لاہوری نستعلیق ڈیجیٹل آہنگ میں

14 ویں صدی کے ایرانی میر علی تبریزی نے خواب میں اک محو پرواز پرندہ دیکھا، جس کی حرکات و سکنات اور پروں کی جنبش نے بعد ازاں تبریزی کی تخلیقی صلاحیتوں کو اک نئی راہ دکھلائی اور یوں خط نستعلیق وجود میں آیا۔ نستعلیق کے پیچ و خم اسے دنیا کے خوبصورت ترین خطوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ خط شاہی محلات تک میں داد و تحسین سمیٹتا گیا یہاں تک کہ شہزادے شمشیر کے ساتھ نستعلیق پر بھی طبع آزمائی کرنے لگے۔ امیر تیمور کا پوتا ابراہیم بن شاہ رخ نستعلیق کے اولین بہترین خطاطوں میں سے ایک تھا اور اس کے بعد ہندوستان سے لے کر سلطنت عثمانیہ تک شاہوں، شہزادوں اور خطاطوں کی اک طویل فہرست ہے جو خط نستعلیق پر مہارت رکھتے تھے۔

ہندوستان میں اس خط نے خوب پذیرائی حاصل کی، یہاں تک کہ ہندوستانیوں نے اسے اپنی نئی زبان اردو کے لیے منتخب کر لیا یعنی خط نستعلیق ہمیشہ کے لیے ہندوستانیوں کے دلوں میں گھر کر چکا تھا۔

آج ڈیجیٹل عہد میں پہنچنے سے قبل اردو کتابت نے اک سخت وقت گزارا ہے۔ دنیا مشینی کتابت کو عرصہ ہوا اختیار کر چکی تھی لیکن نستعلیق کی زلف گرہ گیر کے اسیر پاک و ہند کے باسی مشینی کتابت کو اختیار کرنے کو تیار نہ تھے کیونکہ وہ نستعلیق نہیں لکھ سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صرف نستعلیق کے حسن کی وجہ سے کاتبوں کی ایک فوج ظفر موج اخبارات، جرائد اور رسائل کے دفاتر میں موجود نظر آتی جو ہاتھ سے اُن کا مواد خط نستعلیق میں لکھا کرتی۔ کام ہوتا تاخیر سے تھا لیکن بہت نفاست اور خوبصورتی کے ساتھ ہوتا۔

یہاں تک کہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں کراچی سے تعلق رکھنے والے احمد مرزا جمیل نے اشکال کی بنیاد پر اک ایسی تختی مرتب کی جس کے ذریعے اک نستعلیق اردو فونٹ کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ انہوں نے اردو میں استعمال ہونے والے الفاظ کی پہلے سے طے شدہ اشکال بنائیں اور ہزاروں اشکال جب بیرون ملک سے ڈیجیٹائز کروائی گئیں تو 'نوری نستعلیق ' منظرعام پر آیا۔ اک ایسا خط جس نے دہائیوں تک دنیائے اردو پر راج کیا۔

لیکن نوری نستعلیق، جسے ترقی کے مدارج طے کرنے چاہیے تھے، اک سافٹویئر کے ڈبے میں قید تھا اور جدید رحجانات کو اختیار نہ کرنا اس کے لیے موت کا سبب بن سکتا تھا کیونکہ کمپیوٹر پر تحریری صورت میں اردو لکھنا ممکن ہو جانے کے بعد تو اشد ضرورت تھی کہ اک ایسا قابل استعمال اردو فونٹ ہو جس کے ذریعے اردو مواد عام و دفتری کاموں کے ساتھ انٹرنیٹ پر پیش کیا جاتا، تاکہ وہ سرچ انجن کے ذریعے تلاش بھی کیا جا سکے اور کسی مخصوص سافٹویئر کا محتاج بھی نہ ہو۔

ان حالات میں یونیکوڈ نستعلیق فونٹ کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ پاک نستعلیق، نفیس نستعلیق، علوی نستعلیق اور جمیل نستعلیق کے سنگ ہائے میل عبور کرنے کے بعد اردو کا یہ سفر آج اک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے وہ ہے اک مکمل اوپن سورس لاہوری نستعلیق فونٹ "تاج نستعلیق"۔

مذکورہ بالا فونٹس میں سے پاک اور نفیس قبولیت عام کا درجہ نہ پا سکے، جس کی وجہ بالترتیب خوبصورتی میں کمی اور قابل استعمال نہ ہونا تھی لیکن علوی اور جمیل نستعلیق نے یہ کمی کسی حدتک پوری کی۔ لیکن کیونکہ یہ احمد مرزا جمیل کے نوری نستعلیق کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے، اس لیے حقوق کے معاملے کی قباحت ہمیشہ محفوظ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر بڑے اداروں نے ان فونٹس کو مکمل طور پر اختیار کرنے سے اجتناب برتا۔

یہی بات اٹک سے تعلق رکھنے والے بزرگ خطاط و شاعر شاکر القادری کو کھٹکتی رہی۔ انہوں نے علوی نستعلیق کے اجراء کے بعد اٹھنے والے حقوق کے معاملے کے ساتھ ہی ٹھان لی کہ وہ اردو کے لیے اک ایسا فونٹ بنائیں گے جو ایک طرف خوبصورتی میں بھی اپنی مثال آپ ہوگا تو دوسری جانب حقوق سے آزاد بھی۔

تین سال کی شبانہ روز محنت کے بعد شاکر القادری اس کوشش میں کامیاب ہو گئے اور تاج نستعلیق کا پہلا نمونہ یوم اقبال پر عوام کے سامنے آیا۔

تاج نستعلیق اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ خالصتاً نستعلیق کے لاہوری انداز کا عکاس ہے اور اس فونٹ کی تخلیق کے لیے شاکر القادری کی نظر انتخاب مشہور خطاط تاج الدین زریں رقم کی خطاطی پر پڑی جس کو بنیاد بنا کر 30 ہزار اشکال مرتب کی گئیں۔

اب یہ اشکال تاج نستعلیق کے نام سے اردو کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں اور شاکر القادری اور اس کام میں حصہ لینے والے دیگر ساتھیوں کا نام تاریخ میں امر کر چکی ہیں۔ ان کا اگلا ہدف کشیدہ کی سہولت کا حامل فونٹ کا اگلا ورژن جاری کرنا ہے، جس کے نتیجے میں اس خوبصورت فونٹ کے حسن کو چار چاند لگ جائیں گے۔

یہ فونٹ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

11 تبصرے

  1. حسان says:

    ویسے عرصہ دراز سے میرے ذہن میں ایک چیز کھٹک رہی ہے ممکن ہے کہ آپ جواب دے سکیں۔۔
    کیا وجہ ہے کہ بہت سےنستعلیق فونٹ اوپن سورس اور دستیاب ہونے کے باوجود یونیکوڈ کے اندر ابھی تک نستعلیق استعمال نہیں ہورہا۔۔ جبکہ انپیج اور اردو پرنٹنگ میں تو اس کسے سوا کسی اور کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ پھر کیوں بی بی سی اردو جیسی سروس بھی نستعلیق استعمال نہیں کرتی۔۔ اور کیوں فیس بک اور سوشل میڈیا پر ہمیں کہیں یہ رسم الخط نظر نہیں آتا۔

    • ابوشامل says:

      بی بی سی اور دیگر بڑی ویب سائٹس کی جانب سے استعمال نہ کرنے کی وجہ میں نے تحریر میں بیان کی ہے کہ کوئی ایسا نستعلیق فونٹ سرے سے موجود ہی نہیں جس کے حقوق آزاد ہوں یعنی کہ اس میں کاپی رائٹ کی قباحت نہ ہو۔ جمیل نستعلیق اور علوی نستعلیق کیونکہ ان پیج کے نوری نستعلیق سے بنائے گئے تھے اس لیے تمام تر خوبیوں کے باوجود اس کے استعمال پر یہ بڑے ادارہ آمادہ نہیں ہوں گے۔ اب اس سمت میں پہلا قدم تاج نستعلیق کے ذریعے اٹھایا گیا ہے اور یہی ایک خوبی تاج نستعلیق کو پچھلے تمام فونٹس پر برتری دلاتی ہے۔
      باقی رہی فیس بک اور سوشل میڈیا کی بات تو یہ ان ویب سائٹس کے مالکان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ کے لیے کون سا فونٹ منتخب کرتے ہیں، ہم ان پر کسی مخصوص فونٹ کے لیے دباؤ تو نہیں ڈال سکتے۔

      • حسان صاحب غالباً نفیس نستعلیق اور پاک نستعلیق کی بات کر رہے ہیں جو کہ آزاد اور اوپن سورس فانٹس ہیں۔ پاک نستعلیق کا پراجیکٹ تو کبھی مکمل ہی نہ ہو پایا۔ نفیس نستعلیق مکمل تو تھا، اور کافی خوب صورت بھی، لیکن اس کی رینڈرنگ خالصتاً کریکٹر بیسڈ ہونے کے باعث نسبتاً سست رفتار تھی۔ چنانچہ ان دونوں کو کوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں ہو پائی۔

  2. اُردو کے رسم الخط ایم ایس آفس اور فیس بُک وغیرہ میں پہلے سے موجود نہ ہونے میں اُردو بولنے والوں کا ہی قصور ہے ۔ سروے کر کے دیکھ لیجئے کہ اردو بولنے والوں کی بھاری اکثریت اردو لکھنا پسند نہیں کرتی۔ انگریزی درست جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں

  3. نبیل says:

    تاج نستعلیق کے بارے میں لکھنے کا شکریہ فہد۔
    آج کل کسی سائٹ کو اپنی مرضی کے فونٹ میں دیکھنا مشکل نہیں رہا ہے۔ فیس بک، بی بی سی اردو وغیرہ کو فائرفاکس اور گوگل کروم پر کچھ ایکسٹنشنز کے استعمال کے بعد بآسانی نستعلیق فونٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

  4. ناصر says:

    سوال یہ ہے کہ اس فونٹ کی تیاری سے اجراء تک کے اخراجات کس نے پورے کیے
    اور آئندہ بھی اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے اگر کوئی کام ہوگا تو اس کے لیے کسی بڑے ادارے جیسے میری نظر میں اقبال اکیڈمی جیسے ادارے کو کچھ کرنا چاہیے

  5. عبدالخالق بٹ says:

    السلام علیکم !
    بھئی واہ ! ایک بار پھر بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر پڑھنے کو ملی، خطاطی ان فنون میں سے ایک ہے جن کی آبیاری مسلمانوں نے اپنے لہو سے کی ہے۔ خطاطی کی تاریخ ایک جداگانہ اور دلچسپ موضوع ہے ۔
    خیر فہدبھائی بہت شکریہ بس ایک چھوٹی سی بات عرض گزار کرنی تھی اور وہ یہ کہ " خط نستعلیق" کی ایجاد اور موجد کا حوالہ محل نظرہے ، میری ناقص رائے میں اس کا موجد غالباً " ابن مقلہ" تھا ۔ایک ایسے وقت میں جب کہ " خط نسخ " نے دیگر تمام خطوط پر "خط تنسیخ "پھیر دیا تھا (اور نسخ کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی ایجاد کے بعد دیگر خطوط مثلاً خط کوفی وغیر ہ منسوخ ہوگئے تھے )،اور اس کا استعمال عام رواج پاچکا تھا تب "ابن مقلہ "(غالباً یہی نام ہے ) نے "خط نسخ " اور "خط تعالیق" کے امتزاج سے جو خط تخلیق کیا وہ "نستعلیق"کہلایا ۔واللہ عالم بالصواب

    • ابوشامل says:

      وعلیکم السلام محترم،

      آپ نے توجہ دلائی ہے تو اس جانب بھی نظر دوڑاتے ہیں۔ میں نے جہاں پڑھا تھا وہاں یہی لکھا تھا کہ میر علی تبریزی نے خط نستعلیق ایجاد کیا تھا۔ چند اور حوالے بھی دیکھتا ہوں تو شاید بات واضح ہو جائے۔ ویسے آپ نے کہا ہے تو کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہوگی 🙂

  6. اس مفید پوسٹ کے لئے شکریہ بھائی جان! ایم ایس ورڈ میں کئی نستعلیق فونٹ آزما کر دیکھ چکا ہوں مگر سب کچھوے کی چال چلتے ہیں، میں ’’ کیا حال ہے؟‘‘ لکھ رہا ہوتا ہوں مگر سکرین پر ابھی ’’ السلام و علیکم !‘‘ بھی پورا نہیں ابھرا ہوتا۔ دیکھتے ہیں اگر اس فونٹ نے کام دیا تو۔ 🙂

  7. انٹرنیٹ پر نستعلیق لکھنے اور پڑھنے میں ایک دشواری یہ بھی ہے کہ نستعلیق فونٹس پندرہ میگابائٹس تک ہوتے ہیں جو کہ آپ کو ڈاؤنلوڈ کرنے پڑتے ہیں. تاج نستعلیق ہے تو اوپن سورس مگر اس کو استعمال کرنے کے لئے آپ کو اپنے تمام صارفین کو بولنا پڑے گا کہ پلیز یہ فونٹ ڈاؤنلوڈ کر لیں ہماری سائٹ دیکھنے کے لئے. ایسے موقعے پر آپ کو نفیس استعمال کرنا پڑتا ہے جو کہ دو سو کے بی کا ہے اور سی ایس ایس کی font-face property ساتھ امبیڈ کیا جا سکتا ہے.
    نفیس مگر خوصورت اور مکمل نہیں.
    مگر ایک اوپن سورس نستعلیق فونٹ ایک نہایت ہی خوش آئند خبر ہے. اب اگلا قدم اس سمت میں بڑھانا ہو گا کہ ایک اوپن سورس نستعلیق فونٹ جو کہ دو تین سو کے بی سے بڑا نہ ہو. یہ فونٹ نہ صرف بلاگس میں استعمال ہو سکے گا بلکے فیسبک ٹویٹر گوگل وغیرہ بھی اسے اپنا سکیں گے اور ہمیں ہر جگہ بدصورت اردو خط نہیں پڑے گا. تب تک تمام بڑی سائٹس بدنما ایریل خط استعمال کرتے رہیں گے جس کو پڑھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے . - ڈان اردو بھی یہی خط استعمال کرتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *