ٹیگ: ’غزہ قتل عام‘


لاہور و غزہ

گزشتہ ہفتے لاہور میں قادیانی عبادت گاہ پر حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، اور اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے اور یہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب ہر کسی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ قادیانیوں کے عقیدے سے قطع نظر ایک پاکستانی کی حیثیت سے انہیں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں جوآئین پاکستان کسی بھی شہری کو عطا کرتا ہے اور آئین کی نظر سے ان کی مال و جان اور عزت بھی اسی قدرمقدم رکھی جائے جتنی کہ کسی اور مذہب کے حامل فرد کی۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ ہر پاکستانی کی طرح قادیانیوں کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے اور اس کے لیے بہترین انتظامات کرے۔

بلاشبہ لاہور میں پیش آنے والا پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب ایک اقلیتی گروہ کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اس واقعے سمیت دیگر تمام واقعات، جن میں عام شہری اور مسلمان مارے گئے، کی تحقیق کرنا اور ان کے پس پردہ عناصر کا قلع قمع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ (more…)

Google Buzz

Pirates of the Mediterranean

اسرائیل کی ننگی جارحیت، جو ہمیشہ اس کا شیوہ اور وطیرہ رہی ہے، کے باعث 20 سے زائد غیر مسلح و معصوم شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں اور اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی حالت میں ہیں۔ زیر حراست افراد میں پاکستان کے ممتاز صحافی طلعت حسین اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں۔ تمام زیر حراست افراد خصوصا طلعت حسین کے حوالے سے زیادہ تشویش لاحق ہے، جو پاکستان کا ایک عظیم سرمایہ ہیں، اور پوری پاکستانی قوم کی طرح ہم بھی دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں بخیر و عافیت وطن عزیز پہنچائے۔

اسرائیل نے پہلی بار عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا ہے، لبنان اور فلسطین کے شہروں کی حالت زار اس امر کی گواہ ہے کہ اسرائیل کسی عالمی قانون یا بنیادی اخلاقیات کا پابند نہیں ہے بلکہ صیہونیوں کی پیاس ہی شاید معصوم انسانوں کے خون سے بجھتی ہے۔

آج نجانے کیوں مجھے ریچل کوری بہت زیادہ یاد آ رہی ہے۔ امریکہ کی ایک طالبہ جو 2003ء میں غزہ کے دورے پر آئی اور ایک فلسطینی کے گھروں کو بچانے کے لیے “انسانی ڈھال” کا حصہ بنی لیکن یہ ڈھال زیادہ مضبوط ثابت نہ ہوئی اور ایک فلسطینی کا گھر بچانے کے دوران ایک اسرائیلی فوجی بلڈوزر اس پر چڑھ دوڑا اور ریچل اپنی جان دے کر ایک عظیم مثال قائم کر گئی۔

کوری کی موت کا بہت چرچا ہوا، دنیا بھر کے اخبارات میں بڑی بڑی خبریں چھپیں، تبصرے، تجزیے ہوئے، کوری کی شخصیت زیر بحث آئی، مختلف تبصرہ نگاروں نے مثبت و منفی زاویوں سے اس کے ماضی اور حال کو پرکھا۔ کبھی کبھار مجھے یہ بہت برا بھی لگتا کہ ان دنوں جب دوسری انتفاضہ کے باعث فلسطینیوں اور عام شہریوں کا روزانہ کی بنیاد پر قتل عام ہو رہا تھا، ایک امریکی لڑکی کے قتل کو اتنی شہرت کیوں ملے؟ اور ان ننھی منی فلسطینی بچیوں اور بزرگ مرد و خواتین کے قتل پر کیوں شور نہیں مچتا جو اسرائیل کے بموں اور گولیوں کا نشانہ بن گئیں؟ کیا ان کا صرف یہ قصور تھا کہ وہ فلسطینی تھیں؟ لیکن پھر یہ بات دل کو اطمینان بخشتی کہ صرف ہم میں ہی نہیں بلکہ مغرب میں بھی ہمارے موقف کے حامی موجود ہیں اور وہ بھی ایسے جو جان لڑا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ 16 مارچ 2003ء کو فلسطینیوں کے بہتے خون کے دھاروں میں ایسی جوئے خوں شامل ہوئی، جس کے سوتے مغرب سے پھوٹتے تھے۔ (more…)

Google Buzz

ترک وزیراعظم کا دلیرانہ اقدام

ترکی پہلا مسلم اکثریتی ملک ہے جس نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا اور گزشتہ 60 سالوں سے اسرائیل اور اس کے درمیان اقتصادی، عسکری و سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ترکی اسرائیل کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ 2007ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 3 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ 2008ء میں اس میں مزید اضافہ ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ بھی گزشتہ 9 سالوں سے قائم ہے۔ علاوہ ازیں عسکری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بحری جنگی مشقیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ یعنی ہر لحاظ سے دونوں ممالک بہترین تعلقات میں بندھے ہیں لیکن تمام تر معاشی و عسکری رشتوں کے باوجود ترکی ماضی میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کی ہمیشہ کرتا آیا ہے اور 2004ء میں شیخ احمد یاسین کی شہادت کو دہشت پسند اقدام اور غزہ میں اسرائیلی پالیسی کو ریاستی دہشت گردی قرار دے چکا ہے۔

erdogan_peres

اردوگان اجلاس کے دوران اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دے رہے ہیں (تصویر: AFP)

لیکن غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں اور تقریباً ڈیڑھ ہزار انسانوں کے قتل عام نے پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح پر تعلقات میں سرد مہری دیکھنے میں آئی اور اس جارحیت کے خلاف عوامی سطح پر بھی زبردست احتجاج سامنے آیا۔ ترکی نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیلی اقدامات کو “انسانیت کے خلاف جرائم” قرار دیا۔ دوسری جانب عوام نے ملک بھر میں زبردست مظاہرے کیے اور استنبول میں دو لاکھ افراد نے غزہ کے باشندوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

گزشتہ روز (29 جنوری 2009ء بروز جمعرات) سویٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ترک وزیراعظم رجب طیب اردوگان نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی تقریر پر سخت احتجاج کیا۔ جس پر اسرائیلی صدر نے زہریلا تبصرہ کرتے ہوئے کہا

ترکی کو اس وقت شور مچانا چاہیے جب میزائل استنبول پر گریں

اسرائیلی صدر کی تقریر کا جواب دینے کی کوشش کے دوران میزبان نے ترک وزیراعظم سے معذرت کی کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے جس پر رجب طیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اسرائیلی وزیراعظم کو کہا کہ “تم معصوم انسانوں کا قتل عام کر رہے ہو”۔ انہوں نے اسرائیلی صدر کی تقریر پر تالیاں بجانے والے شرکاء پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل عام پر تالیاں بجانے کا کوئی جواز نہیں۔ میزبان کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر رجب طیب نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اب میں کبھی ڈیووس اجلاس میں شرکت کروں گا۔ (واقعے کی مزید تفصیلات یہاں دیکھیے)

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں

رجب طیب اردوگان اجلاس سے واک آؤٹ کر رہے ہیں (تصویر: روزنامہ ایکسپریس)

ترک عوام نے وزیراعظم کے اس دلیرانہ اقدام کو سراہا ہے اور وطن واپسی پر ان کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ جمعہ کی صبح جب وہ وطن واپس پہنچے تو ایئرپورٹ پر 5 ہزار افراد ترک اور فلسطینی جھنڈے لیے ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

Google Buzz