اردو وکیپیڈیا پر اصطلاحات - وکی انتظامیہ کا موقف

سوائے شاعری ، نثر (ادبی) اور مذہب کے ، تمام تر علوم میں انتہائی پسماندہ اردو زبان کے لیے اردو دائرۃ المعارف نے ابتداء سے ہی یہ کوشش رکھی کہ جس قدر ہوسکے ان علوم کی اصطلاحات کو اردو ہی میں درج کیا جائے جو کہ اردو سے غالباً یکسر ناپید ہیں۔ اس کوشش کے دوران جب کسی اصطلاح کا ایسا اندراج سامنے آئے کہ جو عربی ابجد کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی میں (یعنی عربیزدہ انگریزی) لکھا گیا ہو تو دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کی اصلاح کر کے اردو متبادل سے تبدیل کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس سعی پر جو بار بار کا ایک گھسا پٹا رد عمل سامنے آتا ہے وہ ہے کہ ؛ "-----اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے-----" اور اس دقیانوسی رٹے رٹائے جملے کو ادا کر کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ تمام مسائل حل ہو گئے اور اب اردو میں کسی ترقی کی ضرورت باقی نہیں رہی کہ وہ تو ہر زبان سمو لینے کی قدرتی صلاحیت سے مالا مال ہے ہی ، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔

مولوی یا کچھ اور؟

فی الحقیقت یہی "-----اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے-----" والی سوچ ہے کہ جس نے اردو کو ترقی یافتہ زبانوں کی جانب لے جانے والے تمام دروازوں کو ہمیشہ بند رکھا۔ گو اردو میں علومِ دنیا کے موضوعات پر ناکافی (سائنسی) ادب ہونے اور بطور خاص سائنس میں اسلامی دنیا کی پسماندگی کا الزام تجزیہ نگاروں نے مولویوں پر بارہا لگایا ہے کہ ان مولویوں نے اسلامی زبانوں کو سائنس سے دور رکھا ، یہ بات مکمل طور پر درست نہیں بلکہ شائد بالکل درست نہیں ، اسلامی ممالک میں بولی جانے والی زبانوں (خواہ وہ عربی ابجد استعمال کرتی ہوں یا غیر عربی) اور بالخصوص اردو میں دنیاوی علوم پر مستند مواد کی ناقصیت و ناپیدی مولویوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی متعدد وجوہات کے ساتھ ساتھ مذکورہ بالا دقیانوسی سوچ بھی ایک وجہ ہے جس نے ہر زمانے میں سائنسی اصطلاحات کو اردو میں تلاش کرنے سے متعلق ناصرف عدم دلچسپی پیدا کی بلکہ ان اصطلاحات کو رائج العام ہونے سے بھی روکے رکھا۔

سمونا کیا ہے؟

اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اول تو یہ کہ اس میں سوائے انگریزی کے دیگر زبانوں کے الفاظ کیوں نہیں سموئے جاتے؟ اگر اردو میں ہر زبان کا لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے تو پھر اس میں کتنے الفاظ جاپانی کے ہیں ؟ کتنے فرانسیسی کے ہیں ؟ اور جو انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے چند ایک الفاظ ہیں بھی (جیسے جاپانی کا رکشا) تو وہ بھی انگریزی ہی سے سموئے گئے ہیں ؛ بلکہ مضحکہ خیز بات یہ کہ انگریزی کا سمجھ کر ہی سموئے گئے ہیں۔ اگر اردو دیگر زبانوں کے الفاظ سے مل کر وجود میں آئی تھی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے یہ بہانہ تراش لیا جائے کہ اردو میں تمام کے تمام الفاظ بس انگریزی سے لے لے کے لکھے جاتے رہیں؟ آج کی بولی جانے والی زبانوں میں سے کون سی زبان دنیا کی ایسی ہے کہ جو اپنے سے قدیم (بسا اوقات ناپید) زبان سے الفاظ نہیں لیتی؟ مگر ان زبانوں کے بولنے والے تو کبھی یہ بہانا نہیں تراشتے کہ ہماری زبان میں ہر لفظ سمو لینے کی صلاحیت ہے! کیوں؟ انتہائی عام مثال ہے ؛ germ کے لیے بنے ہوئے الفاظ جرثوم ، جراثیم حتیٰ کے اس میں عربی قاعدے کے مطابق ہ کے اضافے سے جرثومہ تک بن جانے کے باوجود آج بھی عربی کی لغات میں اسے غیر عربی ہی لکھا جاتا ہے۔

کیا صرف اردو؟

یہ دوسری زبانوں کو اپنے اندر سمو لینے والی بات محض اردو زبان کے لیے مخصوص نہیں ہے؛ ہر زبان انسانی رابطے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرنے والے افراد اس میں وہ الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کہ جس کے بارے میں ان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ مخاطب کی سمجھ میں آ جائیں گے۔ کسی بھی زبان میں اس کے قواعد کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ، کسی دوسری غیر زبان کا کوئی بھی لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے؛

جیسے اردو میں کہا جائے کہ : اس نے خود کو اس کام کے لیے کمیٹڈ کر لیا ہے۔

تو ایسے ہی انگریزی میں کہا جاسکتا ہے کہ : He was a prominent mufassir of his time.

مذکورہ بالا دونوں مثالوں میں جب تک مُخاطِب اور مُخاطَب واضح کیے گئے بالترتیب اردو اور انگریزی کے لیے غیر زبان کے الفاظ سے واقف نہیں ہونگے ان الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا، یعنی کسی --- روزمرہ --- گفتگو کی زبان میں وہی الفاظ اختیار کیے جاتے ہیں کہ جو رائج ہوں (رائج پر بحث آگے کسی قطعے میں آئے گی)۔ انگریزی اور اردو کے ان دو چھوٹے سے جملوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اردو میں کوئی ایسی انوکھی خوبی نہیں ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سموتی رہے ، ایسا تو ہر زبان میں ممکن ہے گو یہاں محض نویسات کی طرزیاتی قیود کے باعث منگولی ، بنگالی اور جاپانی وغیرہ کی مثالیں نہیں لکھی گئیں۔

سموئے ہیں یا ٹھونسے گئے؟

درحقیقت یہ سمونے والا لفظ ایک دھوکا اور فریب ہے، معاملہ کچھ یوں ہے کہ اردو میں انگریزی کے جو الفاظ روزمرہ گفتگو میں دھڑا دھڑ اور بلا کسی شرم و افسوس کے استعمال کیے جاتے ہیں وہ بیچاری اردو نے اپنے اندر سموئے نہیں ہیں ، وہ تو اس کے اندر زبردستی ٹھونسے گئے ہیں۔ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پندرھویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی کے اواخر تک ہندوستان پر قائم رہنے والی حکومت میں ابتدائی طور پر فارسی اور پھر اردو کے بجائے انگریزی زبان استعمال کی جاتی تھی؟ اور کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس قدر طویل المیعاد حکومت کسی بھی قسم کی سائنسی سرگرمی سے یکسر نا بلد رہی ہو؟ کیا ہندسیات ، طرزیات اور ریاضیات کے علوم سے لاعلم افراد ہمایوں کا مقبرہ ، فتح پور سیکری اور تاج محل و لال قلعہ جیسی تعمیرات کر سکتے ہیں؟ کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ جدید علوم اور دنیاوی ترقی سے ناآشنا حیدر علی اور پھر ٹیپوسلطان کی افواج ، چین میں دریافت ہونے والے بارود کے استعمال کو نفاست اور ترقی کی انتہا پر لے جا کر اسے کامیابی کے ساتھ بطور missile استعمال کرسکتی ہو؟ [1]یا پھر کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مذکورہ بالا تمام تر دنیاوی علوم کی ترقی اس زمانے میں فارسی اور اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہو رہی تھی؟ یہ تو وہ زمانہ تھا کہ جب انگریزی کے رنگ برنگے الفاظ تو کجا ، خود لفظ ---- انگریزی ---- بھی ناپید تھا۔

کہاں بنی اور کہاں بگڑی؟

عہد مغلیہ کے ابتدائی دور میں عربی اور فارسی کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل رہنے اور پھر درجہ بہ درجہ شاہجہاں کے دور تک اردو کے ایک مسلمہ زبان صورت اختیار کرنے [2]سے  یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اردو کی ابتداء بھی کوئی پندرھویں صدی سے ہی ہوئی ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہے آج سے کوئی نو سو سال قبل ، سلطنت دلی سے بھی پہلے ، وسط ایشیا کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لشکروں میں ایک بین اللسانی رابطے کی زبان وجود پاچکی تھی جس کو ریختہ بھی کہا جاتا ہے [3]اس زبان ریختہ میں وسط ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی وجہ سے فارسی کا بہت گہرا اثر تھا، اس میں ترکی بھی پائی جاتی تھی اور عربی بھی۔ اور پھر جب ان لشکروں کا ہندوستان پر اثر بڑھتا گیا اور سلطنت دلی کے وجود پا جانے کی وجہ سے ان کی زبان ریختہ ہندوستان کے علاقائی لسانی قواعد سے امتزاج کرتی گئی اور رفتہ رفتہ بارہویں صدی کے آغاز سے اردو کی تشکیل کا آغاز ہوا۔ دنیا کے دوسری جانب کا منظر بطور اندازہ بیان کیا جائے تو یہ وہ زمانہ تھا کہ جب اسپین میں امارت غرناطہ اپنی بقا و فنا کی کشمکش سے ابھی دور اور نسبتاً پرسکون سی تھی۔ امیر خسرو(1253ء - 1325ء) کو اس نئی بننے والی زبان کا پہلا شاعر کہا جاتا ہے۔

عروج

یہ بات تو بکثرت لکھی جاتی ہے کہ عرب سائنسدانوں (جن میں تمام مادری زبان والے عرب نہیں تھے) نے اعداد اور صفر کا تصور ہندوستان سے لیا اور اسی وجہ سے اعداد کو ہندسہ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس بارے میں تحقیق بہت ناکافی ہے کہ طارق بن زیاد کے اسپین میں داخل ہونے کے ساتھ 711ء میں ہی ہندوستان میں داخل ہو کر 1857ء تک موثر رہنے والے ان افراد کی سائنس و طرزیاتی میدانوں میں سرگرمیاں کیا رہیں کہ جن کا رسم الخط موجودہ اردو کی پیدائش کا موجب بنا۔ لیکن بہرحال ایک بات طے ہے کہ ہڑپہ کے زمانے سے انیسویں صدی تک جو بھی سائنسی ترقی ہوئی اس میں انگریزی زبان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ عہد مغلیہ کی بات کی جائے تو یہ بات متعدد تاریخی دستاویزات سے ظاہر کہ تعمیرات (اور اس سے متعلقہ ہندسیات و ریاضیات، پارچہ بافی، حرکابی ہندسیات ، علم طب اور ادویہ سازی کے شعبہ جات جامد نہیں تھے بلکہ مغل اپنے ساتھ ہندوستان میں اسلامی دنیا کی طرزیات اور علوم بھی لائے تھے؛ مغل بادشاہ بہادر شاہ اول کے پوتے محمد شاہ (روشن اختر) کے کہنے پر جے سنگھ سوائی (1688ء تا 1743ء) نے دلی میں جنتر منتر کے نام سے رصد گاہ تعمیر کی[4]،  جس میں قدیم ہندوستانی اور اسلامی علوم فلکیات سے استفادہ کیا گیا اور اردو چونکہ شاہجہاں کے زمانے سے سرکاری دستاویزات تک رسائی حاصل کر چکی تھی لہذا اس جنتر منتر کی تعمیر  کے دوران درکار روابط میں اردو کا کردار غیر موجود کہنا بھی غیر منطقی بات ہوگی۔ اب اس بات میں کلام نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں اور تحاریک ، انگریزی کی بیساکھیوں کے بغیر جاری تھیں۔

انگریزی کی بھرمار کا پس منظر

عربی کی ایک ضرب المثل یہاں صادق آتی ہے جس کا ترجمہ ہے کہ 'لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں'۔ اردو کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ انگریزوں نے برصغیر پر راج کیا اور اپنا اقتدار برصغیر کو آزاد کرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی حد تک قائم رکھا۔ لارڈ میکالے اور دیگر انگریزوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ اگر اس علاقے پر اپنا اقتدار قائم رکھنا ہے تو انہیں ان کی زبان سے محروم کر دو اور ایسے لوگ پیدا کرو جو رنگ و نسل میں تو ہندوستانی ہوں مگر چال ڈھال اور نظریات میں انگریز بننے میں سبقت کی کوشش کرتے رہیں۔ اگر انگریز نہ ہوتے تو اردو کی ترقی اس نہج پر آ چکی تھی کہ برما (رنگون) سے لے کر کابل تک بے شمار لوگ اردو بول اور سمجھ سکتے تھے حالانکہ یہ ان کی مادری زبان نہ تھی۔ اردو ایک انتہائی بڑے علاقے کی مشترک زبان بن رہی تھی جس کی آبادی دنیا کا پانچواں حصہ تھی۔ مگر پہلے تو انگریزوں نے تعلیم کا طریقہ بدلا اور انگریزی کو رائج کیا۔ پھر رسم الخط کا جھگڑا کھڑا کیا جس سے اردو ایسی زبان بن گئی جسے دو مختلف رسوم الخط میں لکھنے روایت پڑی۔ ہندو اکثریت نے اردو کو ہندی کہا اور اس میں عربی اور فارسی کے الفاظ جو بخوبی اردو کا حصہ بن چکے تھے انہیں نکال کر سنسکرت کے الفاظ رائج کئے اور یہ سلسلہ پچھلے ساٹھ سال سے جاری ہے۔ دوسری طرف اردو میں انگریزی الفاظ کی بھرمار شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ ایسے الفاظ متروک ہو گئے ہیں جو اردو میں موجود تھے مگر اب ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ بولنا فخر سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف ممالک کے نام لوگ وہ لینا پسند کرتے ہیں جو انگریزی میں رائج ہوں چاہے اس ملک کے لوگ کچھ اور کہتے ہوں۔ مثال کے طور پر 'اطالیہ' لفظ اردو میں رائج تھا اور خود اطالیہ کے لوگ اپنے ملک کو ایسے ہی پکارتے ہیں مگر احباب اسے اٹلی کہنے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں ممالک کے ناموں تک محدود نہیں بلکہ بے شمار ہیں۔

انگریزوں کے اقدامات

1900ء میں انگریزوں نے بغیر کسی طلب کے اردو اور ہندی کو برابر کی زبانیں قرار دیا جس کا مقصد تھا کہ ایک ہی زبان کو دو رسوم الخط کی بنیاد پر دو زبانیں قرار دیا جائے۔ اس کے بعد اردو اور ہندی جو بنیادی طور پر ایک ہی زبان تھی ایک دوری پیدا ہونا شروع ہو گئی۔انگریزوں نے اس خیال کو ترقی دی کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی ہندو لوگوں کی۔ اس سے غیر مسلموں میں اردو سے ایک نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس نے مسلمانوں اور ہندو اقوام کے درمیان لسانی فسادات کو جنم دیا[5]۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950ء میں بھارت کے آئین کے تحت دیوناگری رسم الخط رکھنے والی ہندی زبان کو بھارت کی سرکاری زبان قرار دیا گیا۔

موجودہ دور کی انگریزی زدگی

موجودہ دور کی انگریز زدگی کی واضح مثال خود اخبارات و جرائد ہیں جہاں ایسی اردو استعمال کی جاتی ہے جس میں ایسے انگریزی الفاظ موجود ہوں جن کے اردو متبادل اردو الفاظ نہ صرف موجود ہیں بلکہ ماضی میں بخوبی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہ کام نام نہاد اردو کے اخبارات و جرائد کر رہے ہیں۔ یہاں کچھ ایسی مثالیں درج کی جا رہی ہیں جس میں اردو لفظ اور اس کے ساتھ آج کل استعمال ہونے والے الفاظ دیے گئے ہیں۔ اردو لفظ (اردو لفظ کی جگہ استعمال ہونے والا لفظ): انگریزی (انگلش)، نشست (سیٹ)، اطالیہ (اٹلی)، مزاح (کامیڈی)،سمندر پار (اوورسیز)،بین المدتی (مڈ ٹرم)، مجلس یا پارلیمان (پارلیمنٹ)،کھیل (گیمز) ۔ ۔ دوسری مثال پاکستان میں، جہاں کی 90 فی صد آبادی اردو سمجھتی ہے، تمام سرکاری سطح پر انگریزی یا انگریزی زدہ اردو کا استعمال ہے۔ پارلیمان میں تمام حلف انگریزی زبان میں اٹھائے جاتے ہیں، تمام سرکاری بیانات انگریزی میں دیے جاتے ہیں، تمام عدالتی فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں، مقابلے کے امتحانات میں انگریزی لازمی ہے مگر اردو نہیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ بھارت میں اخبارات و دور درشن وغیرہ پر اردو اور ہندی دونوں میں ایسی زبان استعمال ہوتی ہے جو عام بھارتی افراد نہیں بولتے۔ اس میں سنسکرت کی بھرمار ہوتی ہے جبکہ عام لوگ جو زبان آج بھی بول رہے اس میں سنسکرت کی اتنی بھرمار نہیں۔

وہ بد حواسی ہے کہ ۔۔۔

یہ بات ہر اس شخص پر عیاں ہو جائے گی جو اردو میں استعمال کیے جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ کا متلاشی ہوگا کہ اردو کا گھر عربی ہی ہے۔ ان الفاظ کی اکثریت بھی کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی ہیں ، اصل میں عربی سے ہی فارسی میں آئے ہیں اور یوں عربی ہی ہیں۔ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں میں کتابوں سے محبت کا جذبہ سویا نہیں تھا اور مسلمان مختلف موضوعات پر کتابیں تخلیق کر رہے تھے اور ان میں تمام لکھنے والے عرب نہ ہونے کے باوجود تمام کتب کی زبان عربی ہی ہوا کرتی تھی۔ عربی میں کوئی خاص بات نہیں ، وہ بھی بس ایک انسانی رابطے کا ذریعہ ہی ہے ، جیسے اردو اور فارسی یا انگریزی؛ مگر اس کے باوجود یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عربی میں علمی (سائنسی) اصطلاحات پیدا کرنے کی صلاحیت اردو اور فارسی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ سائنس میں انتہائی ضروری بات ، اصطلاحات کا زندہ ہونا ہے۔ اگر اصطلاحات کے بجائے عبارات (یعنی پورے پورے جملے) لکھے جائیں گے تو سائنسی موضوعات پر کچھ لکھنا نا صرف ناممکن ہوگا بلکہ نوبت یہاں تک آئے گی کہ ترجمہ اور ہو بہو انگریزی سائنسی مضامین کی نقل تک نا ممکن ہو جائے گی۔ فارسی میں ایک رجحان پیدا ہوا ، فارسی کو خالص بنانے کا ، باالفاظ دیگر فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج فارسی میں سائنسی مضامین لکھنا دشوار ترین ہو چکا ہے۔

کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر نہیں معلوم
وہ بد حواسی ہے اپنا ہی گھر نہیں معلوم

اردو والوں کو فارسی سے لگے رہنے کا نقصان یہ اٹھانا پڑا کہ ایک طرف تو یہ کہ بدحالی کی جانب گامزن فارسی سے جدید اصطلاحات کے الفاظ نہیں مل سکے اور دوسری جانب وہ انگریزی میں سیلاب کی طرح بہی چلی آنے والی اصطلاحات کا متبادل تلاش کرنے کے لیے عربی کی جانب متوجہ ہونے سے بھی ہچکچاتے رہے یعنی اس اصطلاحات کا بروقت متبادل دستیاب نہ ہونے کی صورتحال نے اردو دانوں کی اکثریت (تمام نہیں) میں ایک ایسی بدحواسی پیدا کر دی کہ وہ اس انگریزی میں برستے ہوئے سائنسی اصطلاحاتی اولوں سے اپنا سر چھپانے کے لیے اپنے گھر کی چھت کے نیچے بھی نہ آسکے ، خود اردو کو بدحواسی کے عالم میں اپنے گھر کی جانب بھی جانے کا موقع نہ دے سکے۔

فارسی پاک کرو!

عرصۂ دراز تک عربی سے مستفید ہونے کے بعد ، عرصۂ دراز تک مادری زبان فارسی رکھنے والے مسلم سائنسدانوں کے اپنی شہرۂ آفاق تصانیف عربی میں لکھتے رہنے کے بعد بالآخر نفرت کی دیواریں لسانیات میں بھی کھڑی کی جانے لگیں۔ فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا رجحان انیسویں صدی کے اواخر سے دکھائی دیا جانے لگا اور آج اس کو پرانی فارسی کی کتب اور پھر موجودہ فارسی کتب کو پڑھنے والے باآسانی محسوس کر لیتے ہیں۔ فارسی سے عربی الفاظ کو نکالنے کے سلسلے میں ایران کے جنوب میں واقع قدیم شہر جنداق سے تعلق رکھنے ابوالحسن یغمۂ جنداقی کا نام ابتداء کرنے والوں میں شامل کیا جاسکتا ہے، جنداقی نے اپنی کتاب کلیاتِ یغمۂ جنداقی[6] فارسی کو عربی سے پاک کرنے کی اس روش یا طرز عمل کو "تازہ روشِ نو دیدار" کا نام دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس روش نے نہ صرف یہ کہ فارسی کو عربی کی بلاغت سے محروم کرنا شروع کر دیا بلکہ اسلام سے قریب الفاظ (یہاں مذہبی تفریق سے مقصود نہیں بلکہ صرف اس حقیقت کا بیان ہے کہ عربی الفاظ اسلام سے قریب ہی تصور کیے جاتے ہیں) سے بھی فارسی کو محروم کرنا شروع کر دیا ، اسلامی عربی ناموں کی جگہ پہاڑوں اور غاروں میں سے ڈھونڈ دھونڈ کر قبل از اسلام کی اصطلاحات بھری جانے لگیں اور اس تمام صورتحال نے فارسی کو سائنس کے میدان میں مفلوج کر ڈالا کیونکہ ایک تو اس سے وہ صدیوں کی آزمودہ اصطلاحات غائب ہونا شروع ہو گئیں جو کہ مسلم سائنسدان ؛ مسلم اندلس اور اور بغداد کے مدینۃ الحکمت میں عربی اور فارسی کو عطا کر چکے تھے اور امت سے ہم آہنگی کا ایک رشتہ بھی کمزور ہو گیا[7]۔ آج کی فارسی وہ فارسی نہیں ہے کہ جس میں اقبال نے شاعری کی تھی

علم از سامانِ حفظِ زندگی است
علم از اسبابِ تقویمِ خودی است

مندرجہ بالا اقبال کا فارسی شعر پڑھنے کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے اصل فارسی پر عربی کا کس قدر گہرا اثر ہے اور اس میں کس کثرت سے عربی اصطلاحات و الفاظ استعمال ہوتے ہیں؛ مذکورہ بالا ----- فارسی شعر ----- میں کل 12 الفاظ ہیں جن میں سے 5 (علم ، حفظ ، اسباب ، تقویم اور خودی) عربی ہیں۔ یہ تو صرف ایک عام فہم شعر کی مثال ہے اگر دیگر قدیم کتب کا مطالعہ کیا جائے (مسلم سائنسدانوں کی کتب کی تو خیر بات ہی الگ ہے کہ وہ تو مکمل عربی ہی میں ہیں) تو وہ اس شعر کی نسبت بہت زیادہ عربی الفاظ سے بھری ہوتی ہیں۔

اردو کا خسارہ

غضب یہ نہیں ہوا کہ فارسی سے عربی الفاظ نکالنے سے صرف فارسی ہی علمی اصطلاحات سے محروم ہوتی گئی بلکہ غضب یہ ہوا کہ اس خطے میں بسنے والے تمام افراد جدید علوم کو اپنے اندر سمولینے کے بجائے اس سے ذہنی طور پر مغلوب ہوتے چلے گئے؛ یہ ذہنی مغلوبی براہ راست سائنس یا جدید علوم الدنیا سے تو ہوئی ، ساتھ ہی ساتھ اس زبان سے بھی ہوئی کہ جس میں یہ سائنسی اور جدید علوم کی اصطلاحات آنا شروع ہوئیں۔ جدید علوم الدنیا کو اردو میں سمونے کے بجائے اردو میں انگریزی سموئی جانے لگی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے لے کر مغلیہ دور کے اواخر تک یہاں فارسی ہی کا سکہ چلتا رہا اور ہندوؤں نے بھی فارسی کو بخوشی و بخوبی اپنایا کیونکہ یہ ناصرف تمام اداروں اور دفاتر میں لازم تھی بلکہ اس کا سیکھنا تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ ہونا تصور کیا جاتا تھا ، بالکل ایسے ہی کہ جسے آج کسی انگریزی نہ سمجھنے والے کو انگریزی سمجھنے والے کی نسبت جاہل سمجھا جاتا ہے۔ فارسی کے یوں اہم ترین زبان کا رتبہ رکھنے والے دور میں بھی عربی کی علمی حیثیت اپنی جگہ برقرار تھی اور عربی زبان کی تحصیل کے بغیر اعلیٰ تعلیمی اسناد کا حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔

اردو نوازی

بہرحال یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ انگریز قوم جب یہاں آئی تو اس کے سامنے سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ یہاں عرصے سے حکومت کرتی چلی آنے والی قوم کو ذہنی طور پر کمزور اور ناتواں کیا جائے اور اس سلسلے میں سب سے اہم کردار علوم الدنیا سے ہم آہنگ نہ رہ سکنا کرتا ہے یعنی نفسیاتی طور پر جب کوئی قوم (یا فرد) علوم الدنیا (یا اپنے ماحول میں آنے والی تبدیلیوں) سے ہم آہنگ نہ رہ سکے تو وہ قوم ذہنی طور پر ناتواں اور مغلوب ہو جایا کرتی ہے۔ قرون وسطٰی (middle ages) ہی نہیں بلکہ ساتویں صدی سے تیرھویں نہیں تو بارہویں صدی تک عربی زبان دنیا میں جدت کی علامت رہی؛ جو کام آج اس وکیپیڈیا پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس کام کو 1492ء کے بعد سے تمام یورپی کرنے میں جنون کی حد تک ملوث تھے اور عربی سائنسی مواد کے تراجم لاطینی و دیگر زبانوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر کئے جا رہے تھے۔ گیارھویں اور تیرھویں صدی کے زمانے میں انگلستان میں عربی زبان سیکھنے کا رجحان زوروں پر تھا[8] اور برصغیر میں بہروپیوں کی شکل میں وارد ہونے والی اور عربی سے نفسیاتی طور پر خوفزدہ اسی انگلستانی قوم سے زیادہ اس بات کو اور کون بہتر جان سکتا تھا کہ جب تک عربی اصطلاحات کا پتہ صاف نہ کیا جائے گا اس برصغیر کی قوم میں یہ احساس پیدا ہی نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جدید علوم کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی ؛ یہاں بات مذہب پر لانا مقصود نہیں لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ انگریز کو ہندی یا مغلیہ دور کی دیگر زبانوں سے پریشانی نہیں تھی کیونکہ ان میں بغداد اور اندلس جیسے کتب خانوں کی طرح علمی اور سائنسی اصطلاحات موجود نہیں تھیں اور ان زبانوں کو جب چاہے انگریزی سے بھرا جاسکتا تھا (ہندی جاننے والے آج بھی اس حقیقت کو باآسانی ہندی وکیپیڈیا پر ملاحظہ کرسکتے ہیں)۔ پس انگریز نے علمی اصطلاحات کے ذخائر سے اس نو محکوم قوم کو محروم کرنے کی خاطر فارسی کی جگہ اردو کو ترجیح دینا شروع کی، مقصد اس کا ایک ہی تھا کہ فارسی کی موجودگی میں عربی سے تعلق نہیں توڑا جاسکتا تھا لہٰذا اردو کو لاڈ پیار دیا جانے لگا۔

ڈنڈے نہیں سوٹی سے مارو!

مغلیہ دور کے اواخر سے اردو زبان درباروں میں جگہ پانے لگی تھی اور اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس زمانے کے شعراء اور ادباء نے اس میں نئی اور پر مغز اصطلاحات کا عربی اور فارسی امتزاج ڈالنا شروع کر دیا تھا اب اردو بالغ ہو چکی تھی اور اس میں ناصرف مقامی زبانوں کے میٹھے الفاظ تھے بلکہ علمی عربی و فارسی روایات بھی تھیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور مسلمان سمیت تمام قوم اس سے کسی نہ کسی قسم کا تعلق محسوس کرتی تھی[9] اور اس کی یہی وہ کیفیت تھی کہ جس سے فائدہ اٹھا کر انگریز نے فارسی اور عربی کا خاتمہ کر کے اس قوم کو جدید علوم سے ہم آہنگ ہونے سے محروم رکھا ، انگریز کے پاس اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا کہ اردو کو اہمیت دے ، اب اردو اسے ایک ایسی سوٹی نظر آ رہی تھی کہ جس سے مارا بھی جاسکے اور مار کھانے والا مرے بغیر مار بھی کھاتا رہے۔ انگریز کو بخوبی اندازہ تھا کہ فارسی اور عربی سے جدا کر دیا جائے تو اس قوم کے پاس ہندی کے سوا کچھ نہ بچے گا خواہ اس کو عربی حروف استعمال کر کے اردو کا نام دیا جاتا رہے یا کوئی اور[10] ۔ ایک بار عربی سے جان چھڑا لی جائے تو بعد میں صرف یہ کرنا ہوگا کہ ہندوؤں کو عربی رسم الخط سے بیزار کیا جائے اور بس! کام ختم! ایسا ہونے کے بعد اس قوم کے ہاتھ رہے گا کیا؟ اس کے پاس سوائے انگریزی سے چمٹ جانے کے اور انگریزی زبان کا ذہنی غلام بن جانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ بابائے اردو کہلائے جانے والے مولوی عبدالحق نے اس مکار اور عیار حکمت  عملی اور اس قوم سے دشمنی کو انگریز کے احسان کا نام دیا ہے؛ سبحان اللہ!9 ۔

وکالت یا مخالفت

قطعہ اردو کا خسارہ ، بظاہر ایسا احساس اجاگر کرتا ہے کہ یہاں اردو کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے؛ یہ قطعہ اس زبان کی بات کر رہا ہے کہ جس سے اس کی روح چھین لی گئی ہو، جس سے بے پناہ علمی الفاظ کا ذخیرہ چھین لیا گیا ہو9 جس سے اس کی شناخت چھین کر صرف نام برقرار رکھا گیا ہو۔ یہ قطعہ اردو کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس دھوکے کی مخالفت میں ہے کہ جو اردو کے نام پر جاری رکھا گیا، اردو سے عربی اور فارسی کے الفاظ نکال دیئے جائیں تو باقی جو رہ جاتا ہے وہ ہندوی ہو سکتی ہے ہندوستانی ہو سکتی ہے یا صاف الفاظ میں ہندی ہوسکتی ہے اردو ہرگز نہیں10۔ اور جب اس مستقبلیاتی بصیرت سے کام لیتے ہوئے (جسے اردو دان دانستہ یا نا دانستہ نظر انداز کرتے رہے یا اس زمانے کے مسائل سے بھرپور حالات میں سمجھ نہ سکے) انگریز نے اردو کی پشت سے عربی و فارسی کا سہارا الگ کر دیا تو عربی کی اصطلاح سازی کی خداداد صلاحیت سے محروم ہو جانے والی اس ہندوستانی )کہ جس کو عربی رسم الخط میں عرصے تک لکھ کر اردو کہا جاتا رہا) کے پاس نئی اصطلاحات کے لئے انگریزی کے سامنے دست دراز کرنے کے سواء کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

بر صغیری مسئلہ

اس قطعے کا عنوان مسلم قوم کا مسئلہ بھی رکھا جاسکتا تھا لیکن چونکہ احاطہ مقصود ہے ان تمام اقوام کا جو کہ سائنس میں یوں چکر پھیری کھا رہی ہیں کہ جیسے لٹو۔ عرصے تک محکومی و لاچاری اور اقتصادی بدحالی نے ان کا وہ حال کیا ہے کہ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا کہ سائنس کو کس طرح اپنایا جائے؟ ایک بات طے ہے کہ آپ اردو میں لاکھ لکھ لیں ، کامیابی نہیں ہوگی اگر اس میں شامل تمام الفاظ اس بر صغیری قوم کے لیئے قابل قبول نہ ہوئے کہ جو عربی رسم الخط سمجھ سکتی ہے (پنجابی ، پشتو ، سندھی اور بنگالی و حیدر آبادی وغیرہ وغیرہ)۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اردو میں تمام علمی مواد بھر دیا جائے اور پھر نہ پنجابی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ، بلوچی اپنی الگ اصطلاح سازی کرے ؟ اور اس قسم سے اصطلاحاتی ٹکڑوں میں منتشر ہونے کے بعد آپس کی سائنسی تحقیق میں کوئی مشترکہ کاوش ممکن ہوگی ؟ کیا اس سے قسم کی اردو محبت سے خود اردو کو کوئی فائدہ ہوگا جو دیگر علاقائی زبانوں کے لیئے کوئی رہنمائی نہ کرسکتی ہو؟ کیا صرف اردو بولنے والوں کی ترقی سے پورے علاقے میں ترقی کی آسکتی ہے؟

سائنسی تحقیق میں اشتراک و یکسانیت

ہندی میں آج جو مسائل ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ ان کو یہ درپیش ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر ہندی کو ایک بہت ہی بڑی زبان کے طور پر دکھانے کی جو فریب النظری دی گئی وہ آج نہ صرف ہندی زبان کی ترقی بلکہ ان تمام اقوام کو سائنسی اصطلاحات پر متفق ہونے کے قابل نہ کرسکنے کی وجہ سے کہ جن کی الگ الگ زبانوں کو تقسیم ہند پر پر فریب انداز میں ( زبردستی ملا کر ) ہندی کا نام دے دیا گیا تھا ، ان کی سائنسی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے اور ان کو انگریزی کے سوا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ جو مشترکہ عربی رسم الخط (یا الگ رسم الخط مگر عربی الفاظ) استمعال کرتے ہیں ؛ جیسے سندھی ، پنجابی ، فارسی ، پشتو ، اردو ، بلوچی ، عربی اور بنگالی وغیرہ۔ اگر ان سب میں الگ الگ سائنسی اصطلاحات بنائی جانے لگیں تو وہ حال ہوگا کہ دماغ کی دہی بن جائے! نہ وہ سائنسی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے آپس میں رابطہ کر سکیں گے اور نہ ہی سندھ کے علاقے میں کیا جانے والا کوئی سائنسی تحقیقی کام پنجاب کے علاقے والوں کے کسی کام کا ہوگا ، نہ اردو والے کی تحقیق سے بلوچی استفادہ کرسکے گا نہ پنجاب کی تحقیق سے پشتو والا کوئی استفادہ اٹھا سکے گا۔ کیا اس قسم کی محدود (ایک ہی ملک کے مختلف علاقوں میں رنگ برنگی اور ایک دوسرے سے الگ الگ) اصطلاح سازی کا واقعی کوئی فائدہ ہوگا ؟ یہ تمام کام تو ان علاقے والوں کی محنت کو کوئی مشترکہ سمت دینے کے بجائے ان کے مابین علمی اور تحقیقی روابط کو توڑنے کا باعث بنے گا۔

کیا یہ اردو سے نفرت ہے؟

اگر اصطلاحات سازی کا کام کرنا ہی ہے اور علمی مواد کو برصغیر کے ان تمام افراد تک پہنچانا ہی ہے کہ جو عربی رسم الخط پڑھ سکتے ہیں تو کیوں نہ ایسی صورت میں پہنچایا جائے کہ جس کو وہ بعد میں یکسانیت کے ساتھ اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں بخوشی منتقل کرنے پر متفق ہوں؟ اس میں کیا برائی ہے؟ کیا اردو میں پیش کیے جانے والے اس کام کو اس طرح پیش کرنے کی منصوبہ بندی کرنا کہ یہ کام اردو میں ہی نا ٹھیر جائے بلکہ پورے علاقے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں میں یہ ترقی اور تحقیق کی لہر شروع کر سکے ، اردو سے نفرت کے زمرے میں آئے گا ؟ سائنسی ترقی جس زبان میں بھی ہوئی ہے وہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان معاشروں کو رنگ برنگے زبانوں والے معاشرے سے واسطہ نہیں رہا اور ان میں لسانی یکسانیت موجود تھی جیسے جاپانی ، انگریزی ، جرمنی وغیرہ (واضح رہے کہ اس جملے سے مراد اسی زبان میں سائنسی اصطلاحات سے ہے)۔ یہاں تو ہندی کی چھتری کے نیچے رہنے والے آپس میں عام لہجوں پر ہی متفق نہیں ہو پاتے ، یہاں تو ایک عربی رسم الخط استعمال کرنے والے آپس میں ایسے الفاظ پر بھی متفق نہیں ہوتے جن پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ کیا وکیپیڈیا پر سائنسی مواد کو اردو میں لکھنے کے ساتھ ساتھ ایسی منصوبہ بندی کا خیال رکھنا کہ یہ مواد علاقے کی دیگر زبانیں بھی بلا تعصب قبول کر لیں ، اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ٹھہرایا جائے گا ؟ یہ تو اردو سے حقیقی محبت کے مترادف ہے کہ جس کے ذریعے اردو سے دیگر علاقائی زبانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

مستقبلیات اور حیثیت میں اضافہ

کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ اردو وکیپیڈیا پر اس قدر محنت کر کے علمی مواد پیش ہی کیا جائے تو ایسے پیش کیا جائے کہ اس چراغ سے چراغ جلتے جائیں اور اس قسم کا رجحان علاقائی زبانوں میں بھی پیدا ہو جائے؟ تو کیا اس کے لئے عربی رسم الخط استعمال کرنے والی زبانوں کے لئے اصطلاحات کے انتخاب کی خاطر عربی کا استعمال ممکنہ حد تک یکساں قبولیت کا زیادہ امکان نہیں رکھتا ؟ کیا ایسا کرنا اردو سے محبت نہ کرنے کے مترادف ہے ؟ اگر اتنے بڑے علاقے کے افراد کم از کم اصطلاحات کو ہی مشترکہ طور پر اختیار لیں گے تو اس سے مستقبل میں تحقیق کے اجتماعی فوائد آنے کا امکان زیادہ نہیں ؟ کیا اس طرح اردو سے بہت زیادہ ترقی یافتہ عرب زبان اور اقوام کی ترقی سے براہ راست فائدہ اٹھاتے رہنے کا امکان زیادہ نہیں ہوگا ؟ جب ہر اردو لغت عربی کے الفاظ سے بھری ہوئی ہے تو پھر ہر عربی لغت سے کوئی بھی لفظ اردو میں لکھا جاسکتا ہے اور اسے اردو ہی کہا جائے گا۔ اور جب اس قدر محنت سے اردو میں ہی علم پیش کرنا ہو تو پھر اسے ایسے پیش کیا جانا بہتر نہیں کہ اس کا فائدہ صرف اردو تک محدود نہ رہے بلکہ اردو کے انداز میں لکھی جانے والی ہر علاقائی زبان اس کو ایک غیرجانبدار اصطلاح کی حیثیت سے اختیار کرنے پر رضامند ہو ، یا کم از کم ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہو۔ کیا یہ اردو کی جانب سے دوسری زبانوں کے لیئے خدمت نہیں ہوگی ؟ کیا اس سے اردو کی حیثیت میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوگا کہ اردو میں تمام لسانی طبقات کو ترقی اور تحقیق کے لئے مشترکہ سائنسی رابطہ فراہم کرنے کی صلاحیت ہے۔

تحقیق نو کا رونا

ایک رجحان اس وکیپیڈیا پر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ جسے ہر کوئی اسی سوٹی کی مانند استعمال کرتا ہے کہ جیسے انگریز نے حاکم قوم سے حکومت چھیننے کے بعد اسی کی زبان اردو کی سوٹی سے اس کو مارا اور مار مار کر تتر بتر کیا اور یوں تتر بتر کیا کہ تتر بتر ہونے والے جھک جھک کر آج بھی تتر بتر کرنے والوں کو سلام کرتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے دانشور اور اردو دان انگریز کے اس منصوبے کو انگریز کا احسان قرار دیتے ہیں اور فورٹ ولیم کالج کی عمارت کے بوجھ سے آج بھی ان اردو دانوں کی ہڈیاں چرخ چوں کرتی رہتی ہیں۔ یہ فورٹ ولیم کالج ہی کا عظیم کارنامہ تھا کہ جس نے ہزاروں سال سے ساتھ چلی آنے والی قوموں میں (صدیوں قبل ناپید ہو جانے والی سنسکرت کو دوبارہ تخلیق کر کے) سنسکرت اور عربی رسم الخط کا نفاق پیدا کیا اور وہ کیفیت پیدا کی کہ فارسی اور عربی سے منقطع ہونے کا مسلمانوں کو احساس تک نہ ہونے دیا[11] [12]۔ بالکل ایسے ہی یہ معترضینِ تحقیقِ نو بھی کچھ ایسی ہی کیفیت پیدا کر رہے ہیں کہ تخلیقی کاموں میں رکاوٹ کے لئے ہر جگہ ناجائز طور پر اس حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ وکیپیڈیا کے بارے میں اس تحقیق نو کے ابہام کے سوا ایک اور ابہام یہ بھی دور ہونا چاہیے کہ وکیپیڈیا کا مقصد اس زبان میں لکھنا ہے کہ جس زبان میں وہ وکیپیڈیا ہو اور اگر اس زبان میں ثنائیِ لسان (diglossia) کی کیفیت پائی جاتی ہو تو پھر کیا کیا جائے گا ؟ پھر تو منطقی بات ہے کہ اس انداز کو چنا جائے گا جو کہ کتب اور لغات میں دستیاب ہے نہ کہ اس diglossia کے اس انداز کو چن لیا جائے کہ جو شرح خواندگی میں کمی کے سبب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی کثرت کے سبب ، زیادہ افراد استعمال کرتے ہوں۔ تحقیق نو کے بارے میں چند محفوظات کا خیال یہاں متعدد صفحات پر دیگر منتظمین بھی کر چکے ہیں (ایک مثال اسی صفحے کے تبادلۂ خیال پر دیکھی جاسکتی ہے)۔

تحقیق نو سے مراد اصل میں کوئی خود تحقیقی بیان یا نظریہ پیش کرنے کے ہوتے ہیں

تحقیق نو ، لغات سے نئے الفاظ لکھنے کو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کسی بھی تحریر میں ضرورت پڑے تو ظاہر ہے کہ نئے الفاظ لغات سے ہی لیئے جائیں گے

اگر کسی بیان یا نظریے کا حوالہ درج ہے تو وہ بات خواہ کسی بھی لب و لہجے میں لکھی گئی ہو تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آسکتی (جیسے یہ صفحہ)

اردو کی ہر لغت عربی اور فارسی الفاظ سے بھری ہوئی ہے اور وہ تمام الفاظ درج کرنا تحقیق نو کے زمرے میں نہیں آتا

ہر عربی اور فارسی لغت کا کوئی بھی لفظ درج کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی وضاحت اور اس کا ماخذ بھی بیان کر دیا گیا ہو اور اسے اردو لفظ ہی کہا جائے گا نہ کہ تحقیق نو کہا جائے


[1] اخبار ہندو پر حیدر علی کا تذکرہ اور عبد الکلام سے متعلق موقع پر ٹیپوسلطان کا تذکرہ

[2] عہد مغلیہ میں ہندوستانی لسانیات کا ایک بیان

[3] اردو زبان کے 900 سال قبل آغاز کا بیان

[4] ہندوستان میں سائنسی سرگرمیوں کی تاریخ

[5] Religious Controversy in British India by Kenneth W. Jones, p124, ISBN 0791408272 Google book

[6] Abu al-Hasan Yaghma Jandaqi, Kulliyat-i Yaghma Jandaqi (Tihran: Ibn Sina), p. 49; Aryanpur, Az Saba ta Nima, p. 114

[7] The Constitutionalist Language And Imaginary. Mohamad Tavakoli

[8] Is Arabic the language of science and modernity? روئے خط مضمون

[9] قواعد اردو ؛ مولوی عبد الحق : الناظر پریس واقع خیالی گنج لکھنؤ

[10] Hit it with a stick and it won't die by Christopher Lee; Syracuse university روئے خط مضمون

[11] The Jewish conspiracy is British Imperialism by Henry Makow PhD روئے خط مضمون

[12] پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ڈان میں ایک مضمون روئے خط

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

23 تبصرے

  1. زیک says:

    سائنسی ترقی جس زبان میں بھی ہوئی ہے وہاں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ان معاشروں کو رنگ برنگے زبانوں والے معاشرے سے واسطہ نہیں رہا اور ان میں لسانی یکسانیت موجود تھی جیسے جاپانی ، انگریزی ، جرمنی وغیرہ (واضح رہے کہ اس جملے سے مراد اسی زبان میں سائنسی اصطلاحات سے ہے)۔ یہاں تو ہندی کی چھتری کے نیچے رہنے والے آپس میں عام لہجوں پر ہی متفق نہیں ہو پاتے

    اگر یہ بات درست ہے تو عربی بھی کبھی ترقی نہیں کر سکتی کہ مراکش میں بولی جانے والی عربی لبنان کی عربی سے اور دونوں نجد کی عربی سے کافی مختلف ہیں.

    ایک اوربات جس پر ان منتظم پر کافی ہنسی آئ وہ یہ کہ یہ فارسی کو عربی سے پاک کرنے کا اتنا رونا رو رہے ہیں مگر ساتھ ہی اردو کو انگریزی سے پاک کرنے میں بہت جذباتی ہیں.

    اردو وکیپیڈیا کی تخلیق کردہ سائنسی اصطلاحات پر تو میں بات نہیں کرتا مگر ذرا یہ بتائیں کہ یہ ایوان عکس کیا بلا ہے اور کونسی اردو ہے؟ کیا آپ نے کبھی کسی کو یہ لفظ استعمال کرتے سنا؟

  2. بکواس!
    تقریری طوطے.
    ان منتظموں میں کتنے چھپے ہندو ہیں. یہ کسے معلوم ہے؟

  3. خاور says:

    میں ذاتی طور پر اس بحث میں پڑنا نهیں چاھتا ، کیونکه میں اس معاملے کا علم نهیں رکھتا
    لکن اپ نے یه مضمون لکھ کر اجھا کیا ہے که ذھن مين کچھ سوالات جاگے هیں
    زیگ کا تبصرھ ان کی دانائی ظاھر کرتا ہے

  4. ابوشامل صاحب آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس مکالمے کو جاری رکھا ہے اور اس سے دونوں اطراف کے لوگ کم از کم اپنا موقف بیان کرسکتے ہیں.

    ذاتی طور پر میں "سموناکیا ہے" والے پیراگراف سے کلی اختلاف رکھتا ہوں اور وہاں پیش کی گئی منطق سمجھ سے بالا تر ہے. جب کہ وکی پیڈیا پر خود انگریزی کے سائنسی اور غیر سائنسی الفاظ کی ایک طویل فہرست موجود ہے جو عربی سے اخذ کیے گئے ہیں کیونکہ اُس وقت کی سائنس اور فنون کی غالب زبان عربی ہی تھی جبکہ آج متعلقہ علوم اردو میں انگریزی کے ذریعے پہنچے گے کیونکہ اردو جاننے والے بیشتر لوگوں کی ثانوی زبان انگریزی ہے نا کہ جاپانی، فرانسیسی یا ہسپانوی اور اسکا تذکرہ آپ اپنے بلاگ میں اخبارات میں پائے گئے اغلاط میں بھی کرچکے ہیں.

    مدعا اصطلاحات کے ہونے یا ہونے سے زیادہ عام فہم ہونے کا ہے. جو بھی اصطلاحات وکی پر اپنائی جارہی ہیں وہ عام فہم نہیں ہیں اور انسکائیکللو پیڈیا کا عام فہم ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ وکی پیڈیا کسی نصابی کتاب کی شکل میں نہیں پڑھایا جائے گا کہ اول درجے سے دہم درجے تک لوگ ان اصطلاحات کو ازبر کرلیں.

    جو گزارش پہلے بھی کی گئی اور ہنوز جواب طلب ہے کہ کیا انسائیکلو پیڈیا اور اس مخصوص صورت میں وکی پیڈیا کو یہ حق ہے کہ وہ اصطلاحات سازی کرے؟ میری دانست میں انسائیکلو پیڈیا کا کام موجود علم کو اکھٹا کرنا ہے نہ کہ نئی اصطلاحات وضع کرنا جو خالصتاَ ایک دوسری برادری کی ذمہ داری ہے.

  5. اردو اور انگریزی کی اس بحث میں ایک اہم نکتہ جو آپ بھول رہے ہیں وہ چھاپے خانے کا استعمال ہے ایک وقت میں جبکہ ہندوستان میں چھاپے خانوں کی کتابوں کو استعمال کرنا بدعت سمجھا جاتا تھا. یوروپ میں انکی پذیرائ ہوئ اور علم کے مختلف ذریعوں تک عام انسانوں کی رسائ ہوئ. آپ اس زمانے میں ہونے والی علمی ترقی کا موازنہ اگر برصغیر سے کریں تو ہم شایدحالت صفر پہ کھڑے تھے. کہا جاتا ہے کہ جس وقت شاہجہاں نے اپنی چہیتی بیگم ممتاز محل کے چودہویں بچے کی پیدائش پر مرنے کے بعد اسکی یاد میں کثیر سرمایہ صرف کر کے تاج محل جیسی عمارت کھڑی کی. عین اسی وقت یوروپ میں خواتین کے لئے پیداءش کے مراحل سے بآسانی گذرنے کے لئے اسپتال تعمیر کئے جا رہے تھے. اپنی ماضی عظمت کے افیون کے نشے میں پڑے رہنے والے لوگ گئے وقت کو پکڑ کر نہیں لا سکتے. یہ بات نجانے کیوں نہیں سمجھ میں آتی کہ زبان کسی منجمد حالت کا نام نہیں.آج انگریزی بھی اس زبان سے بہت دور ہے جو اٹھارویں صدی میں بولی جاتی تھی.ہر سال اس میں سینکڑوں الفاظ کا اضافہ ہوتا ہے. اسکے لا تعداد لہجے ہیں اورایک ہی چیز کے لئے مختلف ممالک میں مختلف الفاظ ہیں. یہ زبان نہیں مر رہی. اسکا بنیادی تعلق جن زبانوں سے تھا وہ بھی اب ناپید ہو گئ ہیں. مگر یہ چلی جا رہی ہے. کیونکہ علم کا بہائو اس وقت وہاں سے ہے. آپ اپنے عظیم الشان ماضی سے اس بہائو کو الٹا نہیں کر سکتے اسکے لئے حال میں رہنے کی ضرورت ہے.
    جو لوگ سنسکرت استعمال کر رہے ہیں. وہ اپنے آپ کو محدود کر رہے ہیں.پہلے جو چیزیں میں ہندی میں ہونے کے باوجود دیکھ لیتی تھی اب نہیں دیکھتی. زبان کو عام فہم ہونا چاہئیے. محض اس لئے کہ اس نے دراصل عربی اور فارسی سے جنم لیا ہے اور اسے بس انکے ہی قریب رہنا چاہئیے ایک فریب خیال ہے. اسکی پیدائش میں ہندی سب سے زیادہ شامل تھی اس کے ذکر سے کیوں بھاگتے ہیں آپ لوگ.
    س

  6. یہاں ایک بات جو میں مزید کہنا چاہتی ہوں کہ اردو ڈکشنری بورڈ نے جو اصلاحات وضع کی ہیں انہیں کیوں نہیں اجماع کر کے استعمال کیا جاتا.اسی طرح سے اصلاحات میں مرکزیت پیدا ہو سکتی ہے.دوسری بات یہ ہے کہ ایک غلط چیز کی انتہا پسندی کا علاج دوسری انتہا پسندی نہیں ہتا. جہاں ایک طبقہ اردو کے مروجہ الفاظ استعمال کرنے سے کتراتا ہے وہاں دوسرا طبقہ ثقیل ترین اردو مترادفات کو استعمال کرنا چاہتا ہے. یعنی ایک انتہا پسندی کا توڑ دوسری انتہا پسندی. نتیجتآ کہیں جانے کے بجائے ایک جگہ کھڑے ہوئے ہیں.

  7. میں راشد کامران صاحب کے اس خیال سے اتفاق کرتی ہوں کہ اردو وکیپیڈیا کا کام علم اکٹھا کرنا ہے اصلاحات سازی نہیں.یہ جن کا کام ہے ان پر چھوڑ دیا جائے.

  8. میں نثری مضامین میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتا یعنی ادبی مضامین میں کیونکہ ظاہر سی بات ہے کہ آپ اگر اس میں دلچسپی لیں گے تو اس کے لیے کوئی سرگرمی نہ دکھائی تو کیا فائدہ اسمیں دلچسپی لینے کا . ان مضمون تھوڑا سا پڑھا تبصرہ نگاروں کے بھی چند ایک تبصرےپڑھے .
    انشاء اللہ موقع ملاتو مکمل مضمون پڑھ کر ہی تبصرہ کروں گا.

    واسلام علیکم
    عمران القادری
    "اتحاد امت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کوشش کیجئے."

  9. حمید says:

    میرا خیال ہے کہ اب ویکیپیڈیا پر حالات مختلف ہیں۔ اب یہاں بحث بازی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ہم کو عملی طور پر ویکیپیڈیا پر کام کرنا چاہیئے۔ یہ بھی بھلا کوئی بتانے کی بات ہے کہ انسائیکلوپیڈیا کا کام علم کا اجماع ہے؟! یہ تو طئے شدہ بات ہے۔ آئیے اب مل جل کر انسائیکلوپیڈیا پر علم کا اجماع کرتے ہیں ؛ اب ہمارے پاس ایسا نا کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں۔ حمید

  10. ابو شامل صاحب، اب میں ویکیپیڈیا پر موجود ہوں۔ "عمر احمد بنگش" کے نام سے۔ اس پھل کو چکھ ہی لینا چاہیے۔ آپ سے کیسے ملاقات ہو گی ویکیپیڈیا پر، تا کہ کچھ بنیادی معلومات اور وقتاً فوقتاً رہنمائی حاصل کرتا رہوں۔

    • معذرت عمر صاحب کہ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر میں گزشتہ تقریباً 10 دن سے بلاگ اور وکیپیڈيا سے غیر حاضر تھا۔ اب واپس آیا ہوں، آپ کے لیے وکیپیڈیا پر ہی ایک پیغام دیا ہے، ملاحظہ کر لیجیے گا۔ آپ کو وہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔

  11. اس حوالے سے مزید تبصرے جو اردو وکیپیڈیا کی میلنگ لسٹ میں کیے گئے ہیں۔
    ---------------------------------------------------------------------
    Urdutext:
    پچھلے دنوں کچھ احباب کی کوشش سے وکیپیڈیا بارے بحث مختلف جگہ ہوتی رہی ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے وکیپیڈیا کی اصطلاحات بارے حکمت عملی پر انگلی اُٹھائی ہے۔ ان کا تشفی جواب وکیپیڈیا پر موجود مقالہ بعنوان "اردو غیر اردو" میں دے دیا گیا ہے۔ اکثر تبصرہ نگار ایک منطقی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں، کہ اردو وکیپیڈیا سائنس اور طرزیات کے شعبوں میں مروج اصطلاحات استعمال نہیں کر رہا بلکہ نئی اصطلاحات تخلیق کر رہا ہے ۔ کسی زبان کی مروج اصطلاحات وہ ہوتی ہیں جو اس زبان میں لکھے تحقیقی مقالات میں استعمال ہوں۔ انگریزی اصطلاحات اس لیے مروج نہیں ہو جاتیں کیونکہ ہم بولتے ہوئے آدھی انگریزی، آدھی اردو، آدھی پنجابی وغیرہ بولتے ہیں، اس لیے انگریزی الفاظ اب اردو میں مروج سمجھیں جائیں۔ نہ ہی کسی لفظ کا "جنگ اخبار" میں چھپ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لفظ اب "مروج" ہو گیا ہے۔ جنگ والوں نے ایک دفعہ سرخی لگائی تھی،
    حکومت نے ...کو ڈیو ڈیلیجنس کی اجازت دے دی ...
    (یہ "due diligence" ہے۔)
    یا یہ کہ ہمارے بلاگ کو دس دوسرے "مدونہ گو" روزانہ پڑھتے ہیں، اس لیے ہماری لکھی بولی کھری تسلیم کی جاوے۔ ہم بولتے ہوئے انگریزی اصطلاحات اور فقرے اس لیے ہی استعمال کرتے ہیں کیونکہ ہم نے "اعلٰی" تعلیم اسی زبان میں حاصل کی ہے۔پہلا سوال تو یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس مغلوبہ بولی کو اردو کیوں کہا جاوئے؟؟؟ اب جب کسی شعبہ میں اردو مواد پہلے موجود ہی نہیں، تو جب کوئی پہلی دفعہ وکیپیڈیا پر لکھے گا، تو اس کو اصطلاحات بھی خود چُننی ہوں گی۔ جو زبانیں اردو سے قریب ہیں، ان کے ماخذ سے ہی اردو ایے الفاظ بنیں گے۔ یہ اصطلاح سازی نہیں، "ضرورت ایجاد کی ماں ہے" کہاوت کا مظہر ہے۔ تبصرہ نگاروں کو منطقی انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ فقرے تو کوئی بھی کَس سکتا ہے۔
    یہ رونا بھی رویا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اردو کو رواج دینے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ یہ تاثر غلط ہے۔ پاکستان ٹیلیوژن کے خبرنامہ میں اکثر اردو اصطلاحات ہی سنی جاتی تھیں، اور ان لوگوں نے ہی بہت سے اردو الفاظ کو عام کیا ہے۔ مقابلتاً نجی شعبہ میں چھپنے والے اردو اخباروں کا اردو اصطلاحات کے حوالے سے کردار شرمناک رہا ہے۔ اردو ادیبوں اور دانشوروں کی تحاریر بھی انگریزی الفاظ سے شرمناک حد تک لبریز ہیں۔ ایسے ہجومِ بدتمیزی کو کون ذی عقل سمجھانے کا خطرہ مول لے گا؟

  12. سمرقندی صاحب:
    پہلی بات تو لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل ہو رہی ہے کہ اردو میں سائنسی مضامین لکھنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی اگر ان کو انگریزی اصطلاحات کی کلمہ نویسی میں لکھ دیا جائے کیونکہ عام موضوعات پر تو چلیں عام آدمی جانتا ہے کہ کمپیوٹر کس بلا کا نام ہے لیکن جب بات آتی ہے ایسے موضوعات کی جو اردو میں سرے سے ناپید ہیں تو صورتحال عجیب ہوجاتی ہے۔ اب کوئی یہ بتائے کہ بھائی صاحب اگر ہم ایپی جنیٹکس کو ایپی جنیٹکس لکھیں گے تب بھی اور اگر بالا وراثیات لکھیں گے تب بھی ، دونوں صورتوں میں معاملہ قاری کے سر سے گذر جائے گا جب تک کہ وہ اس کے متن کو پڑھ کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرے گا کہ آخر بات کس چیز کی ہو رہی ہے؟ اور جب کوئی دلچسپی لے کر پڑھے ہی نا اور صرف یہ حکم صادر کر دے کہ اس کو بالا وراثیات کے بجائے ایپی جنیٹکس لکھو اور یہ سمجھے کہ ایسا کرنے سے یہ سمجھ میں آجائے گا تو یہ ایک دھوکہ ہے، سائنس کا کوئی بھی اعلی یا پیشہ ورانہ مضمون اس وقت تک سمجھ میں نہیں آتا جب تک اس میں مغزماری نا کی جائے۔
    اور بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے کہ رائج زبان میں لکھنے سے حصول علم میں تیزی آسکتی ہے اور اگر اردو اصطلاح سازی کی جائے گی تو حصول علم (تبدیلی معاشرہ) کی رفتار سست ہوجائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ یہاں سمجھنے کی پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ انگریزی میں لکھیں یا اردو یا فارسی میں لکھیں ، موجودہ نسل کی ضروریات میں کوئی تبدیلی آنے کا امکان ناپید ہے۔ موجودہ نسل کی مجبوری تو انگریزی ہی ہے اور یہ بات ویکیپیڈیا پر کئی بار کہی بھی گئی ہے کہ موجودہ نسل کو چاہیے کہ انگریزی میں مہارت حاصل کرے اور بہتر سے بہتر معاشی روزگار حاصل کرے اور اپنی آئندہ نسل کو بہتر طور پر تعلیمیافتہ بنائے۔ ویکیپیڈیا پر اردو لکھنے کا مقصد اور ہدف یہ ہے کہ ایک ---- ریفرینس ----- تیار کردیا جائے اردو کا جو کہ بطور حوالہ مستقبل میں کام آسکے۔
    علم کی رفتار اگر انگریزی میں پڑھنے سے تیز ہونے لگتی تو آج برصغیر کے حالات جاپان یا تائیوان جیسے ہونا چاہیے تھے! بھائی آج تک انگریزی میں ہی تو پڑھا ہے لوگوں نے! کیا ترقی ہوئی سائنس میں؟ تمام کی تمام سائنس مستعار ہے آج تک۔ تاریخی طور پر خون خرابے میں ملوث جاپانی قوم جیسی قوم کی مثال نے اس بات کی زندہ شہادت بنا دی ہے کہ اگر تعلیم اپنی زبان میں حاصل کی جائے تو اسی صورت میں اصل اور مستحکم معاشی اور سائنسی ترقی ممکن ہے۔ جب جاپان نے جنگ میں شکست کے بعد اور صنعت کاری پر توجہ کے وقت تمام الفاظ جاپانی میں بنائے تب ہی سے اس کی حالت مستعار کی سائنس لینے والی قوم سے بدل کر سائنس پیدا کرنے والی قوم کی بنی؛ آج جاپانی (یا چینی و تائیوانی) طلبہ اپنی عمر کا بہترین زمانہ انگریزی یا بدیسی زبان پر مہارت حاصل کرنے کے بجائے براہ راست اپنی زبان میں تحقیق پر صرف کرتے ہیں اور نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ خود انگریزی نے جب لاطینی سے جان چھڑا کر انگریزی میں کتب سازی کا آغاز کیا تب سے انگریزی بولنے والی اقوام میں سائنسی انقلاب آیا۔ یہ تمام باتیں سائنس کے مطالعے سے سامنے نہیں آتیں بلکہ اس کے لیۓ سائنس کی تاریخ ، اقوام کی ترقی کی تاریخ ، سائنس کی زبان اور سائنس کے لیۓ درکار لوازمات کا مطالعہ ضروری ہے۔ ان موضوعات پر پڑھے بغیر اور ان پر ہونے والی تحقیق اور ایسے تحقیقی جرائد کے مطالعے کے بغیر ، مفتی بن کر سائنسی موضوعات پر فتوے جاری کرنے کی منطق ، سمجھ سے باہر ہے۔
    والسلام ؛ سمرقندی

  13. راسخ كشميری says:

    السلام عليكم
    آپ کی تحقیقاتی اور معلوماتی تحریر پڑھ کر کافی اچھا لگا۔ فارسی کا مجھے اتنا علم نہیں لیکن اردو سے جو لوگ عربی کو نکالنے کی باتیں کرتے ہیں وہ سخت نادانی کے مرتکب ہوتے ہیں کہ حسنِ تخیل کی کثیر صورتیں عربی سے ہی اردو میں پیدا ہوئیں۔ نیز عربی کا اردو سے بہت گہر ا رشتہ ہے کہ کثیر اصطلاحات اسی سے ہی ماخوذ ہیں۔

    کوئی بھی زبان ہو میری ناقص رائے میں ہر لفظ سمو لینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ بہت سارے دیگر زبانوں کے الفاظ اردو میں لانے کے بعد آسان ہونے کے باوجود اکھڑے اکھڑے سے لگتے ہیں کہ انمیں اپنائیت کہیں نظر نہیں آتی۔ جبکہ بعض عربی الفاظ کے ساتھ بھی یہی حال ہے۔

    اصل میں فطری ذوق جو خدا تعالی نے انسان میں رکھا اور اسے ایک مخصوص زبان کے ماحول میں ڈھال دیا ہے تو وہ الفاظ جو اس زبان بولنے والوں کو غیر مناسب لگتے ہیں وہ فورا ہی رد ہوجاتے ہیں۔۔ جبکہ وہ الفاظ جنہیں ذہنی حس قبول کرتی ہے اور نطق میں بھے آسان ہوتے ہیں انہیں قبول کرلیا جاتا ہے۔

    عربی سے تھوڑا بہت تعلق ہونے کے ناطے میں کبھی بھی نہیں چاہوں گا کہ اردو سے عربی الفاظ نکال دئیے جائیں اس سے دینی امور سے کافی فاصلہ پیدا ہوگا۔ جبکہ اس زمانے میں لوگ کسی بھی شرعی مسئلے پر دلیل مانگتے ہیں تو اردو میں عربی الفاظ کی اصطلاحات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور عربی کو باقاعدہ پڑھنا چاہئے کہ دوسروں پر انحصار کرکے بندہ خود اس قابل بن جائے کہ دلیل سمجھ سکے۔ ابو شامل آپ کی تحریر پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ اور اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ فارسی پاک کرو کے تحت (خودی) کو عربی لفظ بتلایا ہے۔ خودی عربی لفظ نہیں ۔ بلکہ خودی کے لئے (الأنا) یا (انا) کا لفظ ہے۔

    راسخ کشمیری

  14. راسخ صاحب! رائے زنی کا بہت شکریہ۔ یہ مضمون میرا تحریر کردہ نہیں ہے بلکہ اردو وکیپیڈیا کے منتظمین کے اس گروہ کی رائے ہے جو اردو میں اصطلاحات سازی کے لیے عربی کی جانب دیکھتا ہے۔
    میں ان دلائل کو کتنا وزنی پاتا ہوں، اس سے قطع نظر میری نظر ان افراد کے اس وسیع کام کی جانب جاتی ہے جو انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں اردو کے لیے انجام دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو افراد انگریزی سے "فیض" حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، افسوس ہے کہ انہوں نے آج تک باتیں بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
    میری ذاتی رائے میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ بجائے گفتگو کے عملی طور پر شرکت کر کے اس سلسلے کو کچھ آگے بڑھایا جائے، اختلاف اور اتفاق رائے تو ہوتا رہے گا لیکن یہ اردو کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

  15. ناچیز کے نزدیک پہلی جماعت سے لے کر ہر سطح کی سائنس کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اردو میں پڑھی جا سکتی ہےبلکہ میرا نقطہ ء نظر یہ تو ہے کہ اہلَ پاکستان کے لیے تو سائنس پڑھی ہی اردو میں جا سکتی ہے۔انگریزی میں پڑھی ہی نہیں جا سکتی۔ اس کی ناقابلَ تردید دلیل یہ ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں سے ایم ایس سی کرنے والے عمومآ سائنس کے نصاب کو صرف دو چار فیصد تک ہی سمجھتے ہیں باقی نوے پچانوے فیصد رٹہ ہوتا ہے ۔کیا اسے پڑھنا کہتے ہیں؟ جو ممالک اپنی زبان کے ذریعے پڑھتے ہیں ان میں نوے پچانوے فیصد فہم ہوتا ہے باقی پانچ دس فیصد تک رٹہ ہوتا ہوگا۔ ذرا سوچنے کی بات ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں لوگ سائنس پر کتابیں کیوں نہیں لکھتے؟ناچیز کے نزدیک یہ لوگ لکھ ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ لکھنے کے لیے ان کے پاس تصورات کا فہم، لکھنے کا طریقہ اور زبان کا فہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ایک بحرانی کیفیت ہے جو محض انگریزی ذریعہء تعلیم کی وجہ سے ہے۔ اصطلاحات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ تمام سائنسی علوم پر پچانوے فیصد سے زائد اصطلاحات ہمارے پاس موجود ہیں ۔ باقی بھی ہم اپنی مقامی زبانوں اور دیگر زبانوں کے اشتراک سے وضع کر سکتے ہیں۔ناچیز نے ایم ایس سی الیکٹرانکس کے کچھ کورسز اردو میں پڑھائے ہیں جن سے ناچیز کے مطابق ایم ایس سی کے طالب علم کو نوے فیصد سے زیادہ فہم حاصل ہوگا ۔ تجربہ شاہد ہے۔تمام اصطلاحات ناچیز نے اردو کی ہی استعمال کی ہیں ۔ علاوہ ازیں میٹرک اور ایف ایس سی کے بھی کورسسز تیار کیے جن کے بارے میں ناچیز کا دعویٰ ہے کہ کوئی بھی شخص انگریزی نصاب کے ساتھ اور اردو بولے بغیر اس فہم کا عشرَ عشیر بھی نہیں طلباء کو دے سکتا۔ اپنی زبان میں پڑھنا ایک آفاقی اور بدیہی حقیقت ہے جس سے روگردانی کرنے والے ایڈز کے مریض کی طرح اپنی تمام تر قوتَ مداوفعت کھو بیٹھتے ہیں اور تحقیق و تخلیق کے تمام سوتے ان کے لیے خشک ہو جاتے ہیں۔

  16. اصطلاحات سازی کا کام تو ہنگامی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ ناچیز کے نزدیک اس دور کی یہ سب سے بڑی ضرورت ہے۔وہ لوگ جو انگریزی اصطلاحات کے ہی استعمال کے حامی ہیں دراصل وہ ذخیرہ ئ الفاظ کی کمی کے باعث بات سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اپنی زبان کی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے اصطلاح کے سنتے یا پڑھتے ہی اس کی پوری تعریف کسی نہ کسی حد تک ذہن میں آ جاتی ہے اور ذہن نشیں کرتے ہوئے رٹہ نہیں لگانا پڑتا۔دوسری زبان کی جب پانچ دس اصطلاحات اکٹھے یاد کرنا پڑیں تو رٹہ بہادر درمیان میں فورآ گھس آتے ہیں۔اصطلاحات سازی دراصل علوم و فنون کی زود فہمی کے لیے ہوتی ہیں۔سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ الفاظ و فقرات میں اپنی مٹی اور تہذیب و ثقافت کی خوشبو نہ ہو تو بات پھیکی پھیکی سی رہتی ہے اور دلچسپی سے عاری رہتی ہے۔جو قومیں یہ کام کرتی ہیں اور ان اصطلاحات کو عملآ نصاب اور تدریس کا حصہ بناتی ہیں ان میں علوم و فنون کے فہم کے سارے راستے کھل جاتے۔ دوبارہ گذارش کی معذرت

  17. میرا ایک چھوٹا سا سوال اردو وکی پیڈیا کے ذمہ داران سے یہ ہے کہ :
    ان کے کاز اور ان کی اصطلاحات سازی کے رحجان کو کس معروف اردو ادبی ادارے یا کن معروف ادیب و شعراء و محقق / نقاد / ماہرینِ لسانیات کی حمایت حاصل ہے؟؟
    یا پھر یہ ذمہ داران ، اردو کے میدانِ ادب و تحقیق میں اپنی استنادی حیثیت کو کچھ اجاگر کرنا پسند فرمائیں گے ؟

    • حیدر آبادی صاحب! آپ یہ بتا دیجیے کہ اردو کے کتنے معروف ادیب، شعراء، نقاد اور ماہرین لسانیات انٹرنیٹ کی دنیا میں فعال ہیں؟ البتہ آپ کا یہ سوال جائز ہے کہ دنیائے اردو میں اپنی حیثیت واضح کرنا ضروری ہے۔
      اگر ممکن ہوا تو منتظمین سے اس سوال کا جواب لوں گا۔

  18. ناچیز ایک معلم ہے اور عرصہ بیس سال سے طبعیات کا مضمون پڑھا رہا ہے ۔دورَ طالب علمی سے دورَ معلمی تک کا مشاہدہ اور تجربہ گواہ ہے کہ طالب علم کو فہم اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ماحول میں بولے جانے والے الفاظ و فقرات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔جو الفاظ بطورَ اصطلاح ذرا ثقیل نظر آتے ہیں ان کو ان کا منبع اور ماخذ تلاش کرکے اور اردو ادب و شاعری وغیرہ میں استعمال ڈھونڈھ کر آسان اور قابلَ فہم بنایا جا سکتا ہے۔ مثلآ انشقاق (فشن) کو آسان بنانے کے لیے قرآنَ پاک کی سورہ انشقاق کا حوالہ دیا جائے اور اس کے علاوہ کلیجہ شق ہونے والے محاورے کا استعمال کر کے دکھایا جائے۔ اسے کسی شعر میں استعمال کر کے دکھایا جائے تو مفہوم سمجھنے میں اور دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے سبق کو ماحول کے ساتھ مربوط کرنا بھی کہتے ہیں۔ قرآنَ پاک کے بے شمار الفاظ ایسے ہیں جو ہم بطورَ سائنسی اصظلاحات کے استعمال کرتے ہیں۔اگر ان الفاظ کو سیاق و سباق کے ساتھ فہمِ سائنس کے لیے استعمال کیا جائے تو لکھنے، پڑھنے، سمجھنے اور سمجھانے میں خاصی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ سائنس کا موجودہ بحران اس طرز پر نصاب نہ تیار کرنے اور اسے طریقہء تدریس میں نہ استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ انگریزی کا ایک لفظ ماڈولیشن ہے ۔ ناچیز نے اس کا ترجمہ کمبیشی کیا ہے جو کہ (کمی+بیشی ) سے ماخوذ ہے جس طرح انگریزی لفظ ٹراسسٹر (ٹرانسفر+رزسسٹر) سے بنایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا متبادل تلحین ہے جو معروف لفظ لحن سے ہے جیسے لحنِ داؤدی ، خوش الحان وغیرہ ۔ اس انداز سے غیر معروف اصطلاحات معروف اور قابلِ فہم بن جاتی ہیں۔انگریزی کی اصطلاحات کا منبع اور ماخذ اپنی زبان و تہذیب سے تلاش نہیں کیا جا سکتا۔انہیں مذکورہ مثالوں کے ذریعے معروف نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لیے براہِ راست انگریزی کو ذریعہٗ تعلیم بنا کر سائنس پڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ رٹہ، ٹیوشن بزنس وغیرہ کی لعنتیں اسی لیے ہمارے معاشرے میں عود کر آئی ہیں۔ یہ بیماریاں اس وقت تک دور نہیں ہو سکتیں جب تک علوم و فنون اور اصطلاحات کو اپنی تہذیب و ثقافت کی زبان کے سانچے میں نہیں ڈھالا جاتا۔ شکریہ

  19. جس طرح اسلام کی اخلاقی اور تہذیبی ہدایات ہیں کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھایا جائے، کوئی چیز تقسیم کرنا مقصود ہو تو دائیں طرف سے شروع کیا جائے۔ بالکل یہی تہذیب ہمارے رسم الخط میں ہے کہ مسلمانوں کی اکثریتی زبانیں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں ۔ اسی طرح ایک دوسرے سے جڑنے، اتفاق اور اتحاد کا جو پیغام اسلام دیتا ہے وہی پیغام ہمارے رسم الخط میں ہے کہ ہم حروف کو جوڑ کر الفاظ بناتے ہیں جو کہ ہماری اسلامی تعلیم سے مطابقت اور ہم آہنگی کا ایک بین ثبوت ہے۔گو کہ کچھ اور بھی زبانیں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں مگر اسلام کا مجموعی مزاج ہمارے رسم الخط اور لکھنے کے انداز میں موجود ہے ۔ جب ہم اس اجتماعییت آمیز مزاج کو نصاب ، تدریس، کاروبار الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں لائیں گے تو ایک قوم بھی بن جائیں گے اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی انتہائی سرعت کے ساتھ ترقی کریں گے۔
    ہمارے ماہرین کو بہت گہرائی کا سوچنا ہے۔ افسوس کہ سطحی سوچ کے حامل افراد اس ملک کی زمامَ کار کو تھامے ہوئے ہیں اور پوری قوم کو ہی سطحی سوچ کا حامل بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت چاہے ساتھ دے یا نہ دے چند مخلصین اور محبَ وطن لوگوں کو مل کر اس کام کا آغاز کر دینا چاہیے۔ انشاء اللہ حقیقی سوچ سطحی سوچ پر ضرور غالب آئے گی ۔
    بلا شبہ اصطلاحات کی ایجاد سب سے مشکل کام ہے لیکن یہی مشکل کا ہمیں کرنا ہے ۔ اس کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ایک اصطلاح کی ایجاد ایک سائنسی آلے کی ایجاد کے برابر ہے۔نئے الفاظ تراشنا ہر محقق کے نزدیک تحقیقی اور تخلیقی کام ہے مگر کسی دوسری زبان کے تیار شدہ الفاظ کو استعمال کرنا دوسروں کے سہارے جینے کے مترادف ہے ۔پہلے الفاظ ایجاد ہوتے ہیں پھر آلات کی ایجا

  20. رٹہ، ٹیوشن بزنس اور تعلیمی پالیسیاں
    تحریر۔ اشتیاق احمد سینئر ماہرِ مضمون طبعیات گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول ٹبہ سلطان پور ضلع وہاڑی پنجاب پاکستان فون ۰۳۰۱۷۵۷۶۸۱۵
    رٹہ در اصل نفسِ مضمون کے فہم نہ حاصل ہونے پر لگایا جاتا ہے۔ جس عبارت کے الفاظ ، فقرے اور ان میں چھپے ہوئے تصورات سمجھ نہ آئیں تو انہیں ذہن نشیں کرنے کے لیے طالب علم رٹے کے عذاب سے گذرنا پڑتا ہے۔یاد رہے کہ رٹے کے ذریعے کوئی چیز محض وقتی طور پر ہی ذہن نشیں ہوتی ہے۔ چند گھنٹے گذرنے کے بعد رٹے کے ذریعے یاد کی ہوئی چیز انسان کی یاد داشت سے محو ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ رٹہ طالب علم میں تعلیم سے بیزاری پیدا کرتا ہے۔ رٹہ لگاتے ہوئے انسان کے اعصاب تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کیفیت سے رٹے باز کو بار بار گذرنا پڑتا ہے کیونکہ رٹہ لگائی گئی چیز کو زیادہ دیر تک ذہن نشیں کرنے کے لیے بار بار اس اعصاب شکن مرحلے سے واسطہ پڑتا ہے۔مسلسل ذہنی تناؤ رٹے باز کو جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور کر دیتا ہے۔ مزاج میں چڑ چڑا پن پیدا ہوتا ہے جو اس کی شخصیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔جس طرح بیماریوں کو ان کی علامات کے ذریعے پہچانا جا سکتا ہے اسی طرح رٹے کی بیماری کی بھی مختلف علامات، وجوہات اور محرکات ہیں جن سے ہم اپنے معاشرے، تعلیمی ادارے اور گھر کی حالت کا درست نقشہ دیکھ سکتے ہیں۔رٹے کی ہمارے ماحول میں بڑی واضح بلکہ اظہر من الشمس متعدد مثالیں بکھری پڑی ہیں۔مثلاً گلی محلوں میں کھمبیوں کی طرح اگنے والی اکیڈمیاں اور ٹیوشن سنٹرز ر ٹے بازی اور مضامین کے عدم فہم کی منہ بولتی تصاویر پیش کرتے ہیں۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ کوئی فیشن نہیں بلکہ ضرورت ہے جو تعلیمی ادارے میں استاد کے پڑھانے کے باوجود شدّت سے محسوس کی جاتی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیوشن پڑھ کر بھی یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ذرا سوچنے کی بات ہے کہ یہ وباء امریکہ ، برطانیہ، چین، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کیوں نہیں ہے؟ ہم ہی اس مہلک اور تباہ کن مرض کا کیوں شکار ہیں؟ اگر سطحی ذہن کے ساتھ بات کی جائے تو فوراً استاد کی شخصیت ہدفِ تنقید بنتی ہے۔ کئی لوگ جھٹ سے استاد کو موردِ الزام ٹھہرا کر اصل حقیقت سے پہلوتہی کر جاتے ہیں۔ایسا کرنے والے بیشتر افراد سطحی اور عامیانہ طرزِ فکر کے مالک ہوتے ہیں۔ کسی بھی بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اس کے اسباب و عوامل کا درست تجزیہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آئیے اس بیماری کی جڑیں تلاش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اصل اسباب و عوامل کیا ہیں جن کی وجہ سے پوری قوم کو رٹے کی اعصاب شکن چکی میں پسنا پڑ رہا ہے۔ تجزیہ ایک سوال سے شروع کرتے ہیں کہ رٹہ کن مضامین میں زیادہ لگایا جاتا ہے؟ اس کا جواب بھی روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم میں رٹہ بحثیتِ مضمون اور وہ مضامین جو انگریزی میں پڑھائے جاتے ہیں، ان میں بطورِ خاص لگایا جاتا ہے۔ پہلی جماعت سے ایم اے ایم ایس سی تک طلباء و طالبات کے امتحانی نتائج کا جائزہ لے لیجئے۔ ہر سطح پر سب سے زیادہ فیل ہونے والوں کی تعداد انگریزی میں ہوتی ہے۔اس کے مقابلے میں اردو میں طلباء و طالبات کم و بیش اٹھانوے فیصد تک پاس ہو جاتے ہیں۔ اردو میں ٹیوشن پڑھنے والے طلباء و طالبات خال خال ہی آپ کو ملیں گے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ عربی اور فارسی جیسے مضامین میں بھی طلباء و طالبات اسی تناسب سے کامیاب ہوتے ہیں اور بڑے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں۔ یہاں پر اس سوال کا جواب بڑی آسانی سے مل جاتا ہےکہ ٹیوشن اس لیے پڑھنا پڑتی ہے یا رٹہ اس لیے لگایا جاتا ہے کہ ہمارا ذریعہ تعلیم ہماری اپنی قومی زبان کے بجائے انگریزی میں ہے۔اردو کا مضمون کلاس میں سمجھ آ جاتا ہے، اسلامیات کا مضمون طلباء و طالبات کو خو بخود سمجھ آ جاتا ہے اور وہ مضامین جو اردو میں پڑھائے جاتے ہیں ان کی بھی کمرہء جماعت میں سمجھ آ جاتی ہے اور رٹے اور ٹیوشن کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اساتذہ دونوں ہی ذریعہء تعلیم کے ساتھ پڑھاتے ہیں مگر انگریزی ذریعہء تعلیم رکھنے والے مضامین فہمِ مضمون کے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ان میں زیادہ محنت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ذرا دماغ پر زور دے کر گہری نظر سے مسئلے کی سنگینی کا جائزہ لیجئے۔ اگر امریکہ میں پہلی جماعت سے اردو، عربی ، یا کوئی غیر ملکی زبان لازمی قرار دے دی جاتی تو وہاں بھی ٹیوشن بزنس، رٹے بازی اور دیگر امراض ہماری طرح پیدا ہو جاتیں مگر انہوں نے سب سے پہلا کام ہی یہی کیا کہ ہر سطح کے تمام مضامین کے نصابات اپنی ہی زبان میں وضع کیے اورانہیں اپنے تمام تر تعلیمی اداروں میں نافذالعمل کیا ۔ اس وقت امریلہ، برطانیہ، جاپان، چین، فرانس، روس الغرض دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کسی طبقاتی تفریق کے بغیر ہر تعلیمی ادارے میں یکساں نظامِ تعلیم رائج ہے۔ اشرافیہ، جرنیلیہ، متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک جیسا ہی ذریعہء تعلیم ہے۔ تمام طبقات کے لیے یکساں نظامِ تعلیم ہے جس کا مرکز و محور ان ممالک کی اپنی قومیں زبانیں ہیں۔ اس لیے وہاں ٹیوشن بزنس ، رٹے بازی اور دیگر تعلیمی لعنتیں موجود نہیں ہیں۔ وہاں کے طلباء و طالبات آسانی سے اور فطری طریقوں سے مضامین کا فہم حاصل کرتے ہیں۔ کوئی منہ ٹیڑھا کر کے کسی دوسرے ملک کی زبان بولتا ہوا نظر نہیں آتا۔ کلاس روم سے پارلیمنٹ تک کے تمام امور ان کی اپنی قومیں زبانوں میں نمٹائے جاتے ہیں۔اس کے بر عکس ہمارے ہاں وہ شخص زبردستی پڑھا لکھا منوا لیتا ہے جو چند الفاظ انگریزی کے بول کر دوسروں کو متاثٖر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    دراصل رٹے بازی اور ٹیوشن بزنس ہمارے فطرت گریز نظامِ تعلیم کی دین ہے۔ جس طرح کوئی شخص اگر غیر فطری طریقوں کے مطابق زندگی گذارتا ہے تو بیمار پڑ جاتا ہے۔ خراب آب و ہوا، آلودہ پانی، غیر متوازن خوراک کھاتا ہے اور اپنی خواہشات کو غیر فطری طریقوں سے پورا کرتا ہے تو یقیناً اس کے فطرت گریز طرزِ زندگی کے منفی اثرات اسے طرح طرح کی بیماریوں کا شکار کر دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ہمارے غیر متوازن، غیر ہموار اور غیر فطری نظامِ تعلیم کے حاصلات میں سے سب سے بڑا حاصل رٹہ اور ٹیوشن بزنس ہے جس نے پورے ملک کے نظامِ تعلیم سے علوم و فنون کا فہم سلب کر رکھا ہے۔ طلباء و طالبات کمرہء جماعت میں ملنے والی خوشی اور اطمینان سے تہی دامن ہیں۔ وہ خوشی جو مضامین کے فہم سے حاصل ہوتی ہے وہ ہمارے دل و دماغ پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ ہمارے انگریزی ذریعہء تعلیم نے پوری قوم سے یہ خوشی چھین رکھی ہےاور اسے بحثیتِ قوم ذہنی کرب اور خلیاتی تناؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ خوشی اور راحت رٹے بازی کی لاحاصل محنت، جاں گسل مشقّت اور اعصاب شکن تھکاوٹ میں کہیں کھو جاتی ہے اور ملک و قوم کا بہت بڑا سرمایہ ٹیوشن کی نذر ہو جاتا ہے۔غریب آدمی کو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے اپنے پیٹ میں گرہ دینا پڑتی ہے۔ چپڑی روٹی کی جگہ سوکھی روٹی نگلنا پڑتی ہے۔ اپنی روزمرّہ کی ضروریات کو اپنے بچوں کی تعلیمی ضروریات پر قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنی بیماری کا علاج کروانے کی بجائے اپنے بچوں کو ٹیوشن سنٹر یا اکیڈمی بھیجنا پڑتا ہے۔ راقم الحروف ایسے متعدد طلباء کو جانتا ہے جن کی مائیں چند متموّل لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں، محنت مزدوری اور برتن مانجھنے پر جو پیسے ملتے ہیں وہ اپنے بچوں کو ٹیوشن کے لیے دے دیتی ہیں۔ایک ہزار روپیہ فی ماہ غریبوں میں تقسیم کر کے ان کو مستقل بھکاری بننے کی تربیت فراہم کرنے والے حکمران ان کے حصولِ تعلیم میں آسانی پیدا کرنے کی تراکیب نہیں سوچتے بلکہ ان کے مصائب کو مزید بڑھانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔
    عجیب بات ہے کہ ہر سال مختلف وفود ملک و قوم کا کثیر سرمایہ خرچ کر کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کے نظامِ تعلیم کا جائزہ لینے کے لیے بیرونِ ملک بھیجے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ بھی تو مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ تعلیم کی صورتِ حال دن بدن دگرگوں ہوتی چلی جاتی ہے۔ در حقیقت یہ تمام دورے شرکائے دورہ جات کو ذہنی غسل (brain wash) کے لیے کروائے جاتے ہیں تاکہ سامراجی مقاصد پورا کرنے کے لیے بہت سے لوگ ان کو میسّر آ سکیں جو سامراجی وظیفہ خواری کے عوض ملک کے نظامِ تعلیم کو مزید انارکی کا شکار کر سکیں۔ضرورت اب اس امر کی ہے کہ تمام تر بیرونی امداد، قرضے اور بیساکھیوں کو خیر باد کہ کر خالصتاً اپنے وسائل بروئے کار لا کر ہمیں تعلیم و تحقیق کی پالیسیاں وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے تعلیمی نظام کو تعلیم و تدریس کے فطری اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور نسلِ نو کے لیے قابلِ فہم بنایا جا سکے۔ پہلی جماعت سے ایم ایس سی تک فقط رٹہ ہی لگایا جاتا ہے۔ اتنا بڑا تعلیمی بحران ہے جو وطنِ عزیز کو درپیش ہے مگر عالمِ بے حسی ہے کہ اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔ اس بے حسی اور لاچارگی کے ماحول میں مستقبل کا تعلیمی منظر نامہ بڑا ہی بھیانک ہے اور اپنے نتائج کے اعتبار سے اتنا خطرناک ہے کہ ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگ رہی ہے۔ اگر اس نظامِ تعلیم کی جڑوں کو لگے ہوئے دیمک کا اب بھی درست علاج نہ کیا گیا تو فطرت ہمیں نشانِ عبرت بنائے بغیر نہیں چھوڑے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور اسے ایسے حکمران عطا کرے جو ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہوں اور اس کے مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر مقدّم رکھتے ہوں۔
    جاتے جاتے آپ کی توجہ کے لیے عرض ہے کہ امسال بی۔اے، بی ایس سی کے امتحان میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے ۳۷۰۰۰ طلباء و طالبات نے شرکت کی جن میں سے ۲۴۰۰۰ فیل ہوئے اور کم و بیش سب ہی انگریزی میں فیل ہوئے۔ بات چمکتے ہوئے سورج کی طرح واضح ہے کہ ہماری تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریزی کی لازمی حیثیت ہے۔ اگر اسے اختیاری کر دیا جائے تو قوم بہت جلد پڑھ لکھ جائے اور کثیر سرمایہ جو فقط ایک مضمون کھائے جا رہا ہے وہ ملک کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں غربت کا سب سے بڑا سبب اس کا غلط بنیادوں پر قائم نظامِ تعلیم ہے۔ اساتذہ، طلباء اور دوسروں شعبوں کے افراد کو مل کر انگریزی کی لازمی حیثیت کا دائرہ پھیلنے سے روکنا چاہیے اور اس کی جگہ قومی زبان کے احیاء اور فروغ کے لیے جہادی روح کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *