: قسط اول قسط دوم

ما بعد جدیدیت کا ایک محاکمہ

ما بعد جدیدیوں کا یہ دعویٰ کہ دنیا میں کسی سچائی کا سرے سے وجود نہیں ہے ایک نہایت غیر منطقی دعویٰ ہے۔ اس دعویٰ میں بہت بڑا ریاضیاتی نقص ہے۔ یہ کہنا کہ ‘یہ سچ ہے کہ دنیا میں کوئی سچ نہیں’ ایک بے معنی بات ہے۔ “دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے” یہ بذات خود ایک دعویٰ اور ایک بیان ہے۔ اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو اس کی زد سب سے پہلے خود اسی بیان پر پڑے گی، اور یہ بیان جھوٹا قرار دیا جائے گا۔ یہ ماننے کے لیے کہ “دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے” کم سے کم اس ایک بات کو سچ ماننا پڑے گا۔

ما بعد جدیدی ہر عالم گیر سچائی کے دعوے کو بڑا بول کہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پیمانے پر خود ما بعد جدیدیت کو بڑا بول کیوں نہ قرار دیا جائے؟ ‘خود ساختہ سچائیوں’ کی رد تشکیل کی یہ فکر ایسا جال بچھاتی ہے کہ اس میں خود ہی پھنس جاتی ہے اور خود اپنے اصولوں کے ذریعے اپنے ہی اصولوں کا رد کرتی ہے۔ غالباً یہ انسان فکری تاریخ کا نہایت منفرد واقعہ ہے کہ کوئی فکر اپنے تشکیل کردہ پیمانوں سے اپنی ہی بنیادوں کو ڈھائے۔

منطقی تضاد کے علاوہ اس فکر کے عملی اثرات بھی نہایت بھیانک ہیں۔ اگر سچائی اضافی ہے اور دنیا میں کوئی قدر آفاقی نہیں ہے اور سچائیاں مقامی تہذیبوں کی پیداوار ہيں تو سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر مثلاً نازی ازم کو غلط قرار دیا جائے گا؟ آخر نازی ازم بھی ایک قوم کی اتفاق رائے ہی کا نتیجہ تھا۔ یا مثلاً کس بنیاد پر ایک شخص کو دوسرے کی جیب کاٹنے سے روکا جائے گا؟ اس لیے کہ ہر جیب کترا جس مخصوص تہذیبی پس منظر میں پروان چڑھتا ہے وہ اسے جیب کترنے کے عمل کو ایک ناگزیر حقیقت کے روپ میں ہی دکھاتا ہے، یا اگر کوئی بزرگ افیم کھا کر چلتی ٹرین کے دروازہ سے یہ سمجھ کر نہایت صبر و سکون کے ساتھ باہر نکلنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے گھر کے چمن میں تشریف لے جا رہے ہیں تو آخر کس دلیل سے انہیں اس حماقت سے روکا جائے گا؟ وہ نہایت ایمان داری کے ساتھ وہی سچائی دیکھ رہے ہیں جو افیم کے اثر سے پیدا شدہ ان کے ‘مخصوص احوال’ انہیں دکھا رہے ہیں۔ اس لیے تعدد صداقت (Pluralism of Truth) کے نظریے کا تقاضا ہے کہ ان کی اختیار کردہ سچائی کو بھی تسلیم کیا جائے۔ سچائی کی اضافیت کے نظریے کو مان لینے کے بعد اس دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ جب تک کچھ حقائق پر عالمی اتفاق رائے نہ ہو اور انہیں قطعی حقائق کے طور پر قبول نہ کیا جائے، اس وقت تک تمدن کی گاڑی ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جہاں کچھ باتوں پر اختلاف رائے تمدن کو رنگارنگی اور تنوع بخشتا ہے وہیں کچھ باتوں پر اتفاق تمدن کو استحکام عطا کرتا ہے۔ اس لیے اختلاف اوراتفاق دونوں کی بیک وقت ضرورت ہے۔

ما بعد جدیدیت اور اسلام

سچائی کی اضافیت کا نظریہ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک باطل نظریہ ہے۔ اسلام اس بات کا قائل ہے کہ عقل انسانی کے ذریعے مستنبط حقائق یقیناً اضافی ہیں اور شک و شبہ سے بالاتر نہیں ہیں۔ اس حد تک ما بعد جدیدیت اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہے لیکن اسلام کے نزدیک جن حقائق کا سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے وہ حتمی اور قطعی ہیں۔ ان کی جزوی تشریحات و تعبیرات (جس میں فہم انسانی اور عقل انسانی کا دخل ہے) تو اضافی ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے واضح معنی ہر اعتبار سے حتمی اور قطعی ہیں۔

اس ساری بحث میں اسلام کا نقطۂ نظر نہایت معتدل، متوازن اور عقل کو اپیل کرنے والا ہے۔ اس نقطۂ نظر میں ما بعد جدیدی مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات کے جوابات بھی موجود ہیں اور اُن تضادات کی بھی گنجایش نہیں ہے جو ما بعد جدیدیت میں پائے جاتے ہیں۔

یہ بات کہ انسانی عقل حتمی نہیں ہے اور بسا اوقات دھوکا کھا جاتی ہے، اسلام کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے کوئی نئی فکر نہیں ہے۔ جدیدیت نے جس طرح عقلِ انسانی کو حتمی اور قطعی مقام دیا اور عقلیات کو حتمی سچائی کے طور پر پیش کیا، اس پر ما بعد جدیدی مفکرین سے بہت پہلے اسلامی مفکرین نے جرح کی۔ بلکہ یہ مبحث صدیوں قبل امام غزالی اور امام ابن تیمیہ کے افکار میں بھی ملتا ہے۔

امام غزالی نے تہافۃ الفلاسفہ میں ارسطو کی منطق پر خود اسی منطق کے اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے جو تنقید کی ہے اس کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ عقل کے ذریعے معلوم حقائق کو محض واہمہ قرار دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کائنات کی وسعتیں اور وقت لا محدود ہے اور انسانی عقل لا محدود کا ادراک نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس کے مشاہدات اضافی ہیں اور ان مشاہدات کی بنیاد پر اخذ کردہ نتائج بھی اضافی ہیں 23۔ اپنی کتاب معیار العلم میں اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کہ انسانی حسیات کے ذریعے حاصل شدہ معلومات اکثر اوقات دھوکے کا باعث ہوتی ہے۔ صرف آنکھ سے دیکھا جائے تو ستارے چھوٹے ذرات معلومات ہوتے ہیں لیکن حقیقتاً ان میں سے کئی ستارے زمین اور سورج سے بھی بڑے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نظر آنے والے حقائق بھی ضروری نہیں کہ حقائق ہوں۔ وہ محض حقیقت کا سایہ یا واہمہ ہو سکتے ہیں۔ حسیات کا دھوکا عقل سے معلوم ہوتا ہے اور عقل کا دھوکا کسی ایسے ذریعے سے معلوم ہوگا جو عقل سے بالاتر ہے (یعنی وحیِ الٰہی24)۔

علت و معلول کے سلسلے میں امام غزالی اور ابن رشد کی بحث بھی پڑھنے کے لائق ہے25۔ ان کا نقطۂ نظر ہے کہ خالص عقلی طریقوں سے دنیا یا انسان کے بارے میں کسی آفاقی بیان تک نہیں پہنچا جا سکتا، اس لیے کہ جو بیان بھی تشکیل دیا جائے گا وہ اپنے عہد کے مخصوص مادی پس منظر سے ماورا نہیں ہوگا۔ جو لوگ اس موضوع پر تفصیل سے پڑھنا چاہیں وہ خاص طور پر امام غزالی کی تہافۃ الفلاسفہ اور معیار العلم کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

جدید اسلامی مفکرین نے بھی جدیدیت پر کلام کرتے ہوئے عقل کی تحدید اور عقل کے ذریعے معلوم حقائق کے اضافی ہونے کو ثابت کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلٰی مودودی رقم طراز ہیں:

انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی اور محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس خدائی فکر میں غیر محدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہے۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہوگی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پا سکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا ۔۔۔۔ ان کے (علمی قیاسات) غلط ہونے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا، اور تاریخِ علم میں ایسے بہت کم قیاسات و نظریات کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو بالآخر غلط ثابت نہیں ہوئے ہیں26۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں :

عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں

راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کارِ حیات

فکر بے نور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد

سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات

یا

وہ علم، کم بصری جس میں ہم کنار نہیں

تجلیاتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم

اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ علمِ حقیقی (یا حتمی اور قطعی سچائی) کا سرچشمہ باری تعالٰی کی ذات ہے۔ اس نے اپنے علم سے انسان کو اتنا ہی معمولی سا حصہ بخشا ہے جتنا وہ چاہتا ہے:

إِنَّ اللّہ لاَ يَخْفَی عَلَيْہ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاء (آل عمران: آیت 5)

بیشک اللہ وہ ہے جس سے نہ زمین کی کوئی چیز مخفی ہے نہ آسمان کی۔

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيہمْ وَمَا خَلْفَہمْ وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِہ إِلاَّ بِمَا شَاء (البقرۃ: آیت 255)

جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے اور لوگ اس کے علم میں کسی چیز پر بھی حاوی نہیں ہو سکتے بجز ان چیزوں کے جن کا علم وہ خود ان کو دینا چاہے۔

اس طرح جو حقائق علم حقیقی کے سرچشمہ یعنی باری تعالٰی کی جانب سے وحیِ الٰہی یا اس کے پیغمبر کی منصوص سنت کی صورت میں ظہور پذیر ہوئے ہیں وہ حتمی صداقت (absolute truth) ہیں اور ان کے ماسوا دنیا میں حقیقت کے جتنے دعوے پائے جاتے ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں۔ اگر وہ وحیِ الٰہی سے متصادم ہیں تو وہ باطل مطلق (absolute false) ہیں اور اگر متصادم نہیں ہیں تو ان کی حیثیت اضافی صداقت یا relative truth کی ہے جو صحیح بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی۔ مختلف معاملات میں عقلی غلطی کا امکان عام انسان تو کجا نبی کے لیے بھی موجود ہے۔ مسئلے کی نزاکت کے پیش نظر ہم اس بات کو علامہ سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں:

اس میں بھی شک نہیں کہ وحی اور ملکۂ نبوت کے علاوہ نبی میں نبوت و رسالت سے باہر کی چیزوں میں وہی عقل ہوتی ہے جو عام انسان کی ہوتی ہے اور جس میں اجتہادی غلطی کا ہر وقت امکان ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک اجتہاد کی یہی وہ دوسری قسم ہے جس میں نبی سے بھی غلطی ہو سکتی ہے کہ اس کا مدار وحی و الہام اور ملکۂ نبوت پر نہیں بلکہ انسانی علم و تجربہ پر ہوتا ہے24۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہے کہ وحیِ الٰہی سے منصوص حقائق کے ماسوا تمام امور، خواہ وہ سائنسی اصول و ضوابط ہوں یا ریاضی و منطق، یا معاشیات و سیاسیات یا سماجیات و عمرانیات سے متعلق امور، تمام دعوے اضافی ہیں۔

عملی زندگی میں قانون سازی اور ضابطہ سازی کے معاملے میں بھی اسلام نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ جدیدیت کی طرح نہ وہ ہر ضابطے اور اصول کو آفاقی حیثیت دیتا ہے اور نہ ما بعد جدیدیت کی طرح ہر آفاقی ضابطہ و اصول سے انکار کرتا ہے۔ وحیِ الہی کی صورت میں وہ بنیادی اصولوں اور سمت کو آفاقی حیثيت دیتا ہے، ان اصولوں کو زمان و مکان (Time and Space)  سے بالاتر یا ماورا قرار دیتا ہے اور ان آفاقی اصولوں کی روشنی میں مخصوص وقت، مخصوص مقام اور مخصوص احوال کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ بلکہ اجتہادی اور غیر منصوص احکام میں ‘عرف’ کا لحاظ رکھتا ہے۔ جسے مابعد جدیدی، تہذیبی اتفاق رائے (Cultural Consensus) کہتے ہیں۔

ضیاء الدین سردار نے اسلام کو ما بعد جدیدیت کے مقابلے میں ماورائے جدیدیت (transmodernity) کی حیثیت سے پیش کیا ہے28۔ بنیادی اصولوں (قرآن و سنت کی تعلیمات) سے گہری وابستگی کے ساتھ تغیر پذیر زمانے کے مطابق تبدیلیوں کو اختیار کرنے کا عمل ماورائے جدیدیت ہے۔ اسلامی معاشروں میں ابدی قدروں سے وابستگی موجود ہے۔ اس لیے وہ جدید یا ما بعد جدید نہیں ہیں اور چونکہ یہ قدریں حیات بخش ہیں اور ان کے اندر نہ صرف نئے زمانے کا ساتھ دینے کی صلاحیت موجود ہے، بلکہ نئے ضابطوں اور طرز ہائے حیات کی تشکیل کی صلاحیت اور گنجایش بھی موجود ہے، اس لیے ان کی بنیاد پر قائم سماج کو ما قبل جدید (Premodern) یا روایت پرست بھی نہیں کہا جا سکتا۔ وحیِ الٰہی کی بنیادوں پر چند آفاقی قدروں اور اصولوں کی حتمیت اور ان کے دائرے کے باہر وسیع تر معاملات میں وحیِ الٰہی کی روشنی میں نئے طریقوں، ضابطوں اور راستوں کی تشکیل کی راستہ ایک ایسا معتدل راستہ ہے جو اسلام کو بیک وقت دائمی، آفاقی، تغیر پذیر اور مقامی احوال کے مطابق بناتا ہے اور زمان و مکان کے اختلافات سے ماورا کر دیتا ہے۔ اس لیے اسلام کی بنیاد پر صحیح طور پر بننے والا معاشرہ ماورائے جدید (Transmodern) معاشرہ ہوتا ہے۔

ختم نبوت کا نظریہ یعنی یہ عقیدہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ہے اور وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور اب قیامت تک قرآن ہی اللہ کی کتاب اور بنی نوع انسان کی ہدایت کا ذریعہ ہے، اسلام کا ایک بنیادی نظریہ ہے۔ اس نظریے کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب زمانے میں کسی ایسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے جو بنیادی اصولوں میں کسی ترمیم کی متقاضی ہو۔ آنے والی ہر جدت کی نوعیت جزوی اور ذیلی ہی ہوگی۔ اس لیے یہ کہنا کہ اب ہم جدیدیت کے عہد میں ہیں، اس لیے ما قبل جدیدیت کے عہد کی ہر چیز تبدیل ہونی ہے یا یہ کہ اب ہم ما بعد جدیدیت کے عہد میں ہیں اس لیے جدیدیت کی ہر جڑ کی رد تشکیل ضروری ہے، ایک نہایت لغو بات ہے۔ انسانیت حیات میں بیک وقت دائمی اور تغیر پذیر دونوں طرح کے عناصر کارفرما ہیں۔ مولانا مودودی نے اس مسئلے پر اپنی تحریر ‘دین حق’ میں بہت دل چسپ اور دل نشیں انداز میں بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں:

کیا یہ واقعہ نہیں کہ تمام جغرافیائی، نسلی اور قومی اختلافات کے باوجود وہ قوانینِ طبعی یکساں ہیں جن کے تحت انسان دنیا میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ نظامِ جسمانی یکساں ہے جس پر انسان کی تخلیق ہوئی ہے۔ وہ خصوصیات یکساں ہیں جن کی بنا پر انسان دوسری موجودات سے الگ ایک مستقل نوع قرار پاتا ہے۔ وہ فطری داعیات اور مطالبات یکساں ہیں جو انسان کے اندر ودیعت کیے گئے ہیں۔ وہ قوتیں یکساں ہیں جن کے مجموعے کو ہم نفس انسانی کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ تمام طبعی، نفسیاتی، تاریخی، تمدنی، معاشی عوامل بھی یکساں ہیں جو انسانی زندگی میں کارفرما ہیں۔ اگر یہ واقعہ ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہیں ہے تو جو اصول انسان بحیثیت انسان کی فلاح کے لیے صحیح ہوں، ان کو عالم گیر ہونا چاہیے29۔

بعینہ یہی بات زمانی اختلافات کے سلسلے میں بھی کہی جا سکتی ہے:

زمانہ ایک حیات ایک، کائنات بھی ایک

دلیلِ کم نظری قصۂ جدید و قدیم

ما بعد جدیدیت اور فروغِ اسلام

ما بعد جدیدیت کا نظریہ اسلام اور اسلامی تحریک کے لیے بیک وقت چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور امکان (opportunity) کی بھی۔ جدیدیت کی طرح اس تحریک نے بھی بعض سنجیدہ نظریاتی مسائل کھڑے کیے ہیں جن سے مسلمانوں کو فکری طور پر نبرد آزما ہونا ہے۔جدیدیت کے زمانے میں مفکرینِ اسلام نے اس کے اٹھائے ہوئے سوالات کے مسکت جواب دیے تھے، لیکن ساتھ ہی جدیدیت نے جو حالات اور رویے پیدا کیے تھے، تحریک اسلامی نے اپنی حکمت عملی میں ان کا لحاظ بھی کیا تھا۔ جدیدیت نے عقل کو اہمیت دینے کا مزاج بنایا تھا تو تحریک نے عقلی طریقوں سے اسلام کی دعوت پیش کی تھی۔ تحریک کی صورت گری اور اس کے لیے بنائی گئی جماعت کے ڈھانچے کی تشکیل میں بھی جائز حدود میں جدید طریقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

ٹھیک یہی ردعمل ما بعد جدیدیت کے بارے میں بھی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ان فکری چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے جو ما بعد جدیدیت نے پیش کیے ہیں اور دوسری طرف اسلام کی دعوت، اس کے مباحث اور طریق کار میں ان کیفیتوں، مزاجوں اور رویوں کا لحاظ رکھنا ہے جو ما بعد جدیدیت نے پیدا کیے ہیں۔

اسی پس منظر میں مسلمان مفکرین اور اسلام کے فروغ اور غلبے کے لیے کام کرنے والے درج ذیل نکات کے حوالے سے لائحہ عمل بنا سکتے ہیں۔ یہ حرفِ آخر نہیں، ان پر گفتگو ہو سکتی ہے، بلکہ ہونا چاہیے۔

1۔ تحریک اسلامی کا مقابلہ آج بھی جدیدیت کے فلسفوں سے ہے۔ ما بعد جدیدیت کی طاقت ور تحریک کے باوجود اب بھی عقلیت کا فریب پوری طرح بے نقاب نہیں ہو پایا ہے۔ سیاسی سطح پر عالمی استعماری قوتیں اسلامی قوتوں کی اصل حریف ہیں اور وہ آج بھی جدیدیت ہی کی مظہر ہیں۔ اسلامی دنیا میں اسلامی تحریکوں کو کچلنے والے تمام حکمران جدیدیت کے منصوبے ہی کے علم بردار ہیں۔ اس تناظر میں ما بعد جدیدی ہمارے اہم حلیف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ما بعد جدیدی مفکرین مغرب اور مغربی تہذیب کی شان و شوکت، سرمایہ دارانہ معیشت کی چکاچوند اور مغربی افکار اور عقلیت کے سحر کو توڑنے میں ہمارے معاون ہو سکتے ہیں۔ تحریک اسلامی کو بڑا چیلنج اُن قوتوں سے درپیش ہے، جو تحریک کو رجعت پسندی قرار دیتے ہیں اور اسلام کے مقابلے میں جمہوریت، مرد و زن کی مساوات وغیرہ کے مغربی تصورات کو اسلامی معاشروں کے لیے راہِ نجات قرار دیتے ہیں۔ ما بعد جدیدیت کے علم بردار بڑے زور و شور سے ان ‘عظیم بیانات’ کی ردتشکیل میںمصروف ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں یہ ہمارے حلیف ثابت ہو سکتے ہیں۔ ما بعد جدیدی مفکرین نے جدید مغرب کے ‘عظیم بیانات’ پر جو سوالات کھڑے کیے ہیں ہمیں ان کا مؤثر استعمال کرنا چاہیے اور جدیدیت اور جدید مغرب کو شکست دینی چاہیے۔

2۔ ما بعد جدیدیت نے روحانیت اور روایات (Traditions) کا احیا کیا ہے اور مذہب کی طرف واپسی کی راہیں ہموار کی ہیں۔ اگرچہ ما بعد جدیدی مذہب کو آفاقی سچائی کا مقام دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن اگر روحانی سکون کے لیے کوئی شخص مذہب اختیار کرتا ہے یا کوئی معاشرہ اپنے لیے مذہبی قانون پسندکرتا ہے تو ما بعد جدیدی مفکرین اسے قابل اعتراض نہیں سمجھتے۔ یہ صورتِ حال بھی تحریک کے لیے سازگار ہے۔

3۔ اس وقت دنیا بھر میں تکثیری معاشرے (pluralistic societies) وجود میں آ رہے ہیں۔ ان معاشروں میں اہل اسلام کے لیے ایک بڑا مسئلہ اپنی اسلامی شناخت اور تشخص کا تحفظ ہے۔ ما بعد جدیدی افکار یہاں بھی تحریک کے لیے معاون بنتے ہیں۔ مثلاً یکساں سول کوڈ کا تصور جدیدیت کا تصور ہے،جب کہ ما بعد جدیدی مفکرین کے نقطۂ نظر سےایک ہی ملک میں اپنی اپنی پسند کے علاحدہ علاحدہ قوانین کی نہ صرف گنجایش ہے، بلکہ یہ تکثریت قابلِ تحسین ہے۔ میرا خیال ہے کہ تحریک اسلامی ما بعد جدیدیت کے علم برداروں کو دوسری مذہبی اقلیتوں کے لیے اسلامی تعلیمات کے حق میں ہموار کر سکتی ہے جن کے مطابق ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہبی قوانین کے مطابق اپنے معاملات چلانے کا حق حاصل رہتا ہے۔

4۔ ما بعد جدید مفکرین کے ساتھ اس تال میل کے ذریعے، تحریک اسلامی کی سچائی اور قدروں کی اضافیت کے نظریے کو پُر زور طریقے سے چیلنج کرنا چاہیے۔ ان مفکرین کے اٹھائے ہوئے سوالات پر اسلام کا متوازن موقف گذشتہ سطور میں واضح کیا جا چکا ہے۔ یہ موقف ما بعد جدیدیت کے اندرونی تضاد سے بھی پاک ہے اور جدیدیت کی ان الجھنوں کو بھی نہایت خوبصورتی سے حل کرتا ہے جن کے حل کے لیے ما بعد جدیدیت کی تحریک برپا ہوئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ موقف پُر زور طریقے سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔

5۔ اس وقت دنیا بھر کے مذہبی اور نظریاتی فلسفے اپنے پیغام اور طرز پیش کش کو ما بعد جدید ذہن کے حسب حال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیتھولک چرچ نے تو اس کی باقاعدہ منظم کوشش شروع کی ہے۔ اور عیسائی مطالعات میں Postmodern Evangelism باقاعدہ ایک ڈسپلن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے30۔ مارکسزم کی نئي پیش کش نیو مارکسزم کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ اسلام کے داعیوں کو بھی اپنی پیش کش میں بدلے ہوئے ذہن کا لحاظ رکھنا ہوگا۔

ابھی تک ہمارا مخاطب جدید دور کا وہ قاری تھا جس کے اپنے نظریات اور خیالات تھے۔ ہمارا ہدف یہ تھا کہ اس کے نظریات اور خیالات کو غلط ثابت کیا جائے اور اس کے مقابلے میں اپنی دعوت کی معقولیت ثآبت کی جائے۔ اب ہمارا سامنا ایک ایسے ذہن سے ہے جو کسی نظریے اور خیال کی ضرورت کا ہی قائل نہیں ہے۔ وہ بیک وقت ہماری دعوت اور ہمارے مخالف کی دعوت دونوں کو صحیح اور دونوں کو غلط سمجھتا ہے۔ وہ نظریہ اور فکر کے معاملے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ وہ مذہب کے ساتھ ساتھ فکر اور نظریے کو بھی انسان کا انفرادی معاملہ سمجھتا ہے جس پر بحث کرنے اور لڑنے کی کوئی ضرورت ہے نہ جواز۔ یہ بدلی ہوئی صورت حال عالمی و فکری مباحث کے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس کا لحاظ کیے بغیر ہم اپنی حکمت عملی کا صحیح طور پر تعین نہیں کر سکتے۔

6۔ ما بعد جدیدیت نے معقولیات اور علمی دلائل کی اہمیت اس قدر گھٹا دی ہے کہ فلسفہ، سماجیات، تہذیبی مطالعات وغیرہ میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے بالکل نئے طریقے وجود میں آ چکے ہیں۔ معقولات کے مقابلے میں کہانیاں، قصے اور داستانیں، عقل کے مقابلے میں جذباتی اپیل اور منظم اور مربوط بحث کے مقابلے میں ہلکی پھلکی اپیلیں ما بعد جدید ذہن سے زیادہ قریب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعدی اور رومی اس وقت اسلامی دنیا سے زیادہ مغربی دنیا میں مقبول ہیں۔ ہمیں اپنی دعوت کی پیش کش میں اس تبدیلی کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا اور ایسے مطالعات تیار کرنے ہوں گے جن کے مقدمات ما بعد جدید ذہن کو اپیل کر سکیں۔

7۔ معلومات اور اطلاعات کی اُس غیر معمولی اہمیت کا جسے ما بعد جدید عہد میں طاقت کے سب سے بڑے سرچشمے کا مقام مل چکا ہے، تقاضا ہے کہ تحریک اسلامی اس محاذ پر توجہ دے۔ کہا جا رہا ہے کہ ما بعد جدید دور میں سب سے بڑی قوت معلومات کی قوت ہی ہے۔ لیوٹارڈ نے لسانی کھیلوں کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ نئے دور میں معلومات کی ہر چال طاقت کی ایک وضع کی حامل ہے31۔ اور بین ملکی طاقت کے کھیل میں کمپیوٹرائزڈ معلومات کا بڑا حصہ ہوگا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ قوموں اور ملکوں کی آیندہ رقابتیں اور دشمنیاں معلومات کے ذخیروں پر قدرت حاصل کرنے کے لیے ہوں گی یعنی معلومات گیری ملک گیری کی طرح عالمی سطح پر ہوس کا درجہ اختیار کر لے گی32۔

اس صورت حال کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ہر ملک اپنی معلومات پالیسی (Knowledge Policy) وضع کر رہا ہے اور معلومات کے انتظام (Information Management) کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔ اس تناظر میں تحریک اسلام بھی معلومات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتی۔ اسے معلومات اور ڈیٹا (data) کے جمع و انتظام اور استعمال پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور اپنی معلوماتی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔

8۔ جہاں تک تحریک کے جماعتی ڈھانچے کا سوال ہے ما بعد جدیدیت کے بعض طالب علموں کا خیال ہے کہ یہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے اور ما بعد جدیدی عہدکی کیفیتوں کا ساتھ دینے کی اس میں صلاحیت نہیں ہے۔ یہ ایک انتہا پسندانہ نقطۂ نظر ہے۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی تنظیمیں مخصوص نظم جماعت کے ساتھ کامیابی سے کام کر رہی ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ نئے تقاضوں کا ساتھ دینے کے لیے ہمارے تنظیمی سانچے میں بعض بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ علم انتظامیات (Management Sciences)  کے تصورات میں ما بعد جدیدی افکار نے بڑی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔ مرکزیت، طاقت کا ارتکاز، سرخ فیتہ شاہی، ضابطوں کی سخت گیری، فیصلہ سازی اور مشاورت کے عمل کی مخصوص اداروں تک محدودیت، جواب دہی اور باز پرس کی میکانیت وغیرہ جیسے امور، جو نو آبادیاتی علم انتظامیات کی نمایاں خصوصیات تھیں اب دنیا بھر میں رد کی جا رہی ہیں۔ اور ما بعد جدید ذہن نہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، نہ اس سیٹ اَپ میں کام کرنے کے لیے۔ تحریک اسلامی کو اس تبدیلی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

خلاصۂ بحث

ما بعد جدیدیت، جدیدیت کا ایک منفی ردعمل ہے اور اس گھٹاٹوپ اندھیرے کا مظہر ہے جس میں مسلسل کئی نظریات کی ناکامی اور ابطال کے بعد ہمارے عہد کا پڑھا لکھا انسان بھٹک رہا ہے۔ افکار، نظریات اور فلسفوں کی عالی شان عمارتیں اس بری طرح سے زمین بوس ہو گئیں کہ نئے زمانہ کے فلسفیوں نے عافیت اسی میں محسوس کی کہ سوچنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ فکر و خیال اور سچائی کے تصورات ہی کو واہمہ قرار دیا جائے۔ نظریے اور آئیڈیالوجی کو ایک ناپسندیدہ شے باور کیا جائے اور حیات انسانی کو حالات اور افراتفری کے حوالے کر کے ما بعد جدیدیت کی جنت میں چین کی بانسری بجائی جائے۔ تمام جھوٹے خداؤں کے زمین بوس ہو جانے کے بعد ما بعد جدیدیت دراصل لا الٰہ کا اعلان ہے۔ الا اللہ کا اعلان باقی ہے جو ان شاء اللہ موجودہ کیفیت کا لازمی اور منطقی انجام ہوگا۔

حوالہ جات:

23۔ اس موضوع پر امام غزالی نے جو بحث کی ہے اس کے لیے ملاحظہ فرمائیے

Ghazali Abu Hamid Muhammad (2000) The Incoherence of the Philosophers (Translation of Tahafatul Falasafa by Michael E. Marmura) Provo. Brigham Young University Press

24۔ الغزالی، ابو حامد محمد (1965ء) معیار العلم، تحقیق الدکتور سلیمان دنیا، قاہرہ: دار المعارف ص 42-60

25۔ www.ghazali.org/site/dissert.htm

26۔ مودودی، سیدابو الاعلٰی (2007) دین حق، نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ص 22

27۔ ندوی علامہ سید سلیمان (1991) سیرت النبی، جلد چہارم، لاہور: الفیصل ناشران کتب، ص 84

28۔ Sardar Ziauddin http://www.islmiconline.net/english/contemporary/2002/05/article20.shtml

29۔ مودودی، سید ابو الاعلٰی (2007) دین حق، نئی دہلی: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ص 10

30۔ http://www.gettysburgsemorg/mhoffman/other/pomoevangelism.htm

31۔Lynord, J.F. (1984) The Postmodern condition: A Report on Knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (translation), Minneapolis: University of Minnesota Press: p 9-11

32۔ گوپی چند نارنگ، حوالہ سابق

Google Buzz

ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 2

ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کا چیلنج اور اسلام کے عنوان سے شروع کردہ سلسلے کی یہ دوسری قسط حاضرِ خدمت ہے۔ پہلی قسط یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

ما بعد جدیدیت کیا ہے؟

جدیدیت کے علم برداروں نے اپنے مخصوص افکار پر جس شد و مد کے ساتھ اصرار کیا اور ان کی تنفیذ کے لیے جس طرح طاقت اور حکومت کا بے دریغ استعمال کیا اس نے فکری استبداد کی وہی صورت حال پیدا کر دی، جو عہد وسطٰی کے یورپ میں مذہبی روایت پسندی نے پیدا کی تھی اور جس کے ردعمل میں جدیدیت کی تحریک برپا ہوئی تھی۔ اس استبداد کا لازمی نتیجہ شدید ردعمل کی شکل میں رونما ہوا اور یہی ردعمل ما بعد جدیدیت (Post Modernism) کہلاتا ہے۔

ما بعد جدیدیت ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردعمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ اس کے علم بردار نہ تو کسی منظم نظامِ فکر کے قائل ہیں اور نہ منظم تحریکوں کے۔ اس لیے یہ فکر اشتراکیت یا جدیدیت کی طرح کوئی مبسوط یا منظم فکر نہیں ہے اور نہ اس کی پشت پر کوئی منظم تحریک ہی موجود ہے۔ بلکہ ما بعد جدیدیت کے عمل بردار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کسی نظریے کا نام نہیں ہے، بلکہ اُس عہد کا نام ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں اور اُن کیفیتوں کا نام ہے جو اس عہد کی امتیازی خصوصیات ہیں11۔ ظاہر ہے کہ یہ محض دعویٰ ہے اور چونکہ وہ اپنے خیالات کی تائید میں کتابیں لکھ رہے ہیں، فلسفیانہ مباحث چھیڑ رہے ہیں اور بحثیں کر رہے ہیں اس لیے دنیا ان کے خیالات کو ایک آئیڈیالوجی ماننے پر مجبور ہیں۔

اکثر امور میں ما بعد جدیدیت کے مفکروں میں اتفاق رائے بھی نہیں ہے اور علمی حلقوں میں یہ اصطلاح مختلف معنوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس لیے اس کی تعریف بیان کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ تاہم بعض خیالات ما بعد جدیدیت مفکرین میں بھی مشترک ہیں اور یہی مشترک فکر اُن کا امتیاز ہے۔ لیوٹارڈ، جس کا اس فکر کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے، اس نے اس کی تعریف یوں بیان کی ہے:

I define Postmodernism as incredulity towards meganarratives12

(میرے نزدیک ما بعد جدیدیت کا مطلب عظیم بیانات پر عدم یقین ہے)

ما بعد جدیدیت کے حامی کہتے ہیں کہ جدیدیت نے عقل کی بالاتری، آزادی، جمہوریت، ترقی، کھلی منڈی اور اشتراکیت جیسے خیالات عالم گیر سچائیوں کی حیثیت سے پیش کیے۔ یہ ایک کھلا فریب تھا۔ زمانہ کے امتداد نے ان ساری خود ساختہ حقیقتوں کا جھوٹ واضح کر دیا ہے، اس لیے اب اس عہد میں اس طرح کے عظیم بیانات (Meganarratives) نہیں چلیں گے۔ یہ اس عہد کا خاصہ ہے۔ اس میں جدیدیت کے تمام دعوؤں کی عمارت ڈھا دی گئی ہے۔ اور اس عہد کی یہ خصوصیت ہی ما بعد جدیدیت ہے13۔

سچائی کی اضافیت کا نظریہ

ما بعد جدیدیت کے تصور کے مطابق دنیا میں کسی آفاقی سچائی کا وجود نہیں ہے۔ بلکہ آفاقی سچائی کا تصور ان کے نزدیک محض ایک خیالی تصور (Utopia) ہے۔ جدیدیت کے علم برداروں کا خیال ہے کہ جمہوریت،آزادی و مساوات، سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت (یا اشتراکیوں کے نزدیک اشتراکیت) اور ٹکنالوجیکل ترقی وغیرہ پر مبنی جو ماڈل یورپ میں اختیار کیا گیا، اس کی حیثیت ایک عالمی سچائی کی ہے اور ساری دنیا کو اپنی روایات چھوڑ کر ان عالمی سچائیوں کو قبول کرنا چاہیے۔ چنانچہ 20 ویں صدی میں ساری دنیا کو جدید بنانے کا کام شروع ہوا۔ روایتی معاشروں سے کہا گیا کہ وہ صنعتیں قائم کریں، شہر بسائیں، آزادی کی قدروں کو نافذ کریں،جمہوری طرز حکومت اپنائیں،جدید ٹکنالوجی کو اختیار کریں اور اس طرح جدید بنیں کہ فلاح و ترقی کا یہی واحد راستہ ہے۔ ما بعد جدیدی دوسری انتہا پر جا کر عالمی یا آفاقی سچائی کے وجود ہی سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک چاہے سچائی ہو یا کوئی اخلاقی قدر، حسن و خوبصورتی کا احساس ہو یا کوئی ذوق، یہ سب اضافی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق انفرادی پسند و ناپسند اور حالات سے ہے۔ یعنی ایک ہی بات کسی مخصوص مقام یا مخصوص صورتوں میں سچ اور دوسری صورتوں میں جھوٹ ہو سکتی ہے۔ دنیا میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو ہمیشہ اور ہر مقام پر سچ ہو۔ تصورِ جہاں (World view) سچائی کی پیداوار نہیں ہوتا بلکہ طاقت کی لڑائی میں ایک  محض ایک ہتھیار ہوتا ہے۔ لوگوں نے دنیا پر حکومت کرنے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنے من پسند خیالات کو عالم گیر سچائیوں کے طور پر ان پر مسلط کیا ہے۔ اس طرح وہ سرمایہ داری، جمہوریت اور اشتراکیت وغیرہ جیسے نظریات کے سخت ناقد ہیں، جو اپنے خیالات کو عالم گیر سچائی کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مذہبی عقائد اور تصورات کے بھی منکر ہیں کیونکہ مذاہب کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ ان کے معتقدات کی حیثیت اٹل حقائق کی ہے14۔

اس نظریے کی تائید میں ان کی دلیل یہ ہے کہ صدیوں کی علمی جستجو کے باوجود انسانی ذہن کسی ایک سچائی پر متفق نہیں ہو سکا۔ آج بھی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اطراف کئی ایک اور بسا اوقات باہم متضاد سچائیاں (یعنی سچ کے دعوے) پائی جاتی ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم سچائی سے متعلق اپنے نقطۂ نظر کو ہی بدل لیں اور یہ تسلیم کر لیں کہ سچائی نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سچائی محض ہمارے مشاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے اور مشاہدہ ہمارے ذہن کی تخلیق۔ سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ سچائی کی تشکیل ہوتی ہے۔ حالات کے مطابق ہمارا ذہن سچائی کی تخلیق کرتا ہے۔ اور چونکہ بیک وقت ایسی کئی تخلیقات ممکن ہیں اس لیے یہ ماننا چاہیے کہ کوئی بھی تخلیق حتمی نہیں ہے۔

ما بعد جدیدیت کے ماننے والے سائنس کو بھی حتمی سچائی کی حیثیت سے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ لیوٹارڈ کہتا ہے:

سائنس کی زبان اور اخلاقیات،اور سیاسیات کی زبان میں گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق ہی مغرب کی تہذیبی تناظر کی تشکیل کرتا ہے 15۔

یعنی سائنس بھی مغرب کی سیاست اور اخلاقی فلسفوں سے آزاد نہیں ہے۔

دنیا کے غیر حقیقی ہونے کا نظریہ

ما بعد جدیدیت کے مطابق جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں،اس کی حیثیت سچائی کی نہیں ہے۔ اس کے علم برداروں کا خیال ہے کہ ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم وہی دیکھتے ہیں جو مخصوص وقت اور مخصوص مقام پر مخصوص احوال خود کو دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کو حقیقی اور ٹھوس اشیا اور مناظر کی بجائے ایسے عکسوں (images) اور مظاہر (representations) سے عبارت سمجھتے ہیں جو غیر حقیقی (unreal) اور غیر محسوس (untangible) ہیں۔ یعنی پوسٹ ماڈرن ازم کے نزدیک یہ دنیا محض ایک وڈیو گیم ہے جس میں ہم اپنی پسند کی سچائیاں دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ ضیاء الدین سردار نے اس کی تشریح یوں کی ہے:

اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا ایک ایسی تھیٹر ہے جس میں ہر چیز مصنوعی طور پر تشکیل کر دہ ہے۔ سیاست عوامی استعمال کے لیے کھیلا جانے والا ایک ڈراما ہے۔ ٹیلی وژن پر دستاویزی فلمیں تفریحات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ صحافت حقیقت اور افسانے کے بیچ فرق کو دھندلا دیتی ہے۔ زندہ افراد، سوپ اوپیرا کے کردار بن جاتے ہیں اور افسانوی کردار زندہ انسانوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ہر چیز اچانک واقع ہو جاتی ہے اور ہر شخص عالمی تھیٹر میں واقع ہونے والی ہر چیز کا بر موقع نظارہ کرتا ہے17۔

رد تشکیل کا نظریہ

جیسا کہ عرض کیا گیا، ما بعد جدیدیت کے نزدیک جمہوریت، ترقی، آزادی، مذہب، خدا، اشتراکیت اور اس طرح کے دعوؤں کی وہی حیثیت ہے جو دیومالائی داستانوں اور عقیدوں کی ہے۔ اس لیے انہوں نے ان تمام دعوؤں کو عظیم بیانوں (meganarratives) کا نام دیا ہے۔ جدیدیت کے مفکرین کا خیال ہے کہ انہوں نے بہت سی ‘سچائیاں’ تشکیل دی ہیں اور چاہے مذاہب ہوں یا جدید نظریات، ان کی بنیاد کچھ خود ساختہ عالمی سچائیوں پر ہے، اس لیے جدیدیت کے دور کی تہذیب، علم وغیرہ انہی مفروضہ سچائیوں پر استوار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان تشکیل شدہ سچائیوں کی رد تشکیل (deconstruction) کی جائے، یعنی انہیں ڈھا دیا جائے۔ چنانچہ ادب، فنون لطیفہ، آرٹ، سماجی اصول و ضابطے ہر جگہ ان کے نزدیک خود ساختہ سچائیاں اور عظیم بیانے ہیں جن کی رد تشکیل ضروری ہے تاکہ ما بعد جدیدی ادب فنون لطیفہ وغیرہ میں ایسے ‘غلط مفروضوں’ کا عمل دخل نہ ہو۔ جیسا کہ ما بعد جدیدیت کا ایک تجزیہ نگار لکھتا ہے:

ما بعد جدید مفکرین کا خیال ہے کہ ہماری طرح کے ایک آفاقی اور غیر مرکزی سماج میں خود بخود ما بعد جدید کی طرح کے ردعمل جنم لیتے ہیں۔ یعنی عظیم بیانات کے فکری استبداد کا استرداد، ساخت اور طرز کی وحدت کے روایتی سانچوں کی شکست و ریخت اور منطق کی مرکزیت اور اس طرح کے دیگر مصنوعی طور پر مسلط کردہ نظاموں کو اٹھا کر پھینک دینے کا عمل18۔

شاید بحث پیچیدہ اور فلسفیانہ ہو گئی۔ لیکن چونکہ اس فکر کی بنیادی فلسفیانہ ہیں اس لیے اس مختصر فلسفیانہ بحث کے بغیر اس نظریے پر کماحقہ روشنی نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔

ما بعد جدیدیت کے عملی اثرات

ما بعد جدیدیت ایک دقیق فلسفیانہ بحث ہے۔ لیکن اس کے پیش رو، جدیدیت کے افکار بھی ایسے ہی دقیق فلسفے تھے۔ عام لوگ ان گہرے فلسفوں کا مطالعہ نہیں کرتے لیکن عملی زندگی میں ان کے اثرات قبول کرتے ہیں۔ جدیدیت کے عروج کے زمانے میں بھی سب لوگ والٹیر اور روسو کی دقیق کتابیں نہیں پڑھتے تھے، لیکن آزادی، مساوات، جمہوریت، اپنے حقوق کا احساس، مساوات مرد و زن، روایات کے خلاف بغاوت اور عقل پر اصرار جیسی چیزیں عام آدمی کے رویوں کا بھی حصہ تھی۔ ٹھیک اسی طرح ہمارے عہد میں بھی عام لوگ چاہے ما بعد جدیدیت کی اصطلاحات اور بحثوں سے واقف نہ ہو، لیکن محسوس اور غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور رویوں میں اس کے اثرات قبول کر رہے ہیں۔ مسلمان اور بعض اوقات اسلام کے فروغ کے لیے کام کرنے والے بھی اس کے اثرات سے خود کو نہیں بچا پا رہے ہیں۔

ما بعد جدیدیت کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دل چسپی نہایت کم ہو گئی ہے۔ عہد جدید کا انسان مخصوص افکار و نظریات سے وفاداری رکھتا تھا اور ان کی تبلیغ و اشاعت کے لیے پُر جوش و سرگرم رہتا تھا۔ ما بعد جدید دور کے انسان کے نہ کوئی آدرش ہیں نہ اصول۔ اس کے سامنے کسی بھی موضوع پر نظری بحث شروع کیجیے دامن جھاڑ کر اُٹھ جائے گا۔ اس لیے بعض مفکرین اس عہد کو ‘عدم نظریہ کا عہد’ Age of No Ideology قرار دیا ہے 19۔  اصول اور افکار کے مبسوط نظام (doctrine) کے بالمقابل ما بعد جدید انسان کے پاس صرف جذبات و احساسات ہیں یا عملی مسائل (pragmatic issues)۔ ما بعد جدیدیت کا کہنا ہے کہ زندگی کی تمام بحثیں ‘مسئلہ’ اور ‘حل’ (problem and solution) تک محدود کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے اصولوں اور نظریوں کے بجائے ایک ایک مسئلے کو الگ الگ لیا جانا چاہیے اور اس کے حل پر بات ہونی چاہیے۔ چنانچہ ما بعد جدیدی انسان کی بحث و گفت گو کا سارا زور یا تو روز مرہ کے عملی مسائل پر ہے یا روابط و تعلقات کی جذباتیت پر۔ مختلف فیہ اور متنازعہ فیہ مسائل میں وہ باہم متضاد خیالات میں سے ہر خیال کو بیک وقت درست سمجھتا ہے، ان کی تنقیح اور درست فیصلے سے اسے کوئی دل چسپی نہیں۔

مذہبی معاملات میں وحدت ادیان کا نظریہ بہت قدیم ہے۔ ما بعد جدیدیت نے اس طرزِ فکر کو تقویت دی ہے۔ اب دنیا بھر میں لوگ بیک وقت سارے مذاہب کو سچ ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اور بین المذاہب مکالمات و مباحث سے لوگوں کی دل چسپی رو بہ زوال ہے۔ جبکہ دوسری طرف الحاد و مذہب بیزاری کی شدت بھی ختم ہو رہی ہے۔ چونکہ الحاد بھی ایک ‘دین’ یا ایک ‘دعویٰ’ ہے، اس لیے ما بعد جدید انسان اسے بھی ایک مسلک کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے اس عہد کو لادینیت کے خاتمے کا عہد (Age of Desecularisation) بھی کہا جاتا ہے20۔ ایک شخص خدا پر یقین نہ رکھتے ہوئے بھی روحانی سکون کی تلاش میں کسی مذہبی پیشوا سے رجوع کر سکتا ہے۔ اور آج اسے کسی ہندو بابا کے ہاں سکون ملتا ہے تو کل کوئی عیسائی راہب اسے مطمئن کر سکتا ہے۔ یہ ما بعد جدیدیت ہے۔

قدروں کی اضافیت کے نظریے سے سماجی اداروں اور انضباطی عوامل (Regulating Factors) کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاندانی نظام اور شادی بیاہ کے بندھنوں کا انکار ہے نہ اقرار۔ عفت، ازدواجی وفاداری اور شادی کے بندھن ما بعد جدیدیوں کے ہاں ‘عظیم بیانات’ ہیں۔ اسی طرح جنسوں کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ رول کو بھی وہ آفاقی نہیں مانتے۔ نہ صرف مرد عورت کے درمیان تقسیم کار کے روایتی فارمولوں کے وہ منکر ہیں، بلکہ جنسی زندگی میں بھی مرد اور عورت کے جوڑے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ شادی مرد اور عورت کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، اور مرد مرد اور عورت عورت کے درمیان بھی، کوئی چاہے تو اپنے آپ سے بھی کر سکتا ہے۔ مرد اور عورت شادی کے بغیر ایک ساتھ رہنا پسند کریں تو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک ساتھ بھی نہیں رہنا ہے تو صرف تکمیل خواہش کا معاہدہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب ذاتی پسند اور ذوق کی بات ہے۔ فیشن، لباس، طرز زندگی ہر معاملے میں کوئی بھی ضابطہ بندی گوارا نہیں ہے۔ مرد بال بڑھا سکتا ہے، چوٹی رکھ سکتا ہے، اسکرٹ پہن سکتا ہے، زنانہ نام رکھ سکتا ہے، کسی بھی رنگ اور ڈیزائن کا لباس پہن سکتا ہے۔ سوسائٹی کو کسی بھی رویے کو ناپسند کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حتٰی کہ اگر کوئی مادر زاد برہنہ رہنا چاہے تو سوسائٹی اس پر بھی معترض نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ بعض ما بعد جدیدی، لباس کو آفاقی ضرورت قرار دینے پر معترض ہیں۔ آدمی اگر موسم اور اپنے ذوق کی مناسبت سے کوئی لباس پسند کرنا چاہے تو کرے اور اگر عریاں رہنا چاہے تو انسانی جسم سے بڑھ کر خوبصورت لباس اور کیا ہو سکتا ہے؟ وہ عریانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس طرز زندگی کے فروغ کے لیے ویب سائٹس، ہیلپ لائنیں، ڈسکشن فورمز اور نہ جانے کیا کیا ہیں۔

سیاسی محاذ پر ما بعد جدیدی، قوموں کے وجود اور قوم پرستی کے منکر ہیں۔ ان کے نزدیک قوم، قومی مفاد، قومی تفاخر، قومی کردار، قومی فرائض، یہ سب ‘عظیم بیانات’ ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ضرورت اور مفاد کے مطابق افراد کسی بھی قسم کے دوسرے افراد سے تعامل کرتے ہیں اور اس طرح گروہوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ تشکیل ضروری نہیں کہ قوم اور نسل کی بنیاد پر ہو۔ قوموں کے اقتدارِ اعلٰی کا تصور بھی ان کے نزدیک ‘عظیم بیان’ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ما بعد جدیدی سماج میں ایک طرف گلوبلائزیشن کے عمل کے نتیجے میں ریاست کے اقتدارِ اعلٰی کو عالمی معاشی قوتوں کے تابع کر دیا گیا اور دوسری طرف مقامی معاشروں کے مفادات کو بھی ریاست کے اقتدار اعلٰی پر فوقیت اور بالاتری دے دی گئی۔ اگر کوئی علاقہ، قبیلہ یا گروہ ریاست کے اقتدار سے خوش نہیں تو ریاست کو اس پر زبردستی کا کوئی حق نہیں 21۔

اس طرح پالیسی کی سطح پر ‘ترقی’ ٹکنالوجی وغیرہ جیسے تصورات کو چیلنج کیا گیا۔ ما بعد جدیدی ترقی کے ‘یکساں فارمولے’ کے خلاف ہیں۔ یہ بات کہ جدید شہروں کی شان و شوکت اور ٹکنالوجی پر مبنی تعیشات پس ماندہ علاقوں کی منزل اور ان کی کاوشوں کا ہدف ہونا چاہیے، اب مسلّمہ نہیں رہی۔ ما بعد جدید تحریکوں نے دیہی زندگی اور روایتی معاشروں کی افادیت بھی اجاگر کی۔ اگر باسی اپنے قبائلی طرزِ زندگی سے مطمئن اور خوش ہیں تو کوئی ضروری نہیں کہ انہیں جدید شہری ترقی کے لیے مجبور کیا جائے۔ ان کے نزدیک جنگل کی آزاد فضا ہی سچائی ہے۔ دیہی لوگوں کو ان کی زمین سے ہٹا کر وہاں نئی صنعتیں قائم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، خواہ اس کے بدلے میں ان کو زیادہ آرام دہ زندگی ہی کیوں نہ میسر آئے۔ ما بعد جدید پالیسی کا حاصل یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی مرضی اور پسند کی زندگی گزارنے کی آزادی دی جانی چاہیے اور تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، ترقی اور نہ تعیشات، کوئی بھی چیز اس پر مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔

آرٹ اور فنون لطیفہ میں وہ ہر طرح کے نظم اور پابندی کے خلاف ہیں۔ جدیدیت نے ان محاذوں پر جو اصول تشکیل دیے تھے، ما بعد جدیدی ان کی رد تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ کے الفاظ میں:

ہر طرح کی نظری ادعائیت سے گریز اور تخلیقی آزادی پر اصرار ما بعدجدیدیت ہے 22

ما بعد جدیدی کہتے ہیں کہ ادب اور فنون لطیفہ حقیقت کی ترجمانی کے لیے نہیں بلکہ حقیقت کی تخلیق کے لیے ہیں۔ اس لیے وہ آرٹ کو ہر طرح کے ادبی، سیاسی اور مذہبی دعوؤں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔

اس طرح ما بعد جدیدیت کی تحریک نے سوسائٹی میں ہر جگہ مقتدر افسر شاہی اور ضابطوں اور اصولوں کی سخت گیری کو چیلنج کیا۔ نظام مراتب (hierarchy) کے مقابلے میں انارکی، بندشوں کے مقابلے میں آزادی، اختیارات کی مرکزیت (centralisation)  کے مقابلے میں غیر مرکزیت (decentralisation) اور ضابطے اور اصول کے مقابلے میں انفرادی پسند اور آزادی کا احترام وغیرہ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اس صورت حال نے منظم ہمہ گیر تحریکوں کے مقابلے میں ایشوز پر مبنی وقتی اور موضوعاتی تحریکیں، سخت گیر بیوروکریٹک انتظام کے مقابلے میں ڈھیلی ڈھالی قیادت وغیرہ کی کیفیتیں پیدا کیں۔ عملی زندگی کے مختلف معاملات میں ما بعد جدیدی کی ہر طرح کی روایت، اصول اور ضوابط کی عالم گیری کے خلاف ہیں اور ذاتی پسند و نا پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔ طرز ہائے زندگی سے متعلق معاملات میں ذاتی پسند افراد کی ہوتی ہے۔ اس کو منضبط کرنے کا معاشرے کو کوئی حق نہیں ہے اور اجتماعی معاملات میں پسند و نا پسند قبیلوں، آبادیوں، تنظیموں یا کسی بھی اجتماعی گروہ کی ہو سکتی ہے۔ اس پر کنٹرول کے لیے کسی عالمی یا قومی ادارے کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

حوالہ جات:
11۔ اس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے دیکھیے:
Bauman, Zgmunt (2000) Liquid Modernity, Cambridge: Polity Press.
12۔Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: A report on knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. xxiv
13۔ Anderson, Walter Truett (1995) The truth about Truth: De-confusing and Re-constructing the Postmodern World. New York: Penguin p 239-44
14۔ حوالہ سابق، ص 111
15۔ A report on Lyotard, J. F. (1984) The Postmodern Condition: knowledge, Geoff Bennington and Brian Massumi (trans.) Minneapolis: University of Minnesota Press p. 8
16۔ حوالہ سابق p. xxiii
17۔ Sardar, Ziauddin (1998) Postmodernism and the other, the New Imperialism of Western Culture, London: Pluto Press p. 23
18۔ Charles Upton (2001) The System of Antichrist Truth & Falsehood in Postmodernism & the New Age Sophia: Perennis p. 45
19۔ Stephens Mitchel (2007) We are all Postmodern Now, at http://journalism.nyu.edu/faculty/files/stephens-postmodern.pdf
20۔ لادینیت کے خاتمے کی بحث کے لیے دیکھیے ایک دل چسپ کتاب:
Peter L. Berger (1999) The Desecularization of the World, Resurgent Religion and World Politics; Michigan: William B. Eerdmans Publishing Co.
21۔ Anderson Walter Truett (1991) Postmodern Politics in Context#30 (Reclaiming Politics) Fall/Winter 1991, Langley p. 32.
22۔ گوپی چند نارنگ (2004ء) ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات، نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، ص 530

Google Buzz

ما بعد جدیدیت کا چیلنج اور اسلام قسط 1

جدیدیت ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کے مجموعے کا نام ہے جو 17 ویں اور 18 ویں کے یورپ میں روایت پسندی (Traditionalism) اور کلیسائی استبداد کے ردعمل میں پیدا ہوئیں۔
یہ وہ دور تھا، جب یورپ میں کلیسا کا ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ تنگ نظر پادریوں نے قدیم یونانی فلسفہ اور عیسائی معتقدات کے امتزاج سے کچھ خود ساختہ نظریات قائم کر رکھے تھے اور ان نظریات کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو وہ مذہب کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ شاہی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے انہوں نے ایک ایسا استبدادی نظام قائم کر رکھا تھا جس میں کسی بھی آزاد علمی تحریک کے لیے کوئی گنجائش نہ تھی۔
دوسری طرف اسپین کی اسلامی تہذیب کے ساتھ طویل تعامل کی وجہ سے عیسائی دنیا میں بھی حریت فکر کی ہوائیں آنے لگی تھیں۔ قرطبہ اور غرناطہ میں حاصل شدہ تجرباتی سائنس کے درس رنگ لا رہے تھے اور یورپ کے سائنس دان آزاد تجربات کرنے لگے تھے۔ حریت انسانی اور مساوات کے اسلامی تصور کے اثرات نے جنوبی اٹلی اور صقلیہ میں انسان دوستی (Humanism) کی جدید تحریکیں پیدا کی تھیں1۔
ان سب عوامل نے مل کر کلیسا کے استبداد کے خلاف شدید ردعمل پیدا کیا اور جدیدیت کی تحریک شروع ہوئی۔ چونکہ اس تحریک سے قبل یورپ میں شدید نوعیت کی دقیانوسیت اور روایت پرستی کا دور دورہ تھا، اس لیے اس تحریک نے پورے عہدِ وسطٰی کو تاریک دور قرار دیا۔ مذہبی عصبیتوں، روایت پسندی اور تنگ نظری کے خاتمے کو اپنا اصل ہدف بنایا۔ شدید ردعمل نے اس تحریک کو دوسری انتہا پر پہنچا دیا اور روایت پرستی اور عصبیت کے خلاف جدوجہد کرتے کرتے یہ تحریک مذہب اور مذہبی معتقدات ہی کے خلاف ہو گئی۔
جدیدیت کی اس تحریک کی نظریاتی بنیادیں فرانسس بیکن2، رینے ڈیکارٹ3، تھامس ہوبس4 وغیرہ کے افکار میں پائی جاتی ہیں، جن کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ یہ دنیا اور کائنات عقل، تجربے اور مشاہدے کے ذریعے قابلِ دریافت (knowable) ہے اور اس کے تمام حقائق تک سائنسی طریقوں سے ہی رسائی ممکن ہے۔ اس لیے حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس کا کہیں وجود ہے۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں جو عقل، تجربے اور مشاہدے کی مذکورہ کسوٹیوں پر کھرے ثابت ہوں۔ ان فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیاتی مزعومات (metaphysical contentions) اور مذہبی دعوؤں کو اس وجہ سے قابل رد قرار دیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے۔ ڈیکارٹ نے

I think therefore I am
(میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں)

کا مشہور اعلان کیا جو جدید مغربی فلسفے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خودی کا شعوری عمل (Conscious Act of Ego) سچائی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔
پاسکل، مانٹسکیو، ڈیڈاراٹ، وسلی، ہیوم، والٹیر جیسے مفکرین نے بھی عقل کی لا محدود بالادستی اور واحد سرچشمۂ علم ہونے کے اس تصور کو عام کیا۔ یہ افکار عقل پرستی (Rationalism) کہلاتے ہیں اور جدیدیت کی بنیاد ہیں۔ چنانچہ جدیدیت کی تعریف ہی یوں کی گئی: جدیدیت وہ روشن خیالی اور انسان دوستی ہے جو کسی بھی ہستی کی بالادستی اور روایت کو مسترد کرتی ہے اور صرف عقل اور سائنسی علوم کو ہی تسلیم کرتی ہے۔ یہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ سچائی اور معنی کا واحد منبع خود مختار فرد کی عقل ہے ۔۔۔۔۔۔ کارتیسی اصول: فکر کردم پس ہستم5
اس تحریک نے مذہبی محاذ پر الحاد اور تشکیک کو جنم دیا۔ والٹیر6 جیسے الحاد کے علم برداروں نے مذہب کا کلیتاً انکار کر دیا، جب کہ ہیگل جیسے متشکک مذہب کو تسلیم تو کرتے ہیں، لیکن اسے عقل کے تابع بتاتے ہیں اور مذہبی حقائق کو بھی دیگر عقلی مفروضات کی طرح قابل تغیر قرار دیتے ہیں۔
سیاسی محاذ پر اس تحریک نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ آزادئ فکر، آزادئ اظہار اور حقوقِ انسانی کے تصورات عام کیے۔ تھامس ہابس کے حتمی اقتدار اعلٰی (Absolute sovereignty) کے تصور کو سیاسی فلسفے کی بنیاد قرار دیا۔ جان لاک نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کو اقتدار اعلٰی کا سرچشمہ قرار دیا۔ والٹیر نے انسانی حریت کا تصور پیش کیا۔ مانٹسکیو7 اور روسو8 نے ایسی ریاست کے تصورات پیش کیے جس میں انسانوں کی آزادی اور ان کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے اور حکمرانوں کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔
جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی اور قومی ریاستوں کا تصور بھی عام کیا۔ انہی افکار کے بطن سے جدید دور میں جمہوریت نے جنم لیا اور یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ملکوں میں خود مختار، جمہوری قومی ریاستیں قائم ہوئیں۔
معاشی محاذ پر اس تحریک نے اول تو سرمایہ دارانہ معیشت اور نئے صنعتی معاشرے کو جنم دیا جس کی بنیاد ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر تھی جو صنعت کاری، آزادانہ معیشت اور کھلے بازار کی پالیسیوں سے عبارت تھی9۔ نئے صنعتی معاشرے میں جب مزدوروں کا استحصال شروع ہوا تو جدیدیت ہی کے بطن سے مارکسی فلسفہ پیدا ہوا، جو ایک ایسے غیر طبقاتی سماج کا تصور پیش کرتا تھا، جس میں محنت کش کو بالادستی حاصل ہو10۔
اخلاقی محاذ پر اس تحریک نے افادتیت (Utilitarianism) کا تصور عام کیا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اخلاقی قدروں کا تعلق افادیت سے ہے۔ جو رویے سماج کے لیے فائدہ مند ہیں، وہ جائز اور جو سماج کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ناجائز رویے ہیں۔ اور یہ کہ افادیت اخلاق کی واحد کسوٹی ہے۔ افادیت کے تصور نے قدیم جنسی اخلاقیات اور خاندان کے روایتی ادارے کو چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں اباحیت (permissiveness) کا آغاز ہوا۔
جدیدیت ہی کے بطن سے نئے صنعتی معاشرے میں نسائیت (Feminism) کی تحریک پیدا ہوئی جو مرد و زون کی مساوات کی علم بردار تھی اور عورتوں کو ہر حیثیت سے مردوں کے مساوی مقام دلانا اس کا نصب العین تھا۔
انقلاب فرانس، برطانیہ میں جمہوریت کی تحریک، امریکہ کی آزادی کی تحریک اور اکثر یورپی ممالک کی تحریکیں جدیدیت کے ان افکار ہی سے متاثر تھیں۔ 20 ویں صدی کے آتے آتے یورپ اور شمالی امریکہ کے اکثر ممالک ان افکار کے پرجوش مبلغ اور داعی بن گئے۔ جدیدیت کو روشن خیالی (Enlightenment) اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے نام بھی دیے گئے اور بڑی طاقتوں کی پشت پناہی سے روشن خیالی کا منصوبہ ایک عالمی منصوبہ بن گیا۔
چنانچہ 20 ویں صدی کے نصف آخر میں مغربی ممالک کا واحد نصب العین تیسری دنیا میں روایت پسندی سے مقابلہ کرنا اور جدیدیت کو فروغ دینا قرار پایا۔ آزادی، جمہوریت، مساواتِ مرد و زون، سائنسی طرز فکر، سیکولرزم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا بھر میں عام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ معاشی فکر کے معاملے میں مغرب سرمایہ دارانہ اور کمیونسٹ دھڑوں میں ضرور منقسم رہا، لیکن سیاسی، سماجی اور نظریاتی سطح پر جدیدیت کے افکار بالاتفاق جدید مغرب کے رہنما افکار بنے رہے، جن کی دنیا بھر میں اشاعت اور نفاذ کے لیے ترسیل و اشاعت کے علاوہ ترغیب و تنفیذ کے تمام جائز و ناجائز طریقے اختیار کیے گئے۔ تیسری دنیا میں ایسے پٹھو حکمرانوں کو بٹھایا گیا جو عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی ترقی کے جدید ماڈل ان پر تھوپنے پر مامور رہے۔ اسلامی دنیا میں خصوصاً اسلامی تہذیبی روایات کی بیخ کنی کو جدیدیت کا اہم ہدف سمجھا گیا۔ ترکی، تیونس اور سابق سوویت یونین میں شامل وسط ایشیا کے علاقوں میں مذہبی روایات سے مقابلے کے لیے ایک سخت ظالمانہ اور استبدادی نظام قائم کیا گیا۔

حوالہ جات:
1۔ Nasr Seyyed Hossein (1993) A young muslim’s guide to the modern world; Cambridge university press p.156
2- بیکن کے افکار کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Bacon Francis (1863) Novum Organum Tr, James Spedding, Robert Leslie Ellis, and Douglas Denon Heath, Boston: laggard and Thomson [As availablein online library http://www.constitution.org/bacon/textnote.htm]
3۔ ڈیکارٹ کے خیالات کے لیے دیکھیے:
Descartes Rene (1983) Principles of Philosophy Trans. V. R. Miller and R.P. Miller. Doddrecht: D. Reidel
4۔ تھامس ہوبس کے افکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Hobbes Thomas (2007) Leviathan online available at ebooks@adelaide, http://etext.library.adelaide.edu.au/h/hobbes/thomas/h681/
Updated on March 12 2007
5. Electronic Library

http://elab.eserver.org/hfl0242.html

6۔ والٹیر کےخیالات کے لیے ملاحظہ فرمائیے:
Voltaire Francois (1961) Philosophical letters translated by Emest N. Dilworth, New York: Macmillan
7۔ مانٹیسکیو کے نظریات کے لیے ملاحظہ کیجیے:
Montesquieu Baron de (1914), Secondat, Charles de, The Spirit of Laws Tr, by Thomas Nugent, London: G. Bell & Sons [As available at http://www.constitution.org/cm/sol/htm [
8. روسو کے تصورات کے لیے دیکھیے:
Rosseau Jean-Jacques (2004) Emile Tr. By Barbara Foxley online available at http://gutenberg.org/etext/5427
9۔ ایڈم اسمتھ کی معاشی فکر کے مطالعے کے لیے دیکھیے اس کی کتاب:
Smith Adam (2007) An inquiry into the nature and causes of the wealth of nations online available at http://metalibriincubadora.fapesp.br/portal/authors/aninquiryintothenatureandcausesofthewealthofnations#books
10۔ مارکسی فکر کے لیے کمیونسٹ مینی فیسٹو سب سے مستند سرچشمہ مانا جاتا ہے
Marx Karl and Engels Frederick (2006) The Communist Manifesto available at http://www.anu.edu.au/polsci/marx/classics/manifesto.html

Google Buzz